فروری یوم یکجہتی کشمیرابتدا سے یہاں تک

85

ابتدا،سید مظہر گیلانی
انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ بدنام زمانہ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ء کو کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا۔ 1931کو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں 22 مسلمان شہید اور 47 شدید زخمی ہوئے اس واقع پر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے ”کشمیر کمیٹی“قائم کی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔1931ء میں ”تحریک الاحرار“ نے غیر مسلح جدوجہد اور سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔جس کے نتیجے میں ”گلینسی کمیشن“ قائم کیا گیا۔ 1934ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ڈوگرہ راج کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔1946ء میں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔ مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے جولائی1947ء کو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان “منظور کی۔

قیام پاکستان کے بعد جب ہر دو فریقین کی طرف سے کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو کچھ تاریخ دانوں کے مطابق مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد اور کچھ کے مطابق سردارعبدلقیوم خان (جو کے اس بنا پر مجاہد اول) کے لقب سے ملقب ہیں کی قیادت میں 23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے مقام سے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ۔ 15 ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔جس کے نتیجے میں پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ جا پہنچے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔سلامتی کونسل کی ان قرار دادوں میں کشمیریوں سے وعدہ کیا گیا انہیں رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گالیکن اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے بجائے ہندوستان نے مسلم تشخص کو ختم کرنے کیلئے تقسیم کے وقت ساڑھے تین لاکھ کشمیریوں کو صرف جموں میں شہید کیا ۔ 13 نومبر 1947ء کو شیخ عبدالله نے اندرا گاندھی کے ساتھ مل کر ایک معاہدہ طے کیا جو تاریخ میں (اندراعبدالله ایکارڈ) کے نام سے موسوم ہے۔ دہلی ایکارڈ جیسی سودے بازی کے تحت ہی شیخ عبدالله کو کانگریس نے بغیر کسی الیکشن کے سری نگر کے تخت پر مسلط کر دیا –

25 فروری 1975ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر میں بروز جمعتہ المبارک مکمل ہڑتال کی کال دی۔ زبردست اور تاریخی ہڑتال ہوئی اور سری نگر کے لال چوک میں کشمیری عوام نے ایک مرتبہ پھر سبز ہلالی مرچم لہرایا دیا ۔ بھارت نے 4 اور13 مارچ 1975ء کو بالترتیب بھارتی لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے اس معاہدہ کی توثیق کروائی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور شملہ معاہدے کے مندراجات کی خلاف ورزی ہے۔1981ء میں جب ریاستی اسمبلی کے انتخابات کا اعلان کیا گیا تو تمام کشمیری سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے ذریعے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔مسلم متحدہ محاذ کے راہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ الیکشن جیت کر ہندوستان کے ساتھ الحاق کی اس قرار داد کو ریاستی اسمبلی میں نامنظور قرار دیں گے۔ حریت کانفرنس کے سربراہ سید علی گیلانی اور جہاد کونسل کے صدر سید صلاح الدین نے بھی ان انتخابات میں حصہ لیا۔23 مارچ 1987ء کو ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کی واضح اور فیصلہ کن فتح کو دھونس اور دھاندلی کے ذریعے شکست میں تبدیلی کرکے ہندوستان نے کشمیری عوام کی پرامن ذریعے سے تبدیلی لانے کی خواہش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کردیا۔

مسلح جہدوجہد کا آغاز
یہی وہ نقطہ آغاز تھا کہ جمہوری طریقے سے جدوجہد کرنے والے اور انتخابات میں حصہ لینے والی قیادت مسلح جدوجہد شروع کرنے پر مجبور ہوگئی۔ 1989ء میں جب کشمیری حریت پسندوں نے ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی بے حسی سے مجبور ہوکر مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا تو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کشمیری عوام اس طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ ہندوستان نواز سیاسی قوتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ کسی کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں کشمیر کے انتظامی سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی بلند و بالا عمارت انہی بھارت نواز قوتوں پر آگرے گی۔شیخ عبداللہ جس نے کشمیریوں کے دلوں پر برسوں حکومت کی اور”شیر کشمیر “ کا لقب پایا۔ وہی شیخ عبدالله ”اندرا عبدالله ایکارڈ“ کے بعد”غدار کشمیر“ قرار پایا۔دہلی کی تہاڑ جیل میں”شہید کشمیر“ مقبول بٹ نے اپنے خون سے جس انقلاب کی بنیاد رکھی اسے کشمیر اور پاکستان حریت پسندوں نے اپنے خون سے آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔ ہندوستانی سرکار کے اعصاب شل ہوئے تو حریت پسندوں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کریک ڈاؤن اور خواتین کی عصمت دری معمول بن گئی۔ جس کے ردعمل میں کشمیر سے پہلے درجنوں پھر سینکڑوں اور بعد میں ہزاروں افراد کے قافلے کنٹرول لائن کوعبور کرکے آزاد کشمیر پہنچنا شروع ہوگئے۔

امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے ایک ماہ کا وقفہ دے کر 5 فروری کو ہڑتال کی اپیل کرکے یوم کشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس کی بھرپور تائید کی۔یوں 1989ء کو یوم کشمیر پہلی مرتبہ اور 1990ء کو تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر منایا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ 40 برسوں سے 5 فروری کو آزاد و مقبوضہ کشمیر ‘ پاکستان اور دنیا بھر میں موجودہ 30 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر سال یوم کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔آزاد کشمیر اور ملک بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے کشمیری حریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوکر اپنی جانیں نچھاور کیں۔پاکستان کی مختلف حکومتیں اور یوم یکجیتی کشمیر- پاکستان میں چائے کسی بھی سیاسی پارٹی کی حکومت رہی ہو مسئلہ کشمیر داخلی اور خراجی ہر دونوں سطح پر یمیشہ سرفہرست رہا ہے-جس بنا پر’کشمیریوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پاکستان ان کا خیر خواہ ہی نہیں ہے بلکہ اس تنازعے کا ایک فریق بھی ہے-پاکستان کے بیانیہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں -پاکستان سات دھائیوں سے پوری دنیا کو بتاتا چلا آ رہا ہے کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے .
کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے -کچھ آذادی پسند بلکے علحیدگی پسند پاکستان کے اس موقف کو کشمیر قوم کے ساتھ ایک سنگین مذاق قرار دیتے ہیں-

وہ سوال اٹھاتے ہیں ؟؟؟ کہ بیشتر کشمیری تنظیمیں پاکستان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے بھارت سے جنگ کیوں نہیں کرتا؟؟؟؟کشمیریوں کو اسلحہ کیوں نہیں فراہم کرتا؟؟؟ یا کشمیر کو حاصل کرنے کا روڈ میپ کیوں نہیں مرتب کرتا؟؟؟ مگر پاکستان جس طرح اپنا قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہا ہے وہ پاکستان کی موجودہ صورت حال اور عالمی سیاست کے تقاضوں کےعین مطابق ہے۔گلوبل ویلج میں اس وقت تمام بین الاقوامی ایشوز پر سب سے زیادہ اثر رسوخ عالمی رائے عامہ کا ہے-عالمی راے عامہ ہموار کرنے کا جو کام پاکستان اس وقت کر رہا ہے وہ اگر چہ اس کو پہلے کرنا چاہیے تھا- لیکن دیر آید درست آید .بھلے ہی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں وقت لگ جائے البتہ سیاسی مسئلے کو عالمی ایوانوں میں لا کر اور اقوام عالم کو اپنے موقف پر مائل کرنے میں کتنا ہی وقت درکار کیوں نہ ہو صحیح طریقہ کار اور پالیسیوں میں تسلسل کو جاری رکھنے کا عزم ہو تو دنیا کا ہر مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال میں پاکستان اب اس مسئلے کو سلجھانے میں صیح کردار ادا کر رہا ہے۔میں جانتآ ہوں کہ بیشتر لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے مگر جنگ اور قتل وغارت گری کے بغیر اگر کسی کے پاس مسئلے کے حل کا کوئی اور طریقہ کار ہو تو وہ سامنے لائے -اگر جنگ کی طرف جایا جائے تو کشمیر تو کجا ہندوستان اور پاکستان کا اپنا وجود ہی صفہ ہستی سے مٹ جائے گا یوں کشمیر کشمیر کی آذادی کا خواب ہندوستان اور پاکستان مسلہ کشمیر سے منسلکہ تمام فریقیں کا ذکر براعظم افریکا اور یورپ کی لائبریوں کی بوسیدہ کتابوں میں کہیں ملے تو ملے کہا نہیں جا سکتا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں