تحریر :ایم جمیل احمد سماہنوی
سیروسیاحت کے حوالے سے آزاد کشمیر کی آب و ہوا نہایت صاف ستھری اور مربوط ہے، یہاں کے لوگ صحت اور تندرستی کے حوالے سے بیماریوں سے نہ صرف دور ہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بیماریوں کا تناسب یہاں کی صاف اور تازہ ہوا کی وجہ سے بہت کم ہے’. دور دراز علاقوں میں بسنے والے لوگ کھیتی باڑی اور ہارڈ ورک کی وجہ سے بھی تندرست و توانا ہیں لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے گاؤں کے لوگ بھی اس قدرتی ماحول کو خیر آباد کہہ رہے ہیں. یہ بھی آسانیاں اور پر آسائش والی زندگی کو رواج دے رہیں ہیں اور آہستہ آہستہ گاؤں کی زندگی کو بھی روبہ زوال اپنے پنجوں میں لے رہا ہے .محکمہ صحت آزاد کشمیر تو ویسے ہی ہڈ حرام ہے. ڈوثرن میرپور میں اگر ایک طاہرانہ نظر دوڑاہی جاپے تو بیسک ھیلتھ یونٹ،رورل ھیلتھ سنٹر،تحصیل ہیڈ کوارٹر سمیت ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ایسی ایسی طبیعت کے لوگ تعینات ہیں جنکی مثال نہیں ملتی اگر کوئی ہمارے حاصل کیے گیے اسلامی ملک پاکستان کے نظریے کو دیکھے جو صرف لاالہ اللہ محمد الرسول اللہ کے یک نکاتی دستور کے عین مطابق حاصل کیا گیا تھا اور موجودہ وقت کے ان ذمہ داروں کو انصاف کے ایسے کٹہرے میں کھڑا کیا گیاہے جہاں ان سے اس نا انصافی پر فوری طور پر باز پرس کی جانی چاہیے اور اسی وقت غریب لوگوں کو انصاف دیا جائےاور ان بے رحم قصائی نما درندے انسانوں کو جن کو دیکھ کر انسانیت شرماتی ہے کو اسلامی سزا کا مرتکب ٹھہرا کر فوری سزا دی جائے لیکن یہ ایک ایسا خواب ہے جسکو ہم جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہےہیں. کھبی پورا ہو گا یا کہ نہیں یہ ایک الگ کہانی ہے.
واپس اپنے موضوع پر آتے ہیں شہری زندگی کو رواج نہ دیا جائے کیوں کہ اسی میں ہماری بقاء ہے. ہماری جنت نظیر کا وزٹ کیا جائے تو ایسے ایسے خوبصورت علاقے ایسی ایسی حسین سحر انگیز وادیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جھنیںدیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہیکہ کیا واقعی ہم جنت میں تو نہیں . خدارا لوگو اس آسانی پسند زندگی کو جوتے کی نوک پر رکھو اور اپنی اصلیت کو نہ چھوڑو. یہ ہم کشمیریوں کی پہچان ہے.ہمارا ورثہ ہے اگر ہم نے اس زندگی کو اپنایا تو ہزاروں بیماریاں ہمارا مقدر بن جائیں گی. جس تیزی سے عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ موذی بیماریاں پھیل رہیں ہیں اگرہم نے گاؤں کی زندگی کو نہ اپنایا تو یہ آسانی پسند لائف سٹائل ہمارے لیے انتہائی مشکلات پیدا کر دے گا. اسی لیے ہمارے خاندانوں کے بڑے افراد کسی بڑی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئےاور اچھی صحت اورلمبی لمبی عمریں پائیں ۔اس وقت ایسے افراد ہمیں کم و بیش ہی نظر آئیں گے وقت اور اس آسائشی زندگی نے ایسے نادر اور قیمتی انسان ہم سے چھین لیے ہیں جو ہمارا ایک قیمتی اثاثہ تھے اب اس مشکل سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ایک واحد حل ہے اور وہ یہ کے ہمیں اپنے گھر میں ہارڈ ورک کرنا ہو گا تاکے ہم اپنی صحت اپنے پیاروں کی زندگیوں سے ان موذی بیماریوں کو نکال کر خوش و خرم رہیں اور ان ہسپتالوں میں تعینات ان انسان نما بھڑیوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں.