14اگست یوم اقتدار بچاؤ

69

بے نقاب.الیاس جنڈالوی

یوں تو یوم پاکستان 14 اگست 1947 کو آزاد ہوا تھا، اس لحاظ سے آج پاکستان چھیاتر سال کا ہو گیا، اس عمر کے بوڑھوں اور بوڑھیوں کی کثیر تعداد بلکہ 99 فی صد لوگ خاک بسر ھو چکے ہیں، اور جو حیات ہیں وہ خمیدہ کمر نابینا آنکھیں اور بدن میں کئی بیماریاں جمع کئے ھوئے منتظر ملک الموت ہیں،انسانی عمر کا اطلاق ملکوں یا ریاستوں کی عمر پہ نہیں کیا جا سکتا نہ ہی کوئی موازنہ کیا جا سکتا ھے، ملک ریاستیں یا خطے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ساتھ جوان ہوتے جاتے ہیں اور ساتھ ہی عروج و رعنائیاں پاتے جاتے ہیں، پاکستان کے قرب وجوار میں جتنے بھی ملک ریاستیں یا خطے ہیں عہد رواں میں رعنائیوں میں اوج ثریا کی طرف گامزن ہیں اور پاکستان اپنی عمر کے خمیدہ کمر لرزیدہ بدن بوڑھوں بوڑھیوں کی مانند اپنا وجود بغیر بیساکھیوں کے کھڑا رکھنے سے قاصر ھے، پاکستان کے لڑکھڑاپے کی حالت ایسے ہی نہیں ہو گئی، پاکستان کو ضعیف العمری میں پہنچانے میں اپنوں و غیروں سب کا ہاتھ کار فرما ہے، آج جو پاکستان بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے اس کو بیساکھیوں پہ لانے میں ہر عہد کے صاحب اقتدار و اختیار کا حصہ بقدر جثہ شامل ہے، پاکستان کو طبقات کی سرد جنگ نے اس حالت میں لایا جو آج ہے، پاکستان کو شروع سے ہی لٹیروں لالچیوں سے واسطہ پڑا ، ہر صاحب اقتدار و اختیار نے اس ملک کو لوٹا ہی ہے، کسی نے اس ملک سے محبت کرنے اور اس کو بنانے کی کوشش نہیں کی، اداروں میں کرپشن کو اتنا پروان چڑھایا گیا کہ آج پاکستان کرپشنستان بن چکا جس نے بھی پاکستان کو پائوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی اس کو رزیل و خوار ہی ہونا پڑا اور مایوسی و یاسیت کی حالت میں اس نے دنیا سے کوچ کیا۔

اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کو ایٹمی جامے پہنانے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان کی ہے، اس شخص کو رزیل و خوار کیا قوم سے اس کو ناکردہ گناہ کی معافی مانگنی پڑی، آخری عمر اس نے حالت زنداں میں گزاری، ممتاز صحافی سہیل وڑائچ کو اپنے انٹرویو میں سوال کے جواب پر کہا کہ مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا اس بیقدری و احسان فراموش قوم کی خدمت کرنے پہ ہے، اس کے برعکس بھارت نے اپنے ملک کے ایٹم بم کے خالق عبدالسلام کو بھارت کا سب سے بڑا صدر کا عہدہ تعویض کر کے عزت افزائی بخشی، پاکستان کاغذاتی طور پہ آزاد ہے عملی طور پہ امریکہ اور اس کی داشتہ اقوام متحدہ کے احکامات کی تعمیل ہو رہی ہے، پاکستان میں حکومتیں امریکہ کے اشاروں پہ بنتی و ٹوٹتی ہیں، دور رواں میں عملا امریکی پروردہ ,,انٹر نیشنل مائنریٹنگ فنڈز،، المعروف آئی ایم ایف، کی ہے، سٹیٹ بنک تک آئی ایم ایف کے زیر کنٹرول ہے، پاکستان کا ہر ادارہ تباہی کے دھانے پر ہے، پاکستان کا سنبھلنا اگر ناممکن نہ بھی ہو تو مشکل ترین ضرور ہے، پاکستان کو لالچی خود سر مغرور اور منافق عناصر نے بوڑھا کر کے بیساکھیوں پہ لا کھڑا کیا ہے، پاکستان کی اس حالت سے غریب و متوسط طبقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اعلی و بالا صاحب اقتدار و اختیار سرمایہ دار طبقے کو ذرا بھر بھی فرق نہیں پڑا، پاکستان اگر نہ بھی ہوا تو اس طبقے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا.

کیونکہ اس بالا طبقے نے اپنا سب کچھ جو ملک کو کوٹ کر بنایا ہوا ہے وہ اول دنیا کے ممالک میں منتقل کیا ہوا ہے، یہاں بالا طبقہ صرف حکمرانی اور عیاشی کیلئے آتا ہے یا پھر اس طبقہ کے جسد خاکی بعد از موت دفن کیلئے لائے جاتے ہیں، پاکستان مثل قبرستان ہے، اور قبرستانوں میں اجاڑ ہی ہوتا ہے ترقی نہیں،جہاں تک آزاد کشمیر کے بارے میں شور شرابہ ہے کہ یہ خطہ 14اگست 2023 کے بعد پاکستان میں ضم کیا جانے والا ہے، اور وزیراعظم انوار الحق کو آزاد کشمیر اسمبلی کی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ 48 اسی وجہ سے دلوائے گئے، اور اسمبلی میں ترمیم کروا کر وزرا کی تعداد میں اسی وجہ سے اضافہ کروایا گیا ، وزرا کو محکمے اس واسطے الاٹ نہیں کئے گئے کہ 14 اگست کو یوم پاکستان پر زور طریقے سے بنوایا جائے گا اور اس کے بعد ترمیم کیساتھ آزاد کشمیر کو صوبے میں تبدیل کر دیا جائے گا، پھر یہ وزرا جو بنائے گئے ہیں صوبائی وزرا کی حیثیت میں حلف اٹھائیں گے وزیراعظم کا عہدہ تنزلی کا شکار ہو کر وزیر اعلی کی حیثیت اختیار کر لے گا، سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر کا خاتمہ بالخیر ہو جائے گا البتہ ہائی کورٹ آزاد کشمیر جوں کا توں رہے گا، بھارتی مقبوضہ کشمیر مکمل طور پہ بھارت کے پاس رہے گا اور ایل او سی کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے گا، یہی وجہ ہے کہ ایل او سی پہ کئی علاقوں پہ بھارتی فوج قبضے کی کوششیں اس دعوے کیساتھ کر رہی ہے کہ سیز فائر کے وقت یہ علاقے ہمارے قبضے میں تھے.

اسی طرح پاکستان گلگت بلتستان کو بھی صوبے کی شکل دے گا، بعد میں صوبہ جات کی حیثیت بھی ختم کرنے کے منصوبے ہیں، تاریخ سے اگر اس بارے میں پوچھا جائے تو ہمیں تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ 6 ہزار سال سے کشمیر کا جو آٹھ نو ہزار مربع میل خطہ ہے وہ آزاد و خود مختار ریا، 1585/86 تک کشمیر ناقابل تسخیر بھی بتلایا جاتا ہے، 25/30 خاندانوں نے کشمیر پہ حکمرانی کی اور بعض بادشاہوں نے تو کشمیر کی سرحدوں کو بحر ہند کے پانیوں تک وسعت دی جیسے للتا دت مکتا پیڈ وغیرہ، 1334عیسوی میں مسلم سلاطین کے آنے کے بعد بھی زین العابدین بڈ شاہ کے عہد میں کشمیر کی سرحدوں نے بہت وسعت پائی، بیرونی قابضین میں مغلیہ، افغان اور سکھ قابل ذکر ہیں جن کے عہد میں کشمیری عوام نے اپنے اوپر بے پناہ ظلم و تشدد سہے، سکھ عہد میں تو زندہ لوگوں کی کھالیں تک بھی کھنچوائی گئیں لیکن وہ بھی کشمیر کے وجود کو نہ مٹا پائے، اس کے بعد شخصی غلامی کے ڈوگرہ 101 سالہ عہد میں کشمیر کو وسعت دی گئی اور تمام راجواڑے ختم کر کے جدید کشمیر کی بنیاد رکھی گئی جو 1947 کے بعد ٹکڑوں کی شکل میں بٹ چکی ہے، جدید کشمیر کے اس خطہ آزاد کشمیر میں 14 اگست کو پاکستان کی یوم آزادی کے موقع پر جشن آزادی ہر سال کی طرح منایا جائے گا، اس مرتبہ پہلے کی طرح چھٹی نہیں ہو گی کیونکہ اس مرتبہ ایسا جشن منایا جا رہا ہے جس کو پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا.

یہ جشن شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی طرف سے زور و شور سے اس لیئے منایا جا رہا ہے تا کہ اس کو ریفرینڈم ثابت کیا جا سکے اور آقاں کو خوش کر کے اپنے اقتدار کی نوکری وزارت اعلی کی صورت میں لمبے عرصہ کیلئے پکی کروائی جا سکے، اسی واسطے وزیراعظم آزاد کشمیر نے تمام سرکاری اداروں میں %100 حاضری کیلئے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں، دوسری جانب ہوش ربا مہنگائی اور بے جا ٹیکسوں کے خلاف غریب عوام سڑکوں پہ ہے اعلی عدلیہ بنچز کے باہر دھرنے دیئے جا چکے ہیں، 3 اگست کو آزاد کشمیر کے دیگر شہروں کے علاہ راولاکوٹ میں جو بنیادی مسائل کے حل کے مطالبات کیلئے ریلی نکالی گئی وہ راولاکوٹ میں آزاد کشمیر کی تاریخ میں سب بڑی ریلی تھی، اور یہی حال آزاد کشمیر کے دیگر شہروں کا بھی تھا، مہنگائی سے تنگ آئے عوام اندر سے بہت جلے ہوئے ہیں۔ روح و جسم کا رشتہ برقرار رکھنا ان کے واسطے مشکل ہے، 3 ماہ ہو چلے ہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے مہنگائی کے خلاف دھرنے کو لیکن وزیراعظم حضور کی طرف سے مطالبات منظور کرنا تو دور کی بات کوئی بھی نمائندہ پوچھ پرتیت کے واسطے بھی نہیں آیا، جو کہ وزیراعظم حضور کی فرعونیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق گلگت بلتستان آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس ایک جیسا ہے گلگت بلتستان میں پاکستان سبسڈی دے رہا ہے جہاں آٹا آج بھی 1016 روپے من ہے اور بجلی کے ساتھ ساتھ دیگر اشیا ضروریہ ارزاں نرخوں پہ فروخت ہو رہی ہیں، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھی سبسڈی دی جا رہی ہے.

آزاد کشمیر میں ان دونوں خطوں کے برابر سہولیات میسر نہیں، مہنگا کنٹرول آٹا تک یہاں میسر نہیں، وزرا ٹھیکدار مافیا اور آفسران بالا سے مل کی کرپشن کی حدود پار کر چکے ہیں، چمچے کڑچھے ممبران اسمبلی، وزرا مشیران اور لوکل ممبران و عہدے داران کے دم چھلے بنے ہوئے ہیں، آزاد کشمیر عذاب کشمیر کا منظر پیش کر رہا ہے، وزیراعظم نے بالن تک پہ پابندی عائد کر دی جیسے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے آخری ایام میں بیوی ٹیکس اور چولہا ٹیکس تک لگا دیا تھا، رات کے اندھیرے میں عوام کے خوف سے اس کو بھاگنا پڑا تھا،جہاں تک بھارتی مقبوضہ کشمیر کی بات ہے تو پاکستان کے ارباب اختیار کی مرضی و منشا کے مطابق 5 اکشت 2019 کو 370 اور 35 اے کو ختم کر کے اس کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا تھا، وہاں 15 اگست کو جشن یوم بھارت بنے گا،کشمیر کی تاریخ ہمیں یہ سبق دے رہی ہے کہ کشمیر کے وجود و ساخت کو ایسے نہیں مٹایا جا سکتا جیسے سورج کی صداقت کو نہیں جھٹلایا جا سکتا، بس یہ صاحب اقتدار کی اقتدار بچا یوم آزادی ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں ، ان کو بھاگنے میں دیر نہیں لگے گی، خاطر جمع رکھو اور تماشا دیکھنے کا انتظار کرواللہ پاک حق کہنے سننے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یا اللہ رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں