لڑائی

85

تلاش/سید خالد گردیزی
ملک بھر کے نوجوان قابل تعریف ہیں جو پارٹی قیادت اور انتخابی نشان حتیٰ کہ وسائل کے بغیر قومی انتخابات میں منظم اور سائنسی انداز میں حصہ لیکر سیاسی اکھاڑے میں بھونچال لے آئے۔یہ نوجوانوں کا ایسا سیاسی دستہ ملک و قوم کو میسر آ گیا ہے جس نے نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کو بھی اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔اس پڑھے لکھے نوجوان سیاسی دستے نے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑائی میں فتح سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہے۔بے دست و پا لڑائی میں فتح کی امید کی اپنی سرشاری ہوتی ہے جس نے سٹیبلشمنٹ کے زیر اثر کارپوریٹ سیاسی کلچر کے تابوت میں کیل ٹھونک دی ہے۔

اس موقع پر ترجیح اگر پاکستان ہے تو پھر ہوش کے ناخن لیتے ہوئے نوجوان نسل کی اس محنت اور مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور 1970 برپا نہ کیا جائے۔پاکستان کے بہتر مستقبل کے لئے اس نسل کے پاس فیصلہ کرنے کا ایک فورم یہ الیکشن تھا جس پر ان کے مینڈیٹ کو بلڈوز کرنے کے تمام حربے اختیار کرنے کا تاثر اپنوں اور غیروں کے دلوں میں پیوست ہو گیا ہے جس کے باعث انتخابات کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

اب یہ نوجوان نسل اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کرنے کے لئے دوسرے فورم یعنی عدالتوں کا رخ کریگی جہاں انہیں ریلیف ملنا چاہیے۔اگر اس فورم پر بھی ان کے ساتھ نا انصافی ہوئی تو پھر علم و ہنر سے لیس اس سیاسی دستے کے پاس تیسرا فورم اس ملک کی سڑکیں بچ جاتا ہے جہاں ریاست کسی بھی صورت میں ان سے لڑ نہیں پائے گی اور نہ ہی یہ لڑائی اس نوبت تک پہنچنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں