آرپار،مقصودمنتظر
ابیحہ تم پیدا ہی کیوں ہوئی تھی اگر جنم لینا ہی تھاتو اس جہنم زار کشمیر کی دھرتی پر کیوں آنکھ کھولی؟مر گئی نا اب. تم نے مرنا ہی تو تھااٹھ گیا نا تیرا معصوم جنازہ، لپٹ گیا نا کفن میں،بم سے چھلنی تیرا ننھا جسم ،سوگئی نا تیری ادھ کھلی آنکھیں. ہو گئی نا ختم تیری دو برس کی دنیا.رو رہی ہے اب تیری اماں. غمزہ ہے تیرا بابا. ماتم کناں ہے چشم فلک. سوگوار ہے سارا سماں.کیوں جرم کیا ہے؟ ابیحہ کیوں؟؟؟
دیکھونیلم کی ننھی ہری ابیحہ قصور تیرا تھا . تیرے والدین کا..تم پیدا نہ ہوتی تو آج کشمیر کی زمین میں بوئی گئی کلسٹر بموں کی فصل نہ کٹتی. کھلونا بم نہ پھٹتا.وہ کھلونا دیگر کھلونوں کی طرح پڑا رہتا. شاید سڑ جاتا یا پانی کا ایک اور ریلا اسے کہیں اور لے جاتا.
ابیحہ تو یہ نہیں جانتی تھی کہ تم سے پہلے ہزاروں بچے کشمیر میں پیدا ہونے کی سزا بھگت چکے ہیں . تیری طرح سینکڑوں بچےکشمیریوں کو ابدی نیند سلانے والے ان کھلونوں سے کھیلتے کھیلتے مرگئے. کوئی یوں یتیم ہوا کہ اس کا باب گاس کاٹتے ہوئے مائن پر پاؤں لگنے سے ہلاک ہوا.
کسی کے سر سے سایہ اس وجہ سے اٹھا کہ اس کے والد نے دو قدم آگے جانے کی غلطی کی اور بدلے میں گولی نے اس کا سینہ چیر دیا.ابیحہ کاش تو نے گھر سے بہک جاتے ہوئے اماں ابا سے طوطلی زبان میں یہ کہا ہوتا میرے بابامجھے مقتل کیوں لے کے جارہے ہو؟ میں نے نہیں جانا. میں گھر میں بوڑھی دادی کے پاس ہی رہوں گی. کاش کہ تیرے منہ میں زبان ہوتی. شاید کھلونا بم کو پھٹنے کی زحمت نہ اٹھانا پڑتی اور تیرا معصوم تن بدن خون میں یوں نہ تیرتا.
لیکن ابیحہ تم گھر میں رک بھی جاتی.تو کیا پتہ اوپر سے کوئی گولہ مکان پر آکر گر جاتا. ارے تجھےابھی اس وحشت کا اندازہ ہی کہاں تھا؟ تیرا بابا جانتا ہے کہ جب کسی کے گھر پر گولہ گرتا ہے تو کس طرح مکینوں کے ساتھ مکان کے بھی چھیتڑے اڑ جاتے ہیں. کتنے لوگوں نے یہ منظر دیکھا ہےاور پھر کسی نے باپ کی چھلنی لاش اٹھائی. کس نے بیٹے کے جنازے کو کندھا دیا. کتنی مائیں اور کتنی بیٹیاں زمین کی سپرد ہوئیں. اس خوفناک جارحیت میں تمہاری طرح بے شمار ننھی کلیاں اور ادھ کھلے پھول مرجا چکے ہیں.
نیلم کی ننھی پری سوجا سکون سے قبر میں. کم سے کم اب یہاں کوئی قاتل کھلونا تم کو نہیں مار سکتا.ابیحہ اگر سن سکتی تو. کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں.سنو بیٹاتم کو زمین والوں نے شہید قرار دے دیا. کیونکہ وہ اتنا ہی کرسکتے ہیں. مجرموں سے حساب لینے کی یہاں کسی میں ہمت نہیں.
بیٹاجونہی تو حشر تک کیلئے سوگئی تو تجھے پرچم میں لپیٹا گیا.اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مرنے والا کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا فرد تھا لیکن بیٹا ریاست بھی تیری موت کا بدلہ نہیں لے گی کیونکہ آج تک ہزاروں کو پرچم میں لپٹے سوتے دیکھامگر انصاف ان کو بھی نہیں ملا.ابیحہ یہ بھی سنو. تجھے آزاد کشمیر کے پرچم میں لپیٹا گیا تھا. معلوم ہوا کوئی تو تکرار ہوئی. تیرے ابے اور پالڑی کے مقامی لوگوں نے اسی پرچم کو ترجیح دی.
کشمیر کی ننھی پری یاد رکھنا.آئندہ یہاں پیدا نہیں ہونا.یہ بارود کی سر زمین ہے.یہاں لوگوں کو مارنے کیلئے کھلونا بم قدم قدم پر بوئے گئے.یہاں بارش کی طرح گولیاں اور گولے برستے ہیں.یہاں زندہ رہنے کی سر ٹیفیکیٹ باہر کے حاکم سے لینا پڑتی ہے.بیٹادوبار پیدا نہیں ہوناکیونکہ زندہ رہنا بڑا مشکل ہے کہاں جائے کوئی ہر قدم پر کوئی قاتل ہے کہاں جائیں گے.یہ تحریر نہیں مرثیہ ہے.