جتھے دی کھوتی اتھے آن کھلوتی

64

تحریر: سید عمران حمید گیلانی جرنلسٹ باغ آزاد کشمیر
باغ گزشتہ ایک ہفتہ سے شدید لوڈ شیڈنگ کی زد میں رہا عوام بیچارے شدید سردی میں ٹھٹھرتے کانپتے رھے جبکہ محکمہ برقیات جسے واپڈا کی آشیرباد حاصل تھی عوام کو سہانے سپنے دکھائے جاتے رھے کہ باغ گرڈ سٹیشن پر بڑا ٹرانسفارمر نصب کیا جا رہا ہے کیونکہ سابقہ ٹرانسفارمر موجودہ بڑھتے ہوئے لوڈ کو برداشت نہیں کر پا رہا بار بار ٹرپ ہونے سے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے .لوڈ شیڈنگ کے ذریعے باغ و اہلیان باغ کو گپ اندھیرے میں ڈبونے.چھوٹے تاجران کا معاشی قتل اور ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل کو تاریکیوں میں دھکیلنے کا ایک اچھا بہانہ تھا جسے محکمہ برقیات و اپڈا نے ترتیب دیا .

ایک ہفتہ کے کرب کے بعد جب بجلی کی بجائے بلی تھیلے سے باہر آئی تو برقیات والوں کے سارے راگ دعوے اور اعلانات محض سمندر کی جھاگ ثابت ہوئے.انکشاف ہوا جسے نوا نکورا(نیو) سمجھ کر ہمارے محکمہ برقیات کے بہادر و جری سپاہی باغ والوں کی قسمت بدلنے انکے بخت جگانے و چار سو روشنیاں بکھیرنے کیلئے جس بیچارے ٹرانسفارمر کو عجلت میں اٹھا لائے تھے اسے پہلے ہی انہی کے محکمہ(پیٹی بھائی) کنڈم کرکے کچرے کے ڈھیر پر پھینک گئے تھے اگر یہ سچ ھے تو پھر باغ گرڈ سٹیشن پر کئی دنوں سے چلنے والے ٹوپی ڈرامے کا ڈراپ سین کیا ہوگا ۔۔؟ ڈرامے میں رنگ بھرنے کیلئے جو قومی وسائل ضائع کئے گے ان کا حساب کون دے گا اور احتساب کون کرے گا ؟

کیا غربت مہنگائی بیروزگاری اور سردی سے عاری بیچاری عوام کا پھر امتحان ہوگا کہ وہ پھر سڑکوں پر نکل کر اپناحق لیں یا پھر ہمارے عوامی نمائندگان ( معزز وزراء کرام. ڈسٹرکٹ و لوکل کونسلرز جنہیں عوام نے اپنا مینڈیٹ دیکر سر آنکھوں پر بٹھایا کوئی کردار ادا کرنے نکلے گے اور دئیے گے عوامی مینڈیٹ کا حق ادا کرکے اپنی دنیا و عاقبت سیدھی کریں گے ؟ یا پھر وہ عوامی ادارے و انتظامیہ خواب غفلت سے جاگے گی جن کے پیٹ جن کے خاندان عوامی ٹیکسزز سے ادا کی جانے والی تنخواہوں سے بھرتے و پلتے ہیں اب عوام کو یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے حکمران و مسیحاؤں کے علمبردار پہل کرتے ہیں یا پھر عوامی اداروں و انتظامیہ خواب غفلت سے جاگتی ہے یہ عوام کے مفادات کیلئے لڑی جانے والی جنگ( جدو جہد) ھے دیکھتے ہیں کون میدان میں اتر کر عوام کو حقوق دلوا کر ان کے دلوں اور ذہنوں پر راج کرتا ہے اس کھرے کھوٹے کی کشمکش میں کون عوام کا سچا مسیحا و معاون ثابت ہوتا ہے ؟ حکمران و سیاست دان یا پھر پبلک ادارے و انتظامیہ .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں