مریم کی ثقافتی لیگ اور پنجاب کونسل کا کلرک ڈاکٹر

45

تحریر: سلطان لالہ
مسلم لیگ کی پنجاب میں کابینہ کے لیے یوں تو ہر محکمہ میں ہی کئی سوال سر اٹھاۓ ہوۓ ہیں مگر کچھ سوال ایسے ہیں کہ سر اٹھاۓ ہوۓ اتنے تھک چُکے ہیں کہ ان پر بھی سر جھکاۓ ہونے کا شائبہ ہوتاہے۔ کوئی سوال بھی کتنی دیر رہتا ہے وقت کی روش تو کبھی حاکم کی خواہش سب کچھ روند دیتی ہے۔ یہ تو پھر سوال ہیں ۔وقار احمد اور ناہید منظور کی راولپنڈی آرٹس کونسل ہو یا لیجنڈ شوکت علی کی اولاد،انکے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے متعلق سوال اور ازالہ کرنے کا تقاضا جب ان سے فیضیاب ہونے والے لوگوں سے بھی کیا جاتا ہے تو کلرک بابو اپنی پتلون پیچھے سے اوپر چڑھا کر نئا منتر پڑھتا ہے۔ محکمہ جاتی سیاست میں ثقافت کے سوالات صرف ذائقہ بدلنے کے لیۓ ہوتے آۓ ہیں۔ پنجابی کارڈ کھیلنے والی سیاسی جماعت بند کمروں میں تو ثقافت سے بغلگیر ہوتی ہے.

تاہم پنجاب کی ثقافتی راکھی میں ناکام ہی رہی۔ابھی آئین کی قسمیں کھاۓ بی بی مریم کو زیادہ دیر نہ ہوئی ۔سروں پر چادریں دینے کی مشق زبان زد عام کروائی گئی جو کہ یقینی طور پر شخصی آزادی کے ساتھ اقدار کے نام پر ھمیشہ سراہے جانے اور بکنے والا آزمودہ بصری نسخہ ہے تو عین اسی وقت ثقافت کے نام پر پنجاب کے کم بیشں تمام اضلاع میں مصوری کے مقابلہ جات کرواۓ گئے جہاں خالی پیٹ مقابلہ کرنے والے فلیکس چاٹتے رہے دراصل یہ وہ ناہنجار ہاتھوں میں ثقافت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا تسلسل ہے جس کے لیے سیاسی قد کاٹھ والوں نے ثقافتی قد کاٹھ سے محروم لوگوں کو مسند پر بٹھایا۔پنجاب کی سب سے بڑی خیر خواہ ہونے کی دعویدار سیاسی جماعت بھی لکیر کی فقیر ہی نکلی اس بات سے قطع نظر کہ ثقافت بھی فزکس کی مثل ایک مضمون ہے جسے فلکیات کا استاد نہ پڑھا سکتا ہے نہ اسکی ترویج کر سکتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی نہ حنیف رامے جیسا دوبارہ کوئی وزیر ملا اور نہ ہی ثقافت کے اداروں پر ثقافتی اداروں کے روز اول سے بھرتی افسران بڑی مسند پر بیٹھے ۔پڑھے لکھے دور رہے رقعے والے بنے تو نالائقی کے نام پر کلرک بابوؤں کے لیۓ دروازہ کُھلا رکھا گیا۔خواتین افسران نے ثقافت مناسب طور گود ضرور کھلائی مگر وہ بھی میکالی کلرک کی جبلت کے ہاتھوں بندھی رھیں۔ سندھ،بلوچستان،گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں کم از کم ثقافت سرکاری سطح پر مادری زبان کی سرپرستی کرکے زندہ رکھنا کا مظاہرہ جاری رہا جبکہ ادھر لہجوں پر تقسیم کا یہ عالم کہ مادری زبان کے عالمی دن پر کلرک ڈاکٹر بلال نے اپنے ثقافتی نابلد ہونے کا ریکارڈ قائم رکھا اور کہیں بھی کوئی واک سیمینار،مشاعرہ نہ کروایا الٹا سرکاری خزانے سے کئیرٹیکر حکومت کے ذریعے کونسل کے ذاتی فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا اور کُل پنجاب مقابلوں کے نام پر آنیوالے اِکّا دُکّا شرکاء کے لیے مقابلہ ثقافتی کربلا بنا دیا۔

افسوس! سیاسی قد کاٹھ والے ثقافتی پریکٹیشنرز اور افسران کو تجاوزات کے زمرے میں ڈال کر ہمیشہ انکو ٹھکانے لگاتے رہے اور میکالی کلرک ڈاکٹر بلال جیسے ثقافت کا بیڑہ غرق کرتے رہے۔سننے میں آیا ہے کہ روز اول سے آج تک پنجاب آرٹس کونسل،پنجابی انسٹیٹیوٹ آف۔لینگوئج کے کسی بھی ریٹائرڈ ملازم بشمول افسر کو پینشن نو دی گئی البتہ پنجاب آرٹس۔کونسل میں وارد کلرک بلال نے اس فنڈ سے ملازمین کی بہبود کی بجاۓ اپنے جعلی ویژن پر کروڑوں روپے ضائع کر دیئے ہیں۔جسکے لیے کئیر ٹیکر نے سہولت کاری دی اور نئے پرانے سیکرٹری خاموش رہے۔ اب دیکھیں، سلیم گیلانی کا بیٹا کیا کمال دیکھاتا ہے؟ ابھی لالہ وقار بڑے گھر کی فرمائش پر پنجاب کلچرل فلوٹ کا اعزازی بلا معاوضہ فوکل پرسن بنا ہے کیونکہ کلرک بلال تو کیا اسکے بڑوں کو بھی پنجاب کے کلچر کی الف ب معلوم ہے نہ اس میں دلچسپی ہے اور نہ ہی اس میں کپیسٹی کہ ثقافت کی ترویج کر سکے۔

تاہم ابھی تک مسلم لیگ ثقافتی لیگ نہیں بنی ورنہ نہ شوکت علی کا منہ بسورنے والا رہتا اور نہ ہی اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی وفاقی کلرک ثقافت کے محکمہ اور اداروں پر غاصب بنا رہتا بلکہ ثقافتی آبیاری پر کم از کم کوئی صاحب علم ،کوئی پنجاب کا صوبائی ثقافتی بیٹا تعینات ہوتا۔ آئین کا حلف اٹھانے والی سیاسی جماعت سے آئینی اقدامات کی امید ہے تاکہ ثقافت کو میکالی کلرک کے شعوری و نفسیاتی اُلجھاؤ سے بچایا جاسکے۔ لالہ اس کلرک ڈاکٹر کے غیر آئینی ،غیر قانونی انتظامی و معاشی مسودوں پر اگلی دفعہ بات کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں