تحریر: عبدالباسط علوی
آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں سوشل میڈیا مواصلات اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک طاقتور پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ جہاں بلاشبہ اس نے لوگوں کو قریب لایا ہے اور خیالات کے تبادلے میں سہولت فراہم کی ہے وہیں یہ غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانیے اور متعصب مواد کا بے لگام پھیلاؤ معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور یہ اعتماد کو مجروح کرنے، کمیونٹیز کو پولرائز کرنے اور عوامی گفتگو کو مسخ کرنے کا باعث بھی بن رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات کے استعمال کے طریقے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور اربوں صارفین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم ان پلیٹ فارمز پر مواد کے اشتراک کی آسانی اور رفتار نے بھی ایک پریشان کن رجحان کو جنم دیا ہے جہاں غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا بے تحاشا پھیلاؤ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جھوٹ، سازشی تھیوریز، اور مسخ شدہ بیانیے چند منٹوں میں وائرل ہو سکتے ہیں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں اس سے پہلے کہ ان کی حقیقت کی جانچ پڑتال کی جائے یا ان کو ختم کیا جائے۔ یہ غیر محدود پھیلاؤ رائے عامہ کو متاثر کرنے، سیاسی گفتگو کی شکل دینے، اور یہاں تک کہ جمہوری عمل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے پھیلاؤ میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز معلومات کو شیئر کرنے کا ایک آسان اور قابل رسائی ذریعہ فراہم کرتے ہیں مگر اکثر اس کی درستگی کی تصدیق کے لیے مضبوط میکانزم کے بغیر ہی سارا نظام چلایا جاتا ہے۔ اس سے بدنیت عناصر اور افراد کے لیے اپنے ایجنڈوں کے مطابق جھوٹے بیانیے کا پرچار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا الگورتھم کو صارف کی مصروفیت کو زیادہ سے زیادہ انگیج کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ اکثر ایسے مواد کو فروغ دے کر کیا گیا ہے جو شدید جذباتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔ یہ الگورتھمک امپلیفیکیشن سنسنی خیز یا متنازعہ مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے غلط معلومات اور پروپیگنڈے کو مرئیت اور توجہ حاصل کرنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا ایکو چیمبرز کی تشکیل کو فروغ دیتا ہے، جہاں افراد ہم خیال لوگوں سے گھرے ہوتے ہیں اور ان کے موجودہ عقائد سے مطابقت رکھنے والی معلومات ان کے سامنے آتی ہیں۔ اس سے تصدیقی تعصب کو تقویت ملتی ہے.
سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے بغیر روک ٹوک پھیلاؤ کے نتائج بہت دور رس ہیں: غلط معلومات اداروں، میڈیا تنظیموں اور یہاں تک کہ سائنس پر عوام کے اعتماد کو ختم کرتی ہیں۔ اس بے ہنگم رفتار سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور معلومات کے معتبر ذرائع پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ غلط معلومات اور پروپیگنڈا اکثر تفرقہ انگیز بیانیے کو ہوا دیتے ہیں، کمیونٹیز کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے ہیں اور معاشرتی تناؤ کو بڑھاتے ہیں۔ اس پولرائزیشن کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، جو سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اہم مسائل پر تعمیری مکالمے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ عوامی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غلط معلومات کے پھیلاؤ کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ ویکسین، علاج، یا بیماری سے بچاؤ کے بارے میں جھوٹے دعوے ویکسین میں ہچکچاہٹ کا باعث بن سکتے ہیں، وباء کو بڑھا سکتے ہیں اور صحت عامہ کی کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
پاک فوج ہمارے دشمنوں اور ریاست مخالف عناصر کے لئے ایک انتہائی آسان ہدف رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک فوج کے خلاف جعلی خبروں اور پروپیگنڈے میں اضافہ ہوا ہے۔5 جون کو ایک تصدیق شدہ ٹویٹر اکاؤنٹ نے ٹویٹ کیا، “آسٹریلیا نے اپنے ملک میں پاکستانی جرنیلوں پر پابندی لگا دی ہے۔”ٹوئٹر صارف نے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں اسے واضح طور پر یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ، حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سمیت 50 اہلکاروں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دے گا- پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ “آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر تمام پاکستانی جرنیلوں کے اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ویڈیو کو اب تک 71,000 بار دیکھا گیا ہے اور 4,000 سے زیادہ بار ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح کا دعویٰ ایک اور ٹویٹر صارف نے شیئر کیا تھا۔
5 جون کو فیس بک کے ایک صارف نے بھی اپنی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ ’’آسٹریلیا نے پاکستانی جرنیلوں پر اپنے ملک جانے پر پابندی لگا دی ہے۔‘‘ جبکہ جیو کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمیشن نے کنفرم کیا کہ آسٹریلیا کی جانب سے کسی بھی پاکستانی فوجی افسر یا اہلکار پر ایسی کوئی بھی سفری پابندی عائد نہیں کی گئی۔ سوشل میڈیا پر ویزا پابندی کی وائرل رپورٹس سے آگاہ آسٹریلوی ہائی کمیشن کے ترجمان نے 21 جون کو ای میل کے ذریعے جیو فیکٹ چیک کو بتایا، ’’یہ رپورٹس غلط ہیں۔‘‘ ’’آسٹریلیا پرامن، خوشحال اور جمہوری پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔” ترجمان نے لکھا۔
پھر حال ہی میں آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہم بھی سامنے آئی اور خدانخواستہ ان کو مارنے کے ٹرینڈز چلانے کی ناکام کوششیں بھی کی گئیں۔ علاوہ ازیں سابقہ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف (سی او اے ایس) جنرل عاصم منیر کے خلاف شروع کی گئی سوشل میڈیا مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکام کو ایسی مذموم سازشوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ 9 مئی کی سازش میں ایک جیسے ذہن ملوث تھے۔ “یہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور ہینڈلرز کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف سازش کو کچل دیا جائے گا۔
“بیان میں مزید کہا گیا۔ شہباز شریف نے میڈیا کی گھٹیا، شرپسند اور پرتشدد مہم کو شرپسندوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے خلاف سازش کرنے والے ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی میڈیا مہم اس گھناؤنی مہم کا ایک حصہ تھی جو شہدا کے خلاف شروع کی گئی تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلح افواج اور اس کے سربراہ کے خلاف میڈیا کی مہم آزادی اظہار کے دائرے میں نہیں آتی بلکہ یہ صرف ایک سازش ہے اور اس قسم کے رجحان کو پوری قوت سے ختم کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم ایسی کوششوں کو اسی طرح ناکام بنائے گی جس طرح اس نے 9 مئی کو ملک میں تشدد اور توڑ پھوڑ کی کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ انہوں نے قوم کے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ مایوس اور خوفزدہ عناصر کو ملک میں نئے بحران پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ٹویٹر پر ایک وضاحتی بیان میں سابق وزیر اعظم شہباز نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ کی “بدتمیز، مذموم اور بدنیتی پر مبنی” مہم بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ انہوں نے مائیکروبلاگنگ سائٹ پر لکھا، “عمران خان سی او اے ایس جنرل سید عاصم منیر کے خلاف ایک گھناؤنی، مذموم اور بدنیتی پر مبنی مہم میں مصروف ہیں۔ آرمی چیف کو قاتلانہ حملے کی دھمکی دینے کے لیے پراکسیز استعمال کرنے کی ان کی چال بری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔” شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان ریاستی اداروں پر منصوبہ بند حملے میں ناکامی کے بعد اقتدار میں واپس آنے کے لیے شدت سے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ “ان کی دھمکی، تشدد اور نفرت کی سیاست کا وقت ختم ہو گیا ہے”۔ انھوں نے کہا، “اس طرح کی انتہائی قابل مذمت حرکتوں کے ذریعے وہ صرف اپنے آپ کو بے نقاب کر رہے ہیں، جس کا بنیادی مقصد ان کے ذاتی مفاد (اقتدار پر قبضہ) کو ہر چیز پر مقدم رکھنا ہے ،” شہباز شریف نے کہا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتیں جنرل عاصم منیر اور مسلح افواج کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہیں اور پاک فوج کے وقار، عزت اور سالمیت کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش اور سازش کو ناکام بنا دیں گے۔
پی ٹی آئی اور اس جیسے ملک دشمن عناصر پاک فوج کے خلاف مسلسل بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور مبینہ طور پر پاکستان کے لیے اپنے ہیروز کی نمایاں خدمات سے قوم کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں دنیا نے پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قوم پرستی کا شاندار مظاہرہ دیکھا جب بٹگرام میں ایک مقامی کیبل کار میں آٹھ افراد پھنس گئے۔ تین میں سے دو کیبلیں ٹوٹ گئیں جس سے کار 900 فٹ کی بلندی پر لٹک گئی۔ پاک فوج کو طلب کیا گیا اور جی او سی ایس ایس جی کی براہ راست نگرانی میں ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ تیز ہواؤں، خراب موسم اور ہیلی کاپٹر کی ہوا کے زور سے آخری تار ٹوٹنے کے خطرے نے ریسکیو کو مزید مشکل بنا دیا۔ ذاتی حفاظت کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے اور پورے میڈیا اور بین الاقوامی سامعین کی جانچ پڑتال کے ساتھ کئی کوششوں کے بعد ایک سلنگ آپریشن کیا گیا جس کے نتیجے میں دو مسافروں کو بچا لیا گیا۔ اس کوشش کو نہ صرف مقامی لوگوں نے سراہا بلکہ اس نے بین الاقوامی پریس کو بھی متاثر کیا۔ خراب روشنی کی وجہ سے پلان بی پر مجبور ہونے کے بعد فوج نے مقامی ریسکیورز کو اکٹھا کیا، انہیں ضروری سامان فراہم کیا اور تمام مسافروں کو بحفاظت بچاتے ہوئے آپریشن کو مکمل کیا۔
پوری قوم کی جانب سے فوج کی کوششوں کی تعریف کرنے اور اس میں شامل تمام افراد کی خیریت کے لیے دعا کرنے کے باوجود، پی ٹی آئی کے غیر ملکی ایجینٹوں نے جھوٹ کا سہارا لیا اور فوج کو بدنام کرنے کے لیے اس طرح کے موقع کو بھی استعمال کیا۔ ’ماہرین‘ نے ابتدائی طور پر ہیلی کاپٹروں کی دیر سے آمد کی شکایت کی اور پھر دعویٰ کیا کہ اگر مقامی لوگوں کو اجازت دی جاتی تو وہ آسانی سے یہ کام کر لیتے۔ بیوقوفوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اگر مقامی لوگ اسے ہٹانے کے قابل ہوتے تو وہ چھ گھنٹے تک انتظار نہ کرتے۔ یہ فوج تھی جس نے خطرے کو کم کیا، بہترین مقامی ریسکیوئرز کو اکٹھا کیا اور انہیں انتہائی مخصوص رسیاں/سامان فراہم کیا۔ لوگوں کی حفاظت کو تیزی سے زیادہ اہمیت دی گئ۔ سب سے اہم یہ ہے کہ تمام افراد محفوظ رہے ۔ فوج کو ان جیسے ریاست مخالف عناصر کی منظوری کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی محبت ہی ان کے لئے کافی ہے۔
پاک فوج ایک ادارے نہیں بلکہ ایک جذبہ اور وفا کا نام ہے جسکے جوان وطنِ عزیز کے دفاع کیخاطر جانیں قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے اور اپنے ہم وطنوں کی امداد اور جانیں بچانے کے لیے ہمیشہ صفِ اول میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہر گھڑی تیار کامران پاکستانی فوج کے جوان اپنی ارض پاک اور قوم کی حفاظت اور خدمت میں ہمہ وقت مصروف عمل ہیں۔ 22 اگست جس روز پاک فوج کی جانب سے بٹگرام کی چئیر لفٹ میں پھنسے پاکستانیوں کو ریسکیو کرنے کا آپریشن جاری تھا عین اسی وقت قوم کے بیٹے دوسری جانب وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں بھی مصروف تھے۔ پاک فوج کے جوانوں نے جہاں 8 افراد کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا وہیں دفاعِ پاکستان کی خاطر پاک فوج کے دلیر 6 جوانوں نے جواں مردی سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔ یاد رکھیں یہ محض 6 فوجی جوان نہیں بلکہ 6 خاندان ہیں جنہوں نے وطن کی خاطر اپنے پیاروں کو قربان کردیا۔ شہید ہونے والے جوان بھی کسی کے بیٹے تھے، کسی کے بھائی تھے، کسی کے شوہر تھے کسی کے باپ تھے یا کسی کا واحد سہارا تھے۔
پاک فوج محض ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ایک خاص فوج ہے جو سرحدوں سے لیکر قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔ جو لوگ فوج پر بلا جواز تنقید کرتے ہیں کیا انہوں نے کبھی دیکھا یا سمجھا نہیں؟ کہ کون ہمیشہ اللہ کی مدد کے بعد انکی حفاظت کے لیے صفِ اول میں کھڑا ہوتا ہے؟؟ پاک فوج کوکسی کریڈت یا شہرت کا شوق نہیں یہ صرف جذبہ حب الوطنی ہے جسکے تحت سرحدوں پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے ہم وطنوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نکالنے کے لیے پاک فوج بنا تاخیر ہمہ وقت حاضر رہتی ہے۔ سیلاب ہو، زلزلہ ہو، طوفان ہو، خشک سالی ہو، یا کوئی بھی حادثہ پوری قوم کی نظر سب سے پہلے اگر کسی کی جانب اُٹھتی ہے تو وہ ہے پاک فوج، آزمائش اور تکلیف میں مبتلا عوام اللہ کے بعد سب سے پہلے اگر کسی کو پکارتی ہے تو وہ ہے پاک فوج۔ لیکن افسوس کے چند نادان،کم عقل اور خودساختہ تجزیہ نگار جو دن رات بغضِ فوج میں مصروف ہیں انہیں ہر معاملے میں نفرت ابھارنے اور کیڑے نکالنے پر شرم آنی چاہئیے۔
جس طرح ان عقل کے اندھوں نے بٹگرام کے ریسکیو آپریشن کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی اور بری طرح ناکام ہوئے اور انشااللہ ہمیشہ ناکام ہی ہوں گے انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور سمجھنا چاہیے کہ سب کچھ پیسہ یا سستی شہرت ہی نہیں ہوتی۔ کیا ان کم عقلوں کو اس بات کا اندازہ ہے کہ انکی منفی اور من گھڑت تجزیوں سے شہداء کے لواحقین اور عوام کی خدمت میں مصروف جوانوں کے دل پر کیا بیتی ہوگی؟ اگر یہ پاک فوج نہ ہو تو ان گلیوں کوچوں میں کون ہوگا ؟کبھی سوچا؟ نہیں سوچا تو فلسطین، عراق، شام، اور بھارت کے مسلمانوں کی حالت دیکھ لیں۔ میانمار کے مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں۔ ملک دشمن اور فوج دشمن ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ پاک فوج عوام کا فخر ہے اور عوام پاک فوج کے سر کا تاج۔ جو بھی اس رشتے کو کمزور کرنے کا سوچے گا وہ اپنی موت خود مرے گا۔ دفاعِ وطن اور عوامی خدمت سے سرشار جذبہ کے حامل پاک فوج کے جوانوں کی عکاسی شاعر نے خوب بیان کی .
ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم پاکستانی فوج کے جوان ہیں ہم
قارئین، سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے:تنقیدی سوچ اور میڈیا کی خواندگی کی مہارتوں کو فروغ دینا افراد کو معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے، تعصب کی نشاندہی کرنے اور دعووں کو شیئر کرنے سے پہلے حقائق کی جانچ کرنے کا اختیار دے سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے مواد کی ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ غلط معلومات کے خلاف سخت پالیسیوں کا نفاذ، حقائق کی جانچ کرنے کے طریقہ کار کو بڑھانا، اور غلط مواد کی الگورتھمک افزائش کو کم کرنا غلط معلومات کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات ہیں۔ حکومت، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ٹیک کمپنیوں کو غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اور جامع حکمت عملی تیار کرنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
اس میں شفاف مواصلات کو فروغ دینا، حقائق کی جانچ کرنے والی آزاد تنظیموں کی حمایت کرنا اور بہترین طریقوں اور وسائل کو بانٹنے کے لیے شراکت داری کو فروغ دینا شامل ہے۔ سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور پروپیگنڈے کا بے لگام پھیلاؤ معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ ضروری ہے کہ افراد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور پالیسی ساز اس چیلنج سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔ میڈیا خواندگی کو فروغ دے کر، پلیٹ فارم کی ذمہ دارانہ پالیسیوں کو نافذ کر کے اور باہمی تعاون کی کوششوں کو فروغ دے کر ہم غلط معلومات کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں، عوامی گفتگو کی سالمیت کی حفاظت کر سکتے ہیں اور ایک صحت مند اور زیادہ باخبر ڈیجیٹل معاشرے کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ پاک فوج کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے اور پروپیگنڈا کرنے کا رجحان قوم کے لیے قابل قبول نہیں اور یہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں نہیں ہے۔ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے جو ہمارے محافظوں کے خلاف ایسی مذموم کوششوں میں ملوث ہیں۔