الیکشن 2024

57

تحریر:اظہر اعجاز
پاکستان کے پارلیمانی نظام کی اپنی ایک منفرد تاریخ ہے .جس میں کئی نشیب و فراز آئے .اس جمہوری نظام کو کبھی چلتے چلتے مارشل لاء کی نظر بھی کیا گیا. آئین توڑ دیا گی.ا منتخب حکومتوں اور منتخب وزراء اعظم کو گھر بھیجا گیا. اسی کے ساتھ ساتھ کچھ جدوجہد میں اپنا خون بھی پیش کر گئے اگر محترمہ بینظیر صاحبہ کی شہادت کو دیکھیں تو یہ جمہوریت کی جدوجہد تھی لیکن اس بچاری نے اپنی جان قربان کر دی تھی اس جمہوری نظام کی جدوجہد میں میاں نواز شریف کو تین مرتبہ اقتدار سے الگ کر دیا گیا. جب انہیں دو تہائی عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار ملا تھا .سید یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے ذریعے باہر کیا اور پھر عمران خان کو عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کر دیا گیا. یہ بڑے نشیب و فراز دیکھنے کو ملے اور پھر چلتے چلتے ایسا بھی ہوا کہ 2024 میں ایک نئے الیکشن ہوتے ہیں اور ماضی کی طرح جیسے نواز شریف کو گرفتار کر کہ الیکشن 2018 لڑایا گیا اور اس بار عمران خان کو سزا سنا کر اور الیکشن سے باہر رکھ کر الیکشن لڑایا گیا ایک ایسا الیکشن کے اسکی پارٹی کو الیکشن لڑنے ہی نہیں دیا گیا اور اسکے امیدوار آزاد طور پر الیکشن میں اترے نہ نشان نہ پارٹی نہ جھنڈا لیکن اسکے باوجود ورکروں کی حکمت عملی کہوں جذباتی جنون کہوں لیکن ایک ایسی مثال کے آزادانہ ہر جبر کے بعد وہ ایک اکثریت جو کسی بھی طرح سے توقع نہیں کی جارہی تھی لیکن وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے کسی کی کیا اس میں مصلحت تھی اس آزادانہ ماحول کا مقصد کیا ہے یہ سوال مستقبل کے حالات پر چھوڑتے ہوئے آگے چلتے ہیں.

راقم خود اس بات سے اتفاق نہیں کر رہا تھا کہ ایک طرف الیکشن ہو رہے ہیں اور دوسری طرف ایک ملک کے جائز تھے یا ناجائز تھے لیکن وزیرآعظم ضرور تھے جناب عمران خان اسکو اور اسکی ٹیم کو جو ٹارچر کیا جارہا تھا یہ کسی بھی صورت سے جمہوری معاشروں کے عکاس نہیں تھا اگر عمران خان غلط ہی سہی لیکن اسکی پارٹی یا پارٹی کا نشان تو ضرور ہونا چاہیے تھا لیکن اسکے باوجود ملک بھر میں اس ریفرینڈم کو اب کیا نام دیا جائے گا یہ بھی ایک سوال ہے جو یار لوگ کیسے عوام کو دیں گے.البتہ تحریک انصاف کے تمام نظریاتی ورکروں کو ضرور مبارکباد بھی دیتا ہوں اور شاباش بھی کہ نظریے پر کھڑے رہے اور اپنا مینڈیٹ زبردستی حاصل کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مینڈیٹ وعدہ معاف گواہ کی طرح ہو گا یا پھر واقعی مینڈیٹ ہی رہے گا لیکن وہ ورکر جو ووٹ اور نظریے دونوں کو مقدم سمجھ کر عمران کیساتھ کھڑے رہے وہ واقعی سلام کے قابل ٹھہرے وہ نہیں جن کا ووٹ کسی اور پارٹی کا نکلے اور باتوں میں عمران خان عمران خان کرتے چلے جارہے ہوں ان سے کم از کم میں متاثر نہیں.

البتہ پی ٹی آئی ورکروں کو یہ مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ جو اشارے وہ دے رہے ہیں اگر وہ ہوتا تو پھر، تیس چالیس کا فگر ہی ہوتا لیکن یہ بات درست ہے کہ الیکشن کمیشن کی کمزوری مختلف میڈیا چینل کا پراپیگنڈا ابہام پیدا کرتا ہے لیکن عقل یہ کہتی ہے کہ وہ کرتے تو پھر یہ نہ ہوتا اس لیے صبر کریں ملک میں عدم استحکام پیدا نہ کرنے کی کوشش کی جائے اور میاں نواز شریف کی طرح یہی کہا جائے کہ سب کے مینڈیٹ کا احترام ہے یہی ملک کے لیے بہتر ہے. راقم چونکہ آزاد کشمیر سے ہے ریاست کی اولین سیاسی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے ہے اور مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ کا سیاسی نظریاتی تعلق کئی دہائیوں سے ہے جو کہ قائد اعظم اور چوہدری غلام عباس سے ہوتا ہوا نواز شریف اور مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب تک چلتا رہا اور آج بھی نواز شریف شہباز شریف اور سردار عتیق احمد خان تک چلتا ہے اور موجودہ الیکشن میں بھی مسلم کانفرنس بھرپور کمپین اور حمایت کرتی رہی ہے اور اسلام آباد پنڈی نارووال مہاجرین جموں کشمیر کے حلقوں میں سردار عتیق نواز شریف اور مسلم لیگ کی حمایت میں پیش پیش رہے اسی لیے راقم مسلم لیگ ن سے زیادہ عقیدت رکھتا ہے اور میاں نواز شریف کو پاکستان کی ترقی کی امید سمجھتا رہا ہے اس لیے خواہش اور نیک تمنا مسلم لیگ ن کے لیے ضرور تھیں اور ہیں لیکن میاں نواز شریف کو وہ مینڈیٹ نہیں ملا جو انکے شیان شان تھا نواز شریف نے قوم کی خدمت کی ہے اور ملک بھر میں ترقی کے جال بچھا رکھے ہیں انکا دور عوام کے لئے بہتر دور تھا لیکن یہ کیا مصلحت تھی کہ میاں صاحب وہ مینڈیٹ نہیں لے سکے کیا چودہ ماہ کی حکومت جو کہ نواز شریف کے نا چاہتے ہوئے بنی اس میں تمام پچھلی حکومت کی ناقص پالیسیاں انہوں نے اپنی گلے میں ڈال کر آج اس مینڈیٹ کا سامنا کیا؟؟؟ دوسرا میاں نواز شریف برے سے برے حالات میں بھی پاکستان کی سیاست میں اتنی اثرانداز ضرور ہوتے تھے کہ وہ سو کا فگر آسانی سے لے جاتے تھے لیکن یہ عوامی انتقام ان میرے دوستوں اور قابل احتراموں کے لیے ضرور اشارہ ٹھہرہ جنہوں نے سمجھا کہ پاکستان میں ہماری مرضی ہمارا راج لیکن اللہ کے بعد طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں یہ بات درست تھی ہے اور رہے گی اور اسی میں ملک کی سلامتی ہے جب عوام کو دیکھتے ہوئے فیصلے لیے جائیں.

اس سارے پراسیس تھوڑے مینڈیٹ کے باوجود پاکستان مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں نظر آرہی ہے اس لیے کہ سابق صدر زرداری جو سیاست کے امام سمجھے جاتے ہیں انکی دوراندیشی اپنی جگہ سٹینڈ کرے گی کیونکہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں رہنا زرداری صاحب کبھی بھی موقع کو جانے نہیں دیں گے دوسرا انکی خاصیت بھی ہے کہ وہ مفاہمت کے قائل ہیں اور حالات کے مطابق فیصلہ کرکے سب کو خوش رکھنا بھی جانتے ہیں اور اس میں کمال مہارت بھی رکھتے ہیں اور اگر یہ بھی کہوں تو غلط نہیں ہو گا کہ پچھلی بار کی طرح یہ آمدہ وزیرآعظم بھی زرداری صاحب کا ہی نامزد ہو گا یا ہو سکتا ہے اور زرداری صاحب اور نوجوان لیڈر بلاول اس بات کے لیے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کی بھرپور کمپین کی اور جس پیپلزپارٹی کو صرف سندھ کا سمجھا جاتا تھا وہ پیپلز پارٹی ہر صوبے میں اپنی وجود دکھانے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئی اور اگر بلاول اسی طرح چلتے رہے تو وہ ضرور جیالوں کے وزیرآعظم ثابت ہونگے.
آئیے دیکھتے ہیں کہ نیا منتخب مینڈیٹ کیا کرتا ہے اور کہاں تک چلتا ہے اور اپنا کتنا احترام کرواتا ہے مستقبل پر چھورتے ہوئے اجازت اللہ نگہبان.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں