نگارش قلم، سید عمران حمید گیلانی
ریاستی عوام نہ صرف اس وقت غربت مہنگائی بیروزگاری کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے. بلکہ ریاست میں قائم وہ ادارے جو ملک و قوم کے مفاد عامہ کیلئے قائم کئے گے تھے ان سے بھی قطعا بیزار ہیں. جن میں سرفہرست محکمہ برقیات ہے .جو اس وقت ملک و قوم کیلئے سفید ہاتھی بن چکا ہے. اس سے بڑا ظلم اور نا انصافی اور کیا ہوگی کہ ہماری بجلی ہم سے سستے داموں خرید کر ہمیں ہی واپس مہنگے داموں خریدنی پڑ رہی ہے . بجلی کو ڈھونڈنے کیلئے اہل نظر اور اہل خبر ہونا ضروری ہے وگرنہ اسے پانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں. پورے آزاد کشمیر میں بالعموم اور ضلع باغ کے صارفین اس وقت بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے شدید ترین کرب و عذاب میں مبتلا ہیں.
محکمہ برقیات ان کیلئے اس وقت عذاب کا فرشتہ عملا ثابت ہو رہا ہے .پہلے لوگ شدت سے عید کے چاند کے دیدار کیلئے ترستے تھے اور موجودہ وقت میں جب موسم ظالمانہ اور سردی اپنی انتہاء پر ہے .بیچارے صارفین بجلی کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس گئے ہیں. بجلی کی آنیاں جانیاں سلسلہ جاری ہے جو صارفین کیلئے یہ پیغام اور امید دلوں میں زندہ کئے ہوئے ہے کہ ( میں ہنیں آئی تے فیر ہنیں گئی) سنا تھا کہ ریاست کسی قاعدہ قانون سے چلتی ہے مگر بگڑے ہوئے حالات اور اداروں کی ناقص پرفارمنس اور من مانیاں اس بات کی غمازی کر رہی ہیں کہ اس اجڑی ریاست کا کوئی والی وارث نہیں .
دکھی عوام کو مشکلات و مصائب سہنے کیلئے لٹنے پٹنے کیلئے یہ کہہ کر تنہا چھوڑدیا گیا ہے کہ تمہاری جنگ ہے تم ہی لڑو مرو.تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ملکوں سلطنت و ریاست کا دھارا بدلا. وہ ان مظلوم عوام نے اپنے زور بازو سے ہی بدلا ہے یہ بھیک نہیں آزادی ہے مانگے سے بھلا کب ملتی ہے .اسے چھیننا پڑتا ہے .ہم محکمہ برقیات کا قبلہ درست نہیں کر سکے جو محض چند گھنٹے بجلی کی بھیک ہماری جھولی میں ڈال کر ماہانہ اربوں روپے بمعہ ٹیکسز ہم سے بٹور رہا ہے. پھر ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کیا رونا روئے وہ تو بنی ہی لوٹ مار کیلئے ہماری ان ہی حرکتوں اور نا انصافیوں کی وجہ سے ہمارا رب ہم سے روٹھا ہوا ہے اور ہم بارش کی رحمت سے محروم ہیں.
ریاست کے خود ساختہ بے تاج بادشاہوں اور وزراء کی فوج ظفر موج کے دروازؤں پر الفاظ کی دستک دیتے ہوئے التجا کرتے ہیں کہ قومی خزانہ سمیٹنے اور اقتدار کے نشے سے جب ہولے ہوجائیں اور فرصت ملے تو بیچاری عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے کرب سے نجات دلا دیں تو یہ آپ کا اس مظلوم ( ہجوم) پر بڑا احسان ہوگا. جو بجلی کی بندش اور سردی کی شدت کی وجہ سے اکڑ چکی ہے. جن کے نونہالان قوم ہاتھوں میں کتابیں تھامے بجلی کی آمد کے منتظر ہیں کہ وہ تیاری کرکے امتحانات پاس کر کےاندھیر ے میں بھٹکتے اپنے ارمانوں کو تلاش کرکے اپنا مستقبل تابناک بنا سکیں. حکمرانو ¡ اس بیچارے چھوٹے تاجر کی خبر بھی ضرور لینا جو دن بھر بازار میں کھجل خوار ہو کر رات کے سمے میں دامن میں ہزاروں ارمان سمیٹ کر خالی ہاتھ گھر لوٹنے پر مجبور ہوا .ٹھنڈے چولہوں . اشک زدہ آنکھوں .کٹتے فاقوں .سسکتے ارمانوں کا تمہیں اس عدالت میں ضرور حساب دینا پڑے گا جہاں دیر تو ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں ،