کشمیر اور قائد اعظم کی حقیقی محبت

92

تحریر: بابر منہاس
جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے اسکا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ یکجہتی کشمیر کے دن کی مناسبت سے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی کشمیر سے محبت ، وابستگی اور اہمیت کے چند ایک واقعات کا تاریخ کے دستر خوان سے اعادہ کیا جانا ضروری ہے۔ معروف مصنف منیر احمد منیر اپنی تصنیف ” دی گریٹ لیڈر” میں قائداعظم کے ۱۹۴۴ کے دورہ سرینگر کے دوران کے واقعات جو کہ خورشیدالحسن خورشید مرحوم نے ۱۹۷۶ میں انٹرویو کی شکل میں ریکارڈ کروائے ، لکھتے ہیں کہ”قائد اعظم کے اعزاز میں میر واعظ مولوی محمد یوسف شاہ صاحب نے کشمیر کے روایتی انداز میں میر واعظ منزل میں کھانا دیا جس میں مسلم کانفرنس کے اجلاس میں شامل ہونیوالے مندوبین حضرات بھی مدعو تھے۔ اس موقع پر میر واعظ نے قائد اعظم کو ایک کشمیری شال تحفتا پیش کی اور جب اسے کشمیری انداز میں قائد اعظم کے کندھوں پر ڈالا تو قائد اعظم نے مسکر ا کر کہا:”بھائی اب میں بھی کشمیری بن گیا ہوں” حقیقت یہ ہے کہ انہوں یہ فقرہ اس وقت برجستہ اور ازراہِ تفنن ہی فرمایا تھا لیکن اسکے بعد سے کشمیر کے ساتھ انکی دلچسپی، انکی وابستگی اور کشمیر کے مستقبل کے بارے میں انکو جو فکر دامن گیر تھی وہ کشمیری لیڈروں کو بھی نہ تھی۔ اپنے آخری وقت میں جبکہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھے باربار کشمیر کا ذکر کرتے رہے، جسکا تذکرہ قائدِاعظم کے ذاتی معالج کرنل ر الہی بخش مرحوم نے اپنی کتاب ” قائدِاعظم کے آخری ایام” میں قلمبند کیا ہے۔ انکا آخری فقرہ جو سنا گیا وہ یہی تھا کہ ” آج یو این او کے کشمیر مشن والوں نے مجھے سے ملنے کیلیے آنا تھا لیکن وہ اب تک کیوں نہیں آئے”۔ اس موقع کی مناسبت سے کچھ تاریخی مغالطوں کا پردہ چاک کرنا بھی ضروری ہے۔ قائد اعظم کو سرینگر کے دورے کی دعوت ریاستی حکومت کے وزیر اعظم سر بینی گال نرسنگھ راؤ (جو مہاراجہ کا نامزد کردہ تھا)، نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی طرف سے تھی اور جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ شیخ عبداللہ کو قائد اعظم سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی.

انکے لیے عرض ہے کہ اس دورے کے دوران شیخ عبداللہ کی نصف درجن سے زائد ملاقاتیں ہوئیں اسکے علاوہ نیشنل کانفرنس کے جلسے میں سپاسنامہ بھی شیخ عبداللہ نے پیش کیا۔ ۱۷ جون ۱۹۴۴ کو سرینگر کی جامع مسجد سے متصل مسلم پارک میں مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے شیخ عبداللہ کو بے نقاب کیا اور اپنی تقریر میں فرمایا ” شیخ صاحب چاہتے ہیں جسطرح ہندوکانگریس مسلمانوں کو بر صغیر میں نیشنلزم کے نام پر دھوکہ دے رہی ہے اور اسطرح سے ہندو اکثریت کی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے ، میں بھی کشمیر میں نیشنلزم کے نام پر ہندو اقلیت کو دھوکہ دے کر مسلمانوں کی اکثریت کی حکومت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔شیخ عبداللہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں ہندوستان میں ایک اصول پر عمل کروں اور کشمیر میں دوسرے اصول پر ، اور تم کیا سمجھتے ہو ہندوستان کے ہندو لیڈر جو برصغیر کے مسلمانوں کو دھوکا دے رہے ہیں تو کیا وہ تمہیں دھوکا نہیں دے رہے۔ عبداللہ تم میرے بچوں کے برابر ہو تم ہندوؤں کو نہیں جانتے میرا ساری عمر ان سے واسطہ رھا ہے، میں انکی ذہنیت، انکے مقاصد ، انکے تعصبات اور انکے تصورات کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ عبداللہ تم دھوکا کھا جاو گے، باز آجاؤ اور مسلم کانفرنس کا ساتھ دو۔ شیخ عبداللہ تو شاید برملا اعتراف کر سکے یا نہیں لیکن پانچ اگست ۲۰۱۹ کی آئینی اور انتظامی دہشت گردی کے بعد شیخ عبداللہ کے بیٹے فاروق عبداللہ نے ہندوؤں کی متعصبانہ ذہنیت کا نہ صرف کھلے عام اعتراف کیا بلکہ برصغیر کی تقسیم کو قائد اعظم کی بصیرت اور دوراندیشی کا مظہر قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے زیر التوا تنازعات میں کشمیر سب سے پرانا اور حل طلب مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تشویشناک مسئلہ بھی ہے۔ تین اگست ۲۰۱۹ کی آئینی اور انتظامی یلغار اور بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مودی حکومت کے آئین کی شق ۳۷۰ اور ۳۵ اے کے خاتمہ کو گزشتہ سال درست قرار دینے کے فیصلے کے بعد ریاست جموں کشمیر کے مظلوم اور نہتے عوام پر ہر طرح کے ظلم و بربریت کے ہتھکنڈوں کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہے۔ عملا ۸۰ لاکھ کی مسلم آبادی محصور ہے، سیاسی اجتماعات اور نماز جمعہ پر مکمل پابندی ہے،مواصلاتی نیٹ ورکس کا بلیک آوٹ ہے ، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہے۔اور ریاست کے اندر عملا کرفیو نافذ ہے۔دس لاکھ بھارتی فوج وادی کے اندر موجود ہے جو تشدد ، نوجوانوں کو غائب کرنے ،عصمت ریزی سمیت وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے اقدامات میں مصروف عمل ہے۔ تاریخی عمارتوں ، سڑکوں اور جگہوں کے نام تبدیل کر کے تاریخ کو مسخ کرنے کا تاریخی کھلواڑ مقبوضہ کشمیر میں توایک عرصے سے جاری تھا ہی اب یہ عمل بھارت کے اندر بھی تیزی سی شروع ہے۔ حال ہی میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے افتتاح کو مودی نے اپنی آئندہ کی الیکشن مہم کا نقطہ آغاز گردانتے ہوئے اس کو ملکی سطح کا ایونٹ بنایا جس سے ہندو توا کے آئندہ کے ایجنڈے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اکیسویں صدی میں تجارت اور معشیت کو انسانیت پر فوقیت حاصل ہے جسکی تازہ مثالیں غزہ کے مظلوم فلسطینی اور مقبوضہ کشمیر کے مجبور عوام ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان ہی کشمیریوں کا وکیل اور سفیر ہے، اور معاشی و سفارتی لحاظ سے مضبوط پاکستان ہی اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوُں کے مطابق حل کروانے میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔اس موقع کی مناسبت سے اگر پاکستان خود یا او آئی سی تنظیم کے کسی ممبر ملک کی جانب سے ساوتھ افریقہ کی طرز پر عالمی عدالت انصاف میں مقبوضہ کشمیر میں جاری نسل کش اقدامات کے حوالے سے مکمل تیاری اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ مقدمہ دائر کرے جسکے بارے میں جینو سائڈ واچ کے بانی صدر ڈاکٹر گریگوری نے خبردار کیا ہے کہ ” نسل کشی محض ایک واقع کے نام نہیں ہوتا بلکہ یہ اس طریقہ کار کا نام ہے جسکے تحت مختلف مراحل سے گزر کر حتمی نسل کشی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں اور کشمیر کے اندر مودی نے یہ عمل شروع کر رکھا ہے” تو یہ اقدام حقیقی معنوں میں سرینگر میں بیٹھے مظلوم مگر بہادر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا عملی اظہار ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں