مشکلات اور پیچیدگیوں کا سفر

67

کالم نگار: اسداقبال جپہ
مشکلات اور پیچیدگیوں کے سفر میں جو ظرف اور وسعتِ شعور حاصل ہوتی ہے وہی انسان کا اثاثہ ٹھہرتی ہے .اپنے ذات کی تسخیر نہ تو ضروری ہے نہ ہی غیر ضروری .بات ساری اپنے آپ کے ساتھ “طے شدہ شرائط” کی ہے .ہاں مگر لازمی کہنا چاہوں گا کہ جو انسان جب خودی کو تسخیر کر لیتا ہے تب وہ دنیا اور دنیاداری کے ہر معاملے میں انصاف اور احسان کے ساتھ سرخرو ہوتا ہے اور یہیں سے انسانیت کی فلاح کا کام شروع ہوتا ہے کہ جب انسان بغیر دوسروں کو جج کئے۔ بغیر الجھے۔ بغیر پریشان ہوئے خود سے وابستہ انسانوں میں۔ مکمل مکھن اور بالائی کی مانند ہوجاتا ہے۔ جب ہر خانے میں فٹ ہونا شروع ہوجاتا ہے جب وہ کسی قسم کی کوفت کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہے بلکہ اس سے اجتناب کرنے کا فن جان لیتا ہے۔ تب اس معیار پہ سب ایک دوسرے کے لئے سکون اور خوشی کا مؤجب ٹھہرتے ہیں تو یہی فلاح یافتہ لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کا حق نہیں مارتے۔ دوسروں کے لئے اذیت کا باعث نہیں بنتےاگر کبھی انہیں کسی بد فطرت سے واسطہ پڑ جائے تو دھیرے سے آرام سے سر جھکا کر نکل جاتے ہیں پھر وہ کانٹوں سے الجھتے نہیں اپنی سوچ کوخیالات کو اپنے آپ کو نثر میں بیان کرنا مجھے ہمیشہ سے مشکل رہا ہے۔ اسی لئے مجھے ادب کی تصنیف غزل بہت پسند ہے .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں