جاگتی آنکھیں ،سردار کامران غالم
ہم سب پیدا ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں۔کیا ہم نہیں مرتے؟ہم سب مرتے ہیں مگر چند لوگ نہیں مرتے،وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔وہ تاریخ کے چمکدار صفحات پر زندہ رہتے ہیں۔ان کی زندگیاں لاکھوں مظلوموں کیلے مشعل راہ،راہنمائی،حوصلہ اور آزادی کے نظریات کیلے مثال بن جاتی ہیں۔ان کی آوازیں سبزازاروں،مرگزاروں،آبشاروں اور بہاروں میں سنائی دیتی ہیں۔ان کی صدائیں صحراؤں کو نخلستان کا پیغام دیتی ہیں۔ان کے گونجتے ہوے آزادی کے نعرے ظلم کے دہکتے ہوے صحراؤں کی حدت سے ٹکرا کراسےٹھنڈی باد صبا میں تبدیل کرنے کا جگر رکھتے ہیں۔یہ لوگ کمال حوصلہ رکھتے ہیں،ذاتی زندگی کی کامیابیاں ان کیلے اپنے قومی آزادی کے خواب کے آگے خاک راہ بن کے رہ جاتی ہیں۔ان کی جدو جہد،بلند ہمالیہ حوصلے اور قومی شعور کے آگےتکالیف اور مصائب ان کے دربار کے آگے مجاوروں کی طرح جی حضوری کرتے نظر آتے ہیں۔یہ لوگ انسانیات کی اخلاقی سمتوں کے آمین ہیں۔یہ لوگ تاریخ کے ابواب میں روشن ستارے ہیں جنہیں دیکھ کر غلام قومیں اپنی آزادی کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرتی ہیں۔
ان لوگوں کے حوصلے سڑکوں کے اوپر نعرے لگاتے،جیلوں میں قید ریاستی جبر اور استعبداد کے آگے ڈٹے رہنے والوں اور ظالموں کی بندوقوں اورتوپوں سے نکلنے والے بارودوں کے آگے دلیر اور چوڑے سینوں کیلے راہنما اصول متعین کرتے ہیں جن کی مدد سے آزادی کے متوالے قتل گاہوں کی طرف قتل گاہوں کو اپنی آنے والی نسلوں کیلے محبت،رواداری،بھائی چارے،مساوات اور انصاف کے نخلستانوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ایسے کرداروں کو جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے ملتے ہیں تو ایسا لگتا ہے یہ حقیقی کردار نہیں رہے ہوں گے۔یہ دیو مالائی کردار ہیں۔فطرت کے پاس اتنی گنجا ش نہیں کہ ایسے کردار پیدا کر سکے۔یہ کردار صرف انسانی تخیل کا شاہکار ہیں۔مثال کے طور پر ہیرکیلیس ایک ایسا کردار ہے جو کے آپ کو ٹرائے کی جنگ میں ملے گا مگر دیکھ لیجیے تاریخ کو غور سے حقیقی کرداروں سے بھری پڑی ہے. جنہوں نے تاریخ کے رخ اور دھارے کو ہی موڑ دیا۔گاندھی،جناح،منڈیلا،سباش چندر بوش،واشنگٹن،سوکھ دیو،راج گرو،بھگت سنگھ اورمقبول بٹ۔
ان کرداروں کی جدو جہد آزادی اور انسان کا انسان کے ہاتھوں استحصال کے خلاف رہی۔جاگیرداری کے خاتمے پر انسان کو کچھ آزادیاں تو نصیب ہوئیں مگرغلامی کی نئی صورتیں سامنے آئیں۔برصغیر کی آزادی کی تحریکوں میں ایک تحریک وہ بھی تھی جس کو تاریخی بددیانتی نے چھپا دیا کہ کہیں انسان یہاں کے لوکل انسان کے شکنجوں سے آزاد نہ ہو سکے۔یہ تحریک عوامی تحریک تھی اور عام آدمی کی تحریک تھی جسے بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں نے شروع کر رکھا تھا۔بھگت سنکھ 1907-09-27 کو لاہل پور، موجودہ فیصل آباد پنجاب میں پیدا ہوا اور مارچ 1931-23کو انقلاب اور بغاوت کے کیس میں لاہور میں ہمیشہ کیلے امر ہو صرف 23سال کی عمر میں آزادی کے خواب سجائے یہ انقلابی اس بظاہر اس جرم کیلے شہید ہوا کہ اس نے ایک پولیس کے آفیسر کواپنے ساتھیوں سے مل کر قتل کرنے کی سازش کی اور مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم رکھنے کی سازش میں بھی شریک رہا ۔اصل جرم حقیقی آزادی اور انقلاب تھا۔بھگت سنگھ کی تحریک اگر کامیاب ہو جاتی تو آج پورے برصغیر کی آزادی کی اصل صورت سامنے ہوتی۔
77سال سے بھی زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ آج بھی یہاں کا انسان تیسری دنیا کا انسان ہی کہلاتا ہے اور آزادی آزادی کے نعرے لگانے پر مجبور ہے۔اشرافیہ کی زندگیاں وہی ہیں اور غریب کی آزادی بھی وہی۔برصغیر کے وسائل میں کمی نہیں مگر مسائل بھی کم نہیں ہو رہے۔بھگت سنگھ اور مقبول بٹ کی شہادت میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے مگر ستم یہ ہے کہ بھگت سنگھ انگریزوں کے ہاتھوں شہید کیا گیا اور مقبول بٹ کو آزاد ہندوستان ،وہ ہندوستان جو بھگت سنگھ کو اپنا آزادی کا ہیرو مانتا ہے،نے شہید کیا،پنچرہ الگ تھا ،لاہور کے بجائے تہاڑ،تختہ دار الگ تھا اور رسی بھی،صیاد وہ بن گیا جو کل غلام تھا،آزادی کے آگے وہ کھڑا ہے جو کل اپنی آزادی کیلئے لڑ مر رہا تھا۔بھگت سنکھ کی طرح مقبول بٹ ایک نئے استعمار کے خلاف کھڑا تھا۔استعمار بھی وہ جو کل محکوم تھا اور اب ایک خطے کا ایک نیا استعمار بن کے ابھر رہا ہے۔جستجو وہی جو استعمار کی ہوتی ہے کہ خطے میں تسلط حاصل ہو سکے اور چند لوگوں کے ہاتھوں میں دولت اور طاقت کا مرکز رہے۔مقامی آزادیوں سے استعمار کی قوتوں سےذرائع پیداوار اور وسائل جاتے رہتے ہیں۔
انگریز تو چلا گیا مگر استعماری سوچ کے پنچے آج بھی سوچوں میں پیوست ہیں۔تضاد کتنا خوبصورت ہے اور کتنا بدصورت بھی،جو لوگ بھگت سنگھ ،گاندھی اورمنڈیلا کو ہیرو مانتے ہیں کشمیر پر وہی لوگ کم و بیش نو لاکھ فوج لے کر قابض ہیں۔وہی لوگ ماضی کی تاریخ میں بھگت سنگھ کے ساتھ کھڑے ہیں اور موجودہ تاریخ میں قومی مفاد کی آڑ میں استعمار بن کے مقبول بٹ اور یسین ملک کے سامنے کھڑے ہیں ۔سوال تو بنتا ہے کہ کیا اس وقت کا استعمار انگریز، برصغیر پر قبضے کے جواز پیش نہیں کرتا تھا؟قومی مفاد انہیں بھی عزیز تھا۔برصغیر سے لے کر افریقہ اور پوری دنیا میں نہ ڈوبنے والا استعماری سوچ بظاہر تہذیب پھلانا،تجارت اور برطانیہ کا قومی مفاد ہی تھا مگر پس پردہ لوٹ کھسوٹ،قبضہ،استعماری حربے اور نسلی برتری ہی تھا۔
کشمیریوں کے وسائل اور کشمیریوں کے وجود پہ تسلط قائم رکھنے کے لیے مقبول بٹ کو بھگت سنگھ کی طرح سولی پہ چڑھایا گیا مگر کیا جدو جہد ختم ہو گئی ؟ استعمار کے خلاف یسین ملک ایک توانا آواز بن کے پھر سے نہیں کھڑا ؟آج پھر سے تاریخ خود کو دہرا رہی ہے کہ یسین ملک اس صدی کا بھگت سنکھ بن کر ہندوستانی استعمار کے خلاف ڈٹا ہے مگر تاریخ پھر سے وہیں کھڑی ہے اور سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے یسین ملک کی آزادی کے لیے کیا کیا؟کیاہم نے اس کا پیغام سمجھا؟ہم پھر اس انتظار میں ہیں کہ ایک نیا استعمار پھر سے ایک انقلابی آواز کو رسی سے دبا دے اور تاریخ میں زندہ کرے؟پاکستان اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔سیاسی عدم استحکام ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ایسے میں کشمیر کے اوور سیز ڈائسپورہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے قومی قائد کے لیےمغرب اور خلیچ کے ممالک میں ان اسیران وطن کے لیے جدو جہد کریں جو آزادی کی خاطر ہندوستان کی جیلوں میں بند ہیں۔ناہید نسرین،شبیر احمد شاہ،آسیہ اندرابی،نعیمہ احمد مہجور ،یسین ملک اور جملہ قیادت کی رہائی کیلے مغربی ممالک اور آزاد کشمیر میں ریلیوں اور کنونشن کا نعقاد کیا جائے ۔دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ کو بین الاقوامی فورمز پر اپنی کاوشیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ہم تاریخ پڑھ کر صرف کرداروں پر فخر کرنے کیلے ہی پیدا نہیں ہوے بلکہ ہم بھی تاریخ کے درست سمت کھڑے ہونے کیلے پیدا ہوئے ہیں۔