وویمن یونیورسٹی باغ کی تعمیر پر اٹھنے والے اعتراضات او ر انکے جوابات

68

نقطہ نظر،سید عامر گردیزی
وویمن یونیورسٹی باغ آزادکشمیر آج کل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے .جہاں اسکی تعمیر کو لیکر باتیں‌کی جارہی ہیں‌وہیں پر اس کی بڑھتی اور کم ہوتی ہوئی تعداد ،ماحولیاتی مسائل ،برقیات سے این او سی کاحصول ،یونیورسٹی کی دیوار کے اطراف عوامی ضرورت کے پیش نظر سڑک کی جگہ سمیت کئی سوالات اٹھائے جارہے ہیں .یونیورسٹی کیخلاف تنقیدی مہم آزادکشمیر میں واحد خواتین کی یونیورسٹی کے امیج کو بری طرح متاثر کررہی ہے .ہمارے ہاں‌یہ کلچر بن چکا ہیکہ جب بھی کوئی منصوبہ جس کا تعلق ریاست کے عام شہریوں‌سے متعلق ہوتا ہے اس کیخلاف وہاں‌کی سیاسی ایلیٹ اٹھ کھڑی ہوجاتی ہے.وہ منصوبے کو لیکر ایسے ایسے اعتراضات کھڑی کر دیتی ہے جنھیں‌سن کر ہنسی اور رونا دونوں آنے لگتے ہیں .ہوتا کچھ یوں ہیکہ ایسے منصوبوں سے یہ ایلیٹ اپنا حصہ نکلالنا چارہی ہوتی ہے ،چاہے وہ اس منصوبے میں نوکریاں‌ہوں‌یا پھر ٹھیکے .اس کے علاوہ بھی منصوبے سے جڑے ان کے چھوٹے چھوٹے مفادات ہوتےہیں‌.جن کی تکمیل کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں‌.

یہ اپنے ان چھوٹے چھوٹے مفادات کے حصول کے لیے اس قدر محو ہوتے ہیں کہ اگر انکو اپنے مفادات پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں‌آرہے ہوں‌تو وہ اس منصوبے کے خاتمے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں. آج سب سے پہلے اس ایلیٹ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات پر اور ان کے حل پر بات کرتے ہیں‌.پہلا اعتراض یونیورسٹی میں‌طالبات کی بڑھتی اور کم ہوتی ہوئی تعداد کو لیکر اٹھایا جارہا ہے .اس حوالے سے کہا جارہا ہیکہ پہلے یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد پہلے 3800 تھی تو جو اب کم ہوکر 2000 پر آگئی ہے،اس پر جب ہم نے یونیوسٹی کے متعلقین سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ویمن یونیورسٹی باغ میں طالبات کی تعداد کبھی بھی 3800 نہیں رہی .یونیورسٹی کے آغاز کے بعد ہونے والے داخلوں کے نتیجے میں طالبات کی تعداد تقریباً 2200 تھی جبکہ اس دوران ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کی Reimbursement سکیم بھی چل رہی تھی اور طالبات فری ایجوکیشن حاصل کر رہی تھیں.ہائر ایجوکیشن کی طرف سے Reimbursement سکیم اب بند ہو چکی ہے .اس کے باوجود طالبات کی تعداد 2200 سے بڑھ کر2500 تک پہنچ گئی ہے. جو کے ادارے پر لوگوں کے اعتماد کا اظہارہے.

دوسرا اعتراض اس کی تعمیر کے امور سے متعلق اٹھایا جا رہا ہے جب کہ اس کی تعمیر کے حوالے سے اٹھنے والے اعتراضات کے حل کے لیے کمیٹی کا initiative سول سوسائٹی نے لیا ہے اور سول سوسائٹی ک کی طرف سے جو اقدام اٹھایا گیا اس کا بنیادی مقصد یہ ہیکہ ویمن یونیورسٹی باغ کے زمین کے معاملے کی سنگینی کو حل کیا جائے تاکہ اس قومی منصوبے کو نقصان سے بچایا جائے .تیسرا اعتراض یونیورسٹی کی تعمیر کے حوالے سے این او سی کو لیکر ہے.جو بنتا نہیں‌کیونکہ جب بھی اس نوعیت کے قومی منصوبے شروع کیے جاتے ہیں‌اس میں‌ پی ایس ڈی پی فنڈز پراجیکٹ کی requirements ہوتی ہیں .جن کو پورا کرنے کے بعد منصوبے کا آغاز ہوتا ہے اور یہ مکمل طور پر ماسٹر پلاننگ کے بعد شروع کیے جاتے ہیں .جبکہ ماسٹر پلاننگ میں ماحولیات، جنگلات اور اس طرح کے تمام فیکٹرز کو مدنظر رکھتے ہوئے نقشہ پاس کیا جاتا ہے. اس کا ایک پورا میکنیزم ہوتا ہے جس میں‌وفاقی حکومت سے لے کر آزاد کشمیر حکومت کا عمل دخل ہوتا ہے.

تیسرا اعتراض یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے برقیات والوں سے این او سی کے حوالے سے ہے.اسکا جواب یہ ہےجہاں یونیورسٹی بن رہی ہے وہاں‌ےتو کوئی بجلی کی لائن موجود ہی نہیں تو برقیات سے NOC کس بات کی لی جائے؟اس کے علاوہ یونیورسٹی کے دونوں‌طرف شاہراہ کی جگہ چھوڑنے کی بات کی جارہی ہے.جس کو مدنظر رکھتے ہوئے عوامی ضروریات کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے دونوں‌طرف پندرہ فٹ کے بجائے بیس فٹ جگہ چھوڑ دی ہے یعنی کہ اب سٹرک سے یونیورسٹی کی دیوار 20 فٹ کے فاصلہ پر کھڑ ی ہوگی .ہاں‌اگر مستقبل میں یہاں‌کوئی موٹر وے بنائے جانے کا پلان ہے تو یونیورسٹی کی دیوا ر کو توڑ کر 20 فٹ جگہ جو عوامی ضرورت کے پیش نظر چھوڑی گئی ہے اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے .

سڑک کی تعمیر اور اس کی جگہ سے متعلق اعتراض کے حوالے سے یہ بھی پیش نظر ہونا چاہیے کہ جو تیس فٹ جگہ دونوں اطراف میں‌چھوڑے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے .یہ ممکن بھی نہیں‌کیوں‌یونیورسٹی کے ایک طرف جو جگہ بنتی ہے وہ مقامی لوگوں‌کی ذاتی جگہ ہے ہونے کیساتھ ساتھ خالصہ سرکار بھی شامل ہے.جبکہ دوسری طرف یونیورسٹی کی حدود میں جو جگہ آرہی ہے .و ہ پہلے ہی یونیورسٹی انتظامیہ نے عوامی ضرورت کے پیش نظر 15 فٹ کے بجائے 20 فٹ چھوڑ رکھی ہے.اس میں‌سب سے اہم بات یہ ہیکہ جب روڈ کو عوامی ضرورت کے پیش نظر یونیورسٹی کی طرف سے 20 فٹ اور دوسری طرف جہاں‌مقامی لوگوں‌کی زمینوں‌کیساتھ کیساتھ خالصہ سرکار بھی ہے تو وہاں‌15 چھوڑا جا رہا ہے پھر اعتراض کس بات کا.اس کا سیدھا سا جواب یہ ہیکہ وہاں کی سیاسی ایلیٹ اس قومی پروجیکٹ کو التواء کا شکار بنانے کے درپے ہیں.

اس کے علاوہ ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا گیا کہ یونیورسٹی کی تعمیر کو لیکر جنگلات کی کٹائی ہورہی ہے ،جس سے ماحولیات پر برا ثر پڑے گا .اس اعتراض‌کا حل بھی بڑی تعداد میں نئے درخت لگا کر نکالا جا چکا. سوشل میڈیا پر اس ایشو کے حوالے سے عوام کا یہ کہنا ہیکہ ایک قومی ادارے کی تعمیر کو لیکر بے ہودہ قسم کے مطالبات کیے جارہے ہیں‌جبکہ دوسر ی طرف باغ کی ایلیٹ جھنوں‌نے خلاف قانون تعمیرات کرکے باغ شہر کا کنکریٹ کا جنگل بنا دیا ہے ان سے کوئی نہیں‌پوچھ رہاکہ انھوں‌نے کیسے ماحولیات کا نقصان کیا،عوام کے لیے پیدل چلنے والے راستے تک نہیں‌بخشے گئے لیکن جب بات قومی مفاد کے پروجیکٹ کی ہے تو اس ایلیٹ کو قوانیں‌یاد آگئے ہیں‌.جو یقینااس لیے ان کو یاد آرہے ہیں کہ وہ کسی صورت بھی اس عوامی مفاد کے پروجیکٹ کو اپنی منزل پر پہنچتا ہوا دیکھنا نہیں‌چاہتے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں