تحریر :سلطان لالہ
پنجاب میں حکومت کی عمومی توجہ شخصیت سازی پر ہے۔ یاد رہے کہ شخصیت پرستی شخصیت سازی کے بعد اگلا پڑاؤ ہے۔ اس کے بعد عوامی جمع غفیر کو پاگلوں کا جتھا کہہ کر دھتکارنا یہاں کی روایات کا حصہ ہے۔ یوں تو جمعہ جمعہ آٹھ دن بنی حکومت کے بارے میں بات کرنا کوئی مناسب عمل نہ ہے تاہم جس حکومت کو کاغذات پر تین سال پہلے ہی اتار لیا جائے اس کے کندھوں پر بوجھ کبھی ہلکا نہیں ہوتا۔ لاہور شہر میں یا پاکستان کے دارالخلافہ سے متصل شہر وہاں ہر وقت نشہ آور ادویات کا استعمال کرنے والوں کو کسی بھی معالج کی ضرورت نہیں کیوں کہ یہاں معالج خود اس کاروبار کا حصہ ہیں۔ رمضان کی آمد آمد ہے اور سچ بولنے کا کاروبار اس مہینے میں بھی ممنوع خیال کیا جاتا ہے۔ ریڑھی بان سے لے کر حکومت کی بڑی مسند پر براجمان ہر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ اس مہینے شیطان قید میں ہے۔ رمضان سے کچھ دن قبل نجم سیٹھی کے بقول مریم نواز نے پنجاب زبان کو پرائمری کی سطح پر لاگو کرنے کا جو عزم مال روڈ پر قائم ایک سرکاری عمارت میں دھرایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ جب کہ دوسری طرف شیخوپورہ کی بخاری صاحبہ عالمی پنجابی کانفرنس میں سرحد پار سے آئے پنجابیوں کی راہ میں آنکھیں بچھانے کا ارادہ ظاہر کرتی ہیں۔ اس پر کتنا عمل ہو گا اس بارے میں یقینی طور پر ڈاکٹر صغریٰ صدف اپنے کسی اگلے تحریری تراشے میں بات کریں گی۔ فی الحال پنجاب کے اپنے ثقافتی اداروں میں پنجابی زبان بولنے کا کتنا رواج ہے اس کا اندازہ اس طبقاتی فکر سے لگایا جا سکتا ہے کہ عام ملازم اس فکر کے تابع عمومی طور پر کسی بھی افسر سے ہزاروں میل دور ہی رہتا ہے۔
ایسی باتیں کرنے پر حکومتی قدغن ضرور موجود ہے مگر آئینی قدغن موجود نہیں۔ ثقافت کے اداروں کی عمارتیں کئی عشروں سے سیاسی اشرافیہ کی تسکین کی آماجگاہیں بن چکی ہیں۔ پنجابی زبان سے محبت اور میاں محمد بخش ؒ کا فلسفہ پانا اتنا آسان نہیں۔ صوفی عمومی طور پر عام آدمی سے براہ راست منسلک رہتا ہے جب کہ اشرافیہ کا کوئی بھی حصہ اس سے بغل گیر ہوتے ہوئے اپنی دماغی رعونت اس کی دہلیز کے باہر چھوڑ کر نہیں آتا۔ روز بدلتی ہوئی معاشرتی کیفیات کے زیر اثر کسی کو پرکھنا اتنا آسان نہیں رہاتاہم بزرگ بتاتے ہیں کہ خاندانی وصف کچھ نسلوں تک منتقل ضرور ہوتے ہیں۔ مریم نواز کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پنجابی لاگو کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی اشرافیہ کے ساتھ ثقافتی اداروں کی سرخیلی پر مقررہ نوکر شاہی ہے۔ ان کے ہاں پنجابی کا دائرہ کار بس اتنا ہی ہے جہاں تک بڑی سرکار کا سایہ جاتا ہے۔ عام آدمی کا سایہ ان بھونڈے نفسیاتی کلرکوں کے لیے اچھوت ہے۔ بطور ماں شاید مریم نواز کو مادری زبان اور ثقافت کا بتانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے سورج کو چراغ دکھانا مگر کیا ان کے خود تربیت یافتہ بچے تخصیص کے لیے نو آبادیاتی زبان کا سہارا نہیں لیتے؟ ہمارے ہاں دوہرے معیارات اور فکری انتشار نے اس بستی کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہاں قانون قاعدے کی پاسداری گالی جب کہ اس کا منہ چڑھانا افسری بن چکا ہے۔
مریم نواز پچھلی کئیر ٹیکر حکومت کا بڑا گند صاف کرنا ہے جس میں قلم کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے قلم کار پتُلیاں بن کر اپنے شعبے کی توہین کرتی رہیں۔ فکر ی لباس کہاں اتار آئے عوام سب جانتے تھے۔ پُتلی گر کے ہاتھوں سجنے والا موجودہ ناٹک ابھی سے کامیڈی سے ٹریجڈی میں داخل ہو رہا ہے اور عوام اس میں کسی باکردار ، کردار کو ڈھونڈ رہے ہیں۔پنجاب کی شاہی اتنی آسان نہیں آگے بڑھنا ہو گا اور سب سے پہلے ثقافت کے رِستے زخم پر مرہم لگاتے ہوئے میکالی کلرک جیسے کرداروں سے ثقافت کو محفوظ کرنا ہو گا۔ ثقافتی اداروں میں نیا بورڈ تشکیل دے کر فکری طور پر بڑے افراد اور سیاسی لوگوں کو مل کر بیٹھنا ہو گا جہاں ثقافت سیاسی اشرافیہ کے دالانوں تک محدود نہ ہو گی اور نا ہی اس کا کام بھاٹوں یا بھانڈوں کی طرح سیاسی مجمع کو خوش کرنا ہو گا ۔ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب اور ثقافتی وزیر نے اس پر کچھ سوچا ہےیا ہمیشہ کی طرح ان کے کسی خفیہ سپوک پرسن کے اخباری تراشے کا منتظر رہنا ہو گا جسے پھر عوام نہیں پڑھ سکیں گے۔ مریم نواز کو یقینی طور پر عدالتی احکاما ت کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔
ان احکامات کی پاسداری بھی جن کو یہ کلرک نوکر شاہی گھاس تک نہیں ڈالتی جب کہ دوسری طرف عدالتیں کتابوں میں عوام کو محسور کن مناظر و الفاظ سے محصور کیے ہوئے ہیں جب کہ حقیقی زندگی میں جس کی لاٹھی ہوتی ہے اسی کی بھینس تو کیا سب کچھ ہوتا ہے۔ ثقافت کے اداروں میں اقربا پروری میں کی جانے والی بھرتیوں کی کہانی صرف لاہور آرٹس کونسل ، پلاک تک محدود نہیں یہاں حال ہی میں نوزائیدہ بچوں کی بھرتیاں کرنے کا جو ریکارڈ میکالی کلرک ڈاکٹر بلال حیدر نے قائم کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی مگر چیف سیکرٹری زاہد خاموش رہ کر اپنے دھڑے کو محفوظ رکھ رہے ہیں جب کہ دوسری طر ف سلیم گیلانی کا بیٹا میکالی نظام میں بالحاظ میرٹ اچھوت ہونے پر کلرک ڈاکٹر کے آگے ہتھیار پھینک چکے ہیں۔ سلیم گیلانی ہوتے تو پرویز رشید کو یہ بھنک پڑنے سے پہلے ہی لیجنڈ شوکت علی کی تضحیک کا ثقافتی و علمی ادھار چکا چکے ہوتے مگر ناموں سے کیا ہوتا ہے؟ امبیدکر کے دئیے آئین نے شاید وہ طاقت ہے جو بھٹو کے دئیے آئین میں نہیں۔
جہاں فنکار معاشرتی تضحیک آمیز ناموں سے پکارے جائیں جہاں شاعروں کو ناکارہ خیال کیا جائے وہاں لارڈ میکالے کی اقدار ہی جنم لیں گی۔نوزائیدہ کلرک ڈاکٹر نے جعلی بورڈوں کے ذریعے کیسے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا اور کیسے اس کے نیچے کام کرنے والے ثقافتی مزدورں نے بھٹہ مزدوروں کا روپ دھارا اس کی کہانی جاننے کے لیے ان کلرکوں کو بڑی مسندوں سے ہٹا کر آڈٹ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے گا ورنہ توہین عدالت کے مقدمے میں عوام بنام میکالی کلرک کیس ہمیشہ لیفٹ اوور ہوتا رہے گا اور اس کا جواب عوام ،ثقافت وغیرہ بنام مریم نواز کیس میں 2028 میں مل ہی جائے گا۔