پاکستانی سیاست میں خواتین کا کردار

54

تحریر : سردار احمد عباسی
سیاسی کارکن خواتین نے ملک کے قیام کی جدوجہد میں حصہ لینے کے ساتھ اسمبلی میں آنے کے بعد معاشرے کے پسے ہوئے طبقات مثلاً خواتین، اقلیتوں، خواجہ سراؤں اور معذور افراد کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کے لیے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم پارلیمنٹ میں پہنچنے کے بعد بھی خواتین ارکانِ اسمبلی کو ان کا مقام نہیں مل سکا۔ محترمہ فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹو شہید کو البتہ استثنی اسلئے حاصل ہے کہ انہوں نے بے شمار قربانیوں سے اپنی جدوجہد ہمت اور کوشش سے مردوں کے سیاسی معاشرے میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے ، پاکستان میں دن بہ دن اس بات کا ادراک بڑھ رہا ہے کہ آج کے اس جدید دور میں بھی خواتین کو سیاست اور عوامی زندگی سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اسی بناء پر حالیہ سالوں کے دوران بعض اعلیٰ عہدوں پر خواتین دیکھنے کو ملی ہیں۔ یہ سلسلہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ شروع ہوا جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ ملک کی ترقی، خوشحالی اور خطے میں امن کے لئے ان کی شاندار کوششوں کا اعتراف نہ صرف اندرون ملک بلکہ دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔، اب مریم نواز صاحبہ بھی پاکستانی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلی بننے جا رہی ہین جن سے بڑی توقعات اس مایوس اور دلدل میں پھنسی قوم کو وابسطہ ہیں.

ریاست جموں کشمیر میں بھی بے شمار خواتین کا اپنا ایک سیاسی کردار رہا لیکن محترمہ نثارہ عباسی صاحبہ نے ایک مختصر سے عرصے میں بطور ممبر قانون ساز اسمبلی بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا پوری ریاست میں منوایا ہے اور اب بطور مشیر حکومت بھی اپنی بہترین کاوش کا مظاہرہ کر رہی ہیں ،، یہ امر بڑا حوصلہ افزا ہے کہ ریاست کے نیم قبائلی معاشرے سے نثارہ عباسی جیسی باجرات ، باصلاحیت اور پڑھی لکھی وژن والی خواتین ہماری اسمبلی اور سیاست میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں، محترمہ نثارہ عباسی آزاد ریاست بھر کے طول و عرض میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہیں محترمہ نثارہ عباسی کو بطور خاص اس بات کا ادراک ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے بے شمار کام کرنے کی ضرورت ہے صرف اسمبلی میں ہی خواتین کی صرف پانچ نشستیں مخصوص ہیں جنہیں بڑھانے کی ضرورت ہے ، مردوں کے مقابلے میں ریاست بھر میں زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کے باجود ملازمتوں میں بھی انہیں وہ حصہ نہیں مل رہا جسکی خواتین حقدار ہیں ،خواتین کو باعزت روزگار ملیگا تو معاشرہ ترقی کی منازل طے کریگا .

خواتین اپنے خاندان کی کفالت میں معاون بن سکیں گی ،،خواتین کو ہنر مند بنانے کے لیے بھی محترمہ نثارہ عباسی ہمہ تن گوش مشغول ہیں اور وہ بطور مشیر حکومت ایسے منصوبہ جات شروع کروانے کی بھرپور کوشش میں ہیں کہ جسکی بنیاد پر خواتین ہنر مند اور معاشی طور پر زیادہ آزاد اور خودمختار ہو سکیں،، اسی سلسلے میں پاکستان کے حالیہ انتخابات میں بھی انہوں نے نہ صرف لیگی امیدواران کی انتخابی مہم میں کردار ادا کیا بلکہ انکی کوشش کاوش کے نتیجے میں دوہرے ووٹ کی حامل خواتین نے لیگی امیدواران کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ، بلخصوص راولپنڈی ڈویژن میں محترمہ نثارہ عباسی نے نواز لیگ کے امیدواران کے لیے کامیاب انتخابی مہم چلائی ،، اب جب محترمہ مریم نواز شریف بطور وزیر اعلیٰ منتخب ہونے جا رہی ہیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ ریاستی سیاست میں نووارد محترمہ نثارہ عباسی جیسی باجرات اور باآصول و وژن والی خاتوں بھی اپنا نام اور مقام بنائیگی .

انکی کوشش کاوش اور عوامی فلاح و بہود میں دلچسپی اور وژن کو جان کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ ریاست بھر کے لیے ایک امید کی کرن ہونگی اور جنکا فوکس ریاست کی آزادی اور خوشحالی ہوگا ، جو لوگ محترمہ نثارہ عباسی کو قریب سے جانتے ہیں وہ اس بات کی گواہی دینگے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی طرح مصائب سہہ کر لیڈر بننا نہ سہی ، مریم نواز شریف صاحبہ جیسے بھرپور وسائل اور مشکلات کا مقابلہ نہ سہی لیکن اپنی بساط اور حیثیت میں وہ بھی بڑی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل ایسی خاتوں لیڈر بن کر سامنے آ رہی ہیں کہ جنکا سیاسی کردار مستقبل میں بڑا تابناک نظر آ رہا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں