تحریر:مقصود منتظر
بچپن سے لیکر جوانی تک چوروں اور راہ زنوں کی بے شمار کہانیاں سنی اور پڑھی ہیں. ان کہانیوں کے مورل کے مطابق ماضی کے چوروں اور ڈاکوؤں کے بھی شاندار رولز اور اصول ہوتے تھے جن سے زیادہ تر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ماضی کے بڑے بڑے چور چوری کو پیشہ سمجھ کراس میں کبھی خیانت نہیں کرتے تھے۔
اسی حوالے سے ایک واقعہ یاد آیا.کہتے ہیں کسی زمانے میں کسی علاقے میں ایک نیک اور باذوق شخص رہتا تھا. جس کے پاس اعلیٰ نسل کا خوبصورت گھوڑا تھا۔ پورے علاقے میں اس گھوڑے کے بڑے چرچے تھے۔ کئی چور بھی ہروقت اس کی طاق میں رہتے تھے۔ ایک دن یہ شخص کسی کام کی غرض سے کہیں جارہا تھا تو راستے میں ایک معذور آدمی کو دیکھا جس نے مسکینوں والی شکل بنا رکھی تھی۔ معذور لنگڑاتے ہوئے جارہا تھا۔ گھوڑے والے نے انسانی ہمدردی کے ناطے معذور کو لفٹ دی اور دونوں منزل کی طرف چل پڑے.. ایک جگہ دونوں کچھ لمحوں کیلئے رک گئے اسی دوران معذور نے گھوڑے والے سے درد مندانہ انداز میں گھوڑے پر اکیلے سواری کرنے کی استدعا کی۔ گھوڑے والے نے بلا جھجھک لگام معذورکے ہاتھ میں دی اور کہا اپنی خواہش پوری کرو۔۔ معذور جو اصل میں معمولی چور تھا اور اس نے گھوڑا ہتھیانے کیلئے بیس بدل رکھا تھا، نے گھوڑے پر بیٹھتے ہی اسے دوڑایا اور دیکھتے ہی دیکھتے گھوڑے کے مالک کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
کئی دن بعد علاقے کے لوگوں نےچورکو کہیں سے پکڑلیا اور اسے حاکم وقت کے سامنے پیش کیا۔ عدالت لگی تو قاضی نے مالک سے پوچھا کہ چور کو کیسی سزا ملنی چاہیے۔ مالک نے کہا اس بندے کو گھوڑا چوری کرنے پر نہیں بلکہ میرا اور اس معاشرے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے پرکڑی سزادی جائے۔ یہ اگر اصل شکل میں مجھ سے گھوڑا چھین لیتا تو ایک ہی دکھ ہوتا لیکن اس نے مجھے دھوکہ دیا بیس بدل کر واردات کی جس کے سبب علاقے میں لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جانے کا خدشہ ہے لوگ ایک دوسرے کو شک اور بد اعتمادی کی نظروں سے دیکھینے لگیں گے ۔ مطلب یہ صرف میرا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مجرم ہے۔ ہمارے معاشرمیں امن ایک دوسرے پر اعتماد کی وجہ سے ہی قائم ہے ۔اور اگر خدانخواستہ لوگوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ رہا تو معاشرے میں نت نئے مسائل پیدا ہوں گے۔ قاضی نے زیرک انسان کی گہری باتیں سمجھتے ہوئے چور کو ایک نہیں بلکہ کئی دفعات کے تحت سزا سنادی۔نو فروری کو پاکستان عوام کے ساتھ بھی اسی طرح کا وشواس گھات ہوا۔ 8 فروری کو پرامن طریقے سے شفاف الیکشن ہوئے۔ لوگوں نے ملک میں جاری گھسے پٹے سسٹم کیخلاف ووٹ دیا۔
ملک کو نوچنے والوں کو عوام نے ووٹ کے ذریعے ریجیکٹ کیا۔ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو انتخابی سمبل سمجھ کر اس کے نامزد کردہ معروف و غیر معروف امیدواروں کو جتوایا۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن کی سیاسی جدوجہد کے پیش نظرکراچی والوں نے جماعت کو ووٹ دیا۔ یوں اس دن رات بارہ بجے تک سب کچھ عوام کی امنگوں اور خواہشات کے عین چل رہا تھا۔ عوام جیت رہے تھے۔ ہر پاکستانی کی نظریں مسلسل آنے والے نتائج پر مرکوز تھیں۔ گوایا عوام خود اپنے ووٹ کا پہرہ دے رہے تھے۔ عوامی جشن کا بغل بچ چکا تھا۔ ناکارہ اور نامراد سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے بھی ہار مان چکے تھے۔ وہ میدان چھوڑ کر جاچکے تھے۔ مگر بارہ بجتے ہی وقت بتانے والی گھڑی کے علاوہ باقی سب رک گیا۔ نو تاریخ کے پہلے منٹ سے الٹی گنتی شروع ہوئی۔ جیت ہار میں اور ہار جیت میں بدل گئی۔ ٹی وی چینلوں کو بھی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج روکنے کا کہا گیا کیونکہ سرکار متحرک ہوچکی تھی۔نو تاریخ کی صبح عوام کے ساتھ وشواس گھات ہوچکا تھا (نوٹ۔۔۔ لفظ اعتماد اور وشواس ہم معنی ہے لیکن وشواس گھات یعنی اعتماد توڑنا ذرا بھاری سا لفظ ہے اسی لیے استعمال کررہا ہوں)۔
فارم 45 اور فارم 47 کے درمیان جنگ چھڑ چکی تھی۔ کھار دار تاریں آر اوز آفسز کے ارد گرد بچھ چکی تھیں اور اندر سرکار عوام کے مینڈیٹ کو پرانے اور ناکارہ سسٹم کے ساتھ لنک کررہی تھی۔۔ اور اس آپریشن میں سرکار کامیاب بھی ہوگئی ۔ خیر نو فروری کو جو ہوا سو ہوا۔ بلکہ اچھا ہی ہوا کہ عوام کو بھی اپنی اوقات کا بھی پتہ چل گیا۔اب معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے۔ یہ مخصوص نشستیں ٹک ٹاکر عائشہ اور حلوہ والی لباس پہنی وہ سہمی خواتین بنی ہوئی ہیں جن کو ہر ارد گرد والا نوچنے کیلئے بے تاب ہیں .اخلاقیات کا درس دینے والے اخلاقیات سے جو کھلواڑ کررہے ہیں اس پر پوری دنیا تھو تھو کررہی ہے. شب و روز آئین و قانون کا گیان بانٹنے والے بھی اس تماشا کا تماشا دیکھ رہے ہیں.پہلے مینڈیٹ پر ڈاکہ اب دن دہاڑے باقی مال پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاریاں۔ یہ کہاں کا ضابطہ ہے ۔یہ کہاں کا اصول ہے. کس سیارے کی اخلاقیات ہیں… کس مذہب اور کس نظریہ میں یہ کرنے کو لکھا ہے۔کچھ تو شرم کرو. یہ حلوہ نہیں. عوام کا مینڈیٹ ہے. اس کے ساتھ کھلواڑ کرنےسے بداعتمادی پیدا ہوگی اور بداعتمادی سے مسائل تیز رفتاری کے ساتھ مزید بڑھیں گے۔۔ بلاشبہ بدبودار سسٹم کے ساتھ چمٹ کر رہو لیکن کچھ تو اصول اپناو ۔۔ کوئی تو شرم کرو ۔۔ کوئی تو حیا کا خیال کرو۔ نہیں تو اگلی بار ووٹ نہیں تھپڑ ملیں گے .