دیبائے حیات از پرو فیسر ز والفقار احمد ساحر

76

تبصرہ : پرو فیسر خالد اکبر
دیبائے حیات پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر کی خود نوشت آپ بیتی ہے۔ ذوالفقار احمد اردو علم و ادب کے معروف پروفیسر اور ایک علمی و ادبی شخصیت ہیں جن کا قلم و قرطاس کے ساتھ والہانہ تعلق محتاج بیاں نہیں۔ ذولفقار ساحر اور میرا ننھیال مشترک ہے یوں وہ رشتہ میں میرے کزن ہیں۔ان کے نانا مشرقی پاکستان اور نانی مغر بی پاکستان سے ہوئی۔امی کی ولادت اور پرورش کلکتہ میں ہو ئی۔ ان کی جنیات میں یہی تنوع شاہد ان کی شخصیت میں ایک وکھرہ پن اور طبع زادگی کی صورت رنگ بکھیر تا نظرآتا ہے۔ ان کی کتاب دیبائے حیات ایسے کئی رنگوں کا امتراج ہے۔ذوالفقار کی شخصیت جس قدر نفیس نکھری ہوئی،صاف و شفاف، شگفتہ اور رومانوی جہتوں کی حامل ہے۔اسی طرح دیبائے حیات بھی اس کا بڑی حد تک پرتو اور اظہار ہے۔
دیبائے حیات کل اکیس ابواب پر مشتمل ہے۔جس میں مصنف کے اپنے خاندانی پس منظر، بچپن اور ابتدائی، تعلیم، گاؤں سے شہر پھر گاؤں، لڑکپن کا زمانہ، کالج کی زندگی،جیسے ابواب شامل ہیں جو ان کی کھٹن حیات کا احوال ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ عملی زندگی کی دیلیز،خیابان ادب پر خرام اندازی، بارہ دروازوں کا شہر سری نگر کا حاشیہ مظفرآبا،د راولاکوٹ میں قیام اور ڈگری کالج میں تدریس،2005کا زلزلہ،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں بطور ریسریچ سکالر، اور پیرو مرشد جسے ابواب ہیں جو عملی زندگی کے کئی رنگ اپنے اندر سموئے ہوئے،پڑھنے والوں کے لیے سبق آموز اور تحریک کا باعث ہیں۔ کتاب کے آخری حصہ میں خشت و گل کی فکر، زندگی کے سنگ ہائے گراں، میرے ساغر سے جھجکتے ہیں مئے آشام ابھی،دام ہر موج میں ہے حلقہ صد گام،نہنگ سر افنگدم ایسے اوق اورطلسماتی استعارات سے گوندھے ہوئے ابواب پڑھنے والے اور خاصے کی چیزہیں۔ ان میں زاتی زندگی کے اہم نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ معروضی حالات واقعات کا احوال اور بیان ملتے ہیں۔

زیر نظر کتاب کو پڑھنے کے بعد جو نمایاں تاثر ابھرتا ہے وہ مصنف کا زبان بیان پر بھرپور عبور اور ان کی قادر الکلامی ہے۔ محاکات نگاری ان کے اسلوب کا نمایاں پہلو ہے ۔تاثرات اور خیالات کو الفاظ کی تسبیح میں پُروکر ایسی تصور کھنچتے ہیں کہ قاری کے دل و دماغ پر گہرا تاثر مر تسم ہوتا ہے۔اور دل عش عش کراٹھتا ہے۔ ایک جگہ صحرا نوروی کے دوران منظر کو یوں بیان کرتے ہیں : آسمان کے گھیرے بادلوں میں سے بارویں کا چاند جھانک رہا تھا۔ اس کی رو پہلی کرنوں میں بھیگی ہوئی سڑک دکھائی دے رہی تھی۔جس کو تھوڑی دیر قبل ہلکی سی پھوارنے غسل دیا تھا۔چاند کی چاندنی میں اس کا ملگجا سا وجود جو چڑھوں کے گھنے درختوں میں گھرا ہوا تھا،ایک نا قابل بیان حسن کا حامل تھا۔یہ سڑک دو سو گز دھند لاٹ میں سیدھی چلی گئی تھی تا آنکہ ایک ہلکا سا موڑ مڑ کر ایک چھوٹی سی پلیا میں مدغم و پیوست ہو گئی تھی۔کتاب ہذا میں خاکہ نگاری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں۔ ایک جگہ کسی مجمسمہ کی تصویر کشی میں تخیل کی پرواز سے ایسا رو مانوی منظر باندھتے ہیں جو دل کو چھو لیتا ہے : یہ ایک لڑکی کا مجسمہ تھا جو سرخ لباس میں ملبوس تھی، اُس کے ہاتھ سینے پر باندھے تھے اور کلا ئیاں سڈول اور ننگی تھیں۔گنے سنہرے بال کٹے ہوئے اور شانوں تک تھے۔انتہائی مناسب اجزاء بیصوی چہرہ ،ناک پیشانی کے سنگم سے تھو ڑی سی بلند اور ستواں۔

زیر تبصرہ کتاب میں زباں و بیان کا استعمال بہت اعلی اور با کمال ہے۔ ایک جگہ رقم طراز ہیں : انسان کو زلزلہ کا ایک جھٹکا، سیلاب کا ایک ریلا، برق آسمانی کا ایک کو مذا ، آندھی کا ایک بگو لہ، وبا کا ایک جھونکا اندھیر را ہوں میں پہنچا دیتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ ان کاپیرائیہ اظہار، رواں دواں، سہل انداز بیاں بوجھل محسوس ہوتا ہے نہ ہی عامیا نہ۔ان کی یہی فنی خوبیاں انھیں عمدہ ادیب کے اعلی مقام پر متمکن کرنے کے لیے اہم کوائف اور حوالے ہیں۔یہ خود نوشت موانح حیات اپنے دور کی بدلتی ہوئی تہذیبی اور معاشرتی اقدار کی تاریخ بھی ہے۔ایک عہد اورنسل کی کھتا ہے جو ہنو ز باضابطہ طور رقم نہیں ہوئی۔ مختلف ابواب میں بٹی ہوئی یہ متنوع تحریر یں ادب شناسی اور ادب عالیہ سے گہرے تعلق کی عکاس ہیں،او ر علم و ادب سے تعلق رکھنے والے عام قاری کے لیے بھی تحریک آمیز ہیں۔۔کہ ادب کے بحر بیکراں میں غو ط زن ہوئے بغیر علم کے موتیوں تک رسائی ممکن نہیں ہے۔

لاریب،پروفیسر ساحر کا علم و ادب کے ساتھ والہانہ تعلق و وارفتگی اظہر من التمش ہے۔ اور اس کا مکر ر اظہار ان کے اس کتاب کے ایک ایک لفظ سے بھی عیاں ہے۔ علامہ اقبال، مرزا غالب، ابو الکلام آزاد ، ٹا لسٹائی،قراۃالعین حیدر اور دیگر شہرہ آفاق ادباء ان کے دل پسند ہیں تو وہاں سر اور سنگیت، فلم و ڈرامہ سے ان کاگہرا تعلق علم و ادب کے گوشوں میں بسیار افزودگی کا عکاس بھی ہے۔بین الا سطور اس خو د نوشت کے اندر علم و ادب کے متلاشیوں کے لیے بہت اہم اسباق پہناں ہیں۔ بقول معروف سفر نگار جاوید خان :یہ کتاب پڑھتے ہوئے زہین تعمیری عمل کی طرف گا مزان ہوتا ہے اور مسائل سے عمدگی سے مقابلہ کرنا سکھاتا ہے ۔کسی بھی اعلی ادبی فن پارہ کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ پڑھنے والا مصنف کے احساسات اور خیالات کے ساتھ بہتا چلا جائے، یا اپنے اندرکوئی حرکت یا تبد یلی محسوس کرے۔ میں ذاتی طور پر ذ والفقار کی شخصیت کو اپنے لیے رول ماڈل سمجھتا ہوں۔لکھنے پڑھنے کی طرف میری واجبی سی دلچسبی ان کی نیاز مندی کے طفیل ہوئی۔ٹالسٹائی کا وار ایند پیس،
صوفی کی دنیا, جینز آئر سمیت درجنوں کتب ان کی تحریک اور ترغیب پر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔

ذوالفقار احمد کی زندگی جس طرح مرتب,متنا سب, شفاف، نکھری ہوئی، سلیقہ مندی،با قا عدگی اور ہنر سے مزین ہے اسی طرح ان کی تحر یر یں بھی ان کی شخصیت کا ہو بہو پر تو ہیں۔آپ بتیاں عموما خود ستائشی,غلو اور لاف زنی سے لبریز ہوتی ہیں اور عمو ما عیوب کو چھپایا جاتا ہے۔ مگر اس خود نوشت میں صاحب کتا ب نے اپنی ان کوتائیوں،کنج فیصلوں اور عوارص کو بڑی فر ا غدلی سے ضبطہ تحریر میں لایا ہے جو دوسروں کے لیے سبق آمو ز اور با معنی ہوں۔ پروفیسر ذوالفقار نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز سے جڑے ہزار ہا واقعات میں سے صرف ان کو رقم کیا جو معا نی آ فر ین اور سبق اموزہیں۔ یہی خوبی اس آپ بیتی کو توازن اور تناسب دیتی ہے۔کشمیر کے اردو ادب کے سرمایہ میں یہ آپ بیتی ایک اہم اضافہ ہے۔زو الفقار ایسے لوگ کسی بھی معاشرہ کا نگینہ ہوتے ہیں۔اللہ ان کو صحت اور درازی عمر عطا کرے ۔اتنی عمدہ کتاب لکھنے پر ہماری طرف سے ڈھیروں مبارک!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں