ایک آرزو اور یکجہتی کا دن

64

کھری بات ، راجہ عمر فاروق
محکوم اور مظلوم اقوام کی تحریکیں، جانوں کے نذرانے اور شہدا کے لاشے، خون میں لے پت شہیدوں کا لہو، ماؤں کی چیخ وپکار، بہنوں کا ماتم، باپوں کا سینہ کوبی، آنکھوں کے آنسو اور چیخ وپکار کی سدائیں، یہ آزادی کی آرزو اور جستجو کہ علامات، اقوام عالم کی خاموشی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر، کشمیریوں سے محبت، عقیدت اور یکجہتی کا دن ہے، آج کے دن پوری دنیا کے مقیم کشمیری و پاکستانی اور سرحدوں کے آرپار کشمیری ایک دوسرے سے یکجہتی کا اظہار کر کے ” کشمیر بنے گا پاکستان” کا نعرہ لگاتے ہیں، پاکستان کا مطلب کا “لااللّٰہ الاالہ” کا نعرہ دہراتے ہیں، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا ” کشمیر پاکستان کی شہ رگ” اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، گزشتہ پچہتر سالوں سے کشمیری قوم اپنے حق استصواب رائے کے لیے نام نہاد جمہوریت کے علمبردار بھارت کے سامنے سینہ تان اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، کشمیریوں نے ہر دن بھارت کے ظلم و بربریت کو برداشت کیا اور “پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگا کر بھارتی حاکموں کو اپنا فیصلہ سنا دیا، کشمیری قوم وہ قوم ہے جس نے ساڑھے سات دہائیوں سے بھارتی افواج کے قتل ع غارت گری برداشت کی اپنے ہاتھوں سے اپنے جوانوں کے لاشے اٹھائے، اپنی ماؤں کی چیخ وپکار پر صبر و تحمل اور استقامت کا مظاہرہ کیا، بہنوں کی عصمت دری پر اقوام عالم میں آواز اٹھائی لیکن اقوام عالم کے ایوانوں میں بیٹھ ہوئے عالمی لیڈران نے ان کی چیخ وپکار پر خاموشی اختیار کیے رکھی، سناٹے اور ہو کا عالم ان ایوانوں میں چیخ وپکار کر کے چپ کر جاتا ہے لیکن دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے کان پر جونک تک نہ رینگی، یہ ستم اور ظلم و بربریت اگر انگریزوں کے کتے سے بھی ہو جاتا تو آسمان سر پر اٹھا لیتے وہ بھارتی ظلم و جبر پر اقوام عالم کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے لیکن یہاں پر قتل مسلمانوں کا ہو رہا ہے، انکی آوازیں انکے کانوں تک نہیں پہنچ رہی اگر پہنچ بھی جائیں تو رسمی مذمت کر کے چپ کر جاتے ہیں۔ یہ اقوام عالم کی خاموشی کا عالم ہے۔

پانچ فروری مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے عالمی دن کے طورپر منایا جاتا ہے۔یہ بھارت کے ظلم و استبداد اور ہٹ دھرمی کے خلاف کشمیریوں کی لازوال جہدوجہد آزادی کی حمایت میں تجدید عہد کا دن ہے۔ یہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھرمیں جوش وجذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے اور آزادی کے متوالوں مظلوم کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت کے تسلط سے کشمیر کو آزادی دلانے میں وہ تنہا نہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے حالات کے تناظر میں گزشتہ کئی سالوں سے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ 5 اگست 2019 کومودی سرکارنے جموں وکشمیر کی مقبوضہ وادی کو دنیا کی سب بڑی جیل میں بدل دیا ہے ۔ 4 سال پانچ ماہ گزرنے کے باوجود 80 لاکھ سے زائدمسلمان آبادی تمام بنیادی سہولتوں ا، انسانی حقوق سے محروم اور محاصرے کی کیفیت میں ہیں ۔ وادی کے عوام کی زندگی 9لاکھ بھارتی فوج کے ہاتھوں اجیرن ہو چکی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود کشمیریوں نے اپنی قربانیوں سے مسئلہ کشمیرزندہ رکھا ہوا ہے ۔ بھارت کا کوئی ظلم و جبر ان کے جذبۂ مزاحمت کو ختم نہیں کر سکا ۔وہ جدوجہد آزادی کو جاری رکھے ہوئے ہیں پاکستانی قوم نے بھی اپنے کشمیری بھائیوں کی پشت بانی میںکبھی کمی نہیں آنے دی۔ اپنے دلی جذبات کے اظہار کیلئے ہر سال 5 فروری کو گلی کوچوں میں سڑکوں، چوراہوں پر کشمیریوں کی جہدوجہد آزادی سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

جماعت اسلامی جس کا کشمیری مسلمانوں کی جہدوجہد آزادی سے دیرینہ تعلق ہے اور 5فروری کے یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز بھی سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد مرحوم کی کوششوں کا مرہون منت ہے اس وقت کے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے ایک ماہ کا وقفہ دے کر 5 فروری کو ہڑتال کی اپیل کرکے یوم کشمیر منانے کا فیصلہ کیا۔ پہلے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں نواز شریف اور بعد میں وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس کی بھرپور تائید کی۔ یوں 1989ء کو یوم کشمیر پہلی مرتبہ اور 1990ء کو تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشتڈال کر منایا گیا۔ اس کے بعد گزشتہ بیس برسوں سے 5 فروری کو آزاد و مقبوضہ کشمیر ‘ پاکستان اور دنیا بھر میں موجودہ 15 لاکھ سے زائد کشمیری تارکین وطن ہر سال یوم کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ آزاد کشمیر اور ملک بھر سے ہزاروں نوجوانوں نے کشمیری حریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوکر اپنی جانیں نچھاورکیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوری1989ء سے 31 دسمبر2010ء تک غاصب ہندوستانی افواج نے 99,553 کشمیریوں کو شہید کردیا جن میں 6,892 کو زیر حراست قتل کیا گیا۔ 23768 خواتین بیوہ اور 120,232 بچے یتیم ہوئے۔ گزشتہ دوعشروں میں ہندوستانی افواج کے ہاتھون کشمیری خواتین کی عصمت دری کے 10899 واقعات ہوئے جب کہ 105,901 مکان اور گھروں کو ہندوستانی قابض افواج نے جلا کر خاکستر کیا۔ اس قدر ظلم و بربریت کے باوجود کشمیر سینہ تان پر اپنے حق خود ارادیت کے لیے کھڑی ہے اور اپنے استصواب رائے کے لیے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے۔ پانچ فروری یوم یکجہتی کے دن پوری دنیا کے مسلمان یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں ۔حکومتی سطح پر بھی یہ دن منایا جاتا ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری و پاکستانی قوم اپنے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیر قوم سے اظہار یکجہتی اور بھارتی ظلم و جبر پر احتجاج کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں