از قلم : قدسیہ عزیز کنول ( اسسٹنٹ پروفیسر اردو)
زمین پر نوح انسانی کی بقا کا سفر تنہا کسی صنف کے دائرہ اختیار میں نہیں لہذا خواتین کا وجود منفرد و نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔ جس کا انکار ممکن نہیں ۔ عورت وفاداری اور ایثار کی پیکر ہے ۔ صنف نازک ناقابل تسخیر طاقت رکھتی ہے ۔ عورت کا وصف حیا ، نسوانیت اور وفا ہے ۔ یہی خوبیاں نمو پا کر خلوص ، ہمدردی اور مستقل مزاجی جیسے باوقار جذبوں کو تخلیق کرتے ہیں ۔ عورت اگرچہ عام انسان جیسی خوبیاں رکھنے کے باوجود آہینی ارادوں ، انقلابی نظریات اور عزم و ہمت کا پیکر بھی ہے ۔ وسیع القلبی ، شفقت و مہربانی ، درگزر جیسی خصوصیات کی حامل بھی ہوتی ہے ۔
خواتین کا احترام کسی قوم کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ابتدائی نظریات کی بڑھوتری کے لیے بھی ضروری ہے ۔ عورت ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی ہر اعتبار سے قابل عزت ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورتیں ظلم و ستم کا شکار رہیں لیکن نبیﷺ کی آمد نے سب سے بڑا احسان عورت پر کیا ۔ ان کو عرب جیسے معاشرے میں قابل عزت بنا دیا ۔ کائنات کے تمام تر رنگ بقول شاعر “ ساغر صدیقی”:
اگر بزم ہستی میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگین جنت نہ ہوتی
ستاروں کے دل کش فسانے نہ ہوتے
بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
ہمارے معاشرے میں خواتین کو بااختیار بنانے میں بہت سی چیزیں رکاوٹ ہیں ۔ ان میں تعلیم کا یکساں مواقع میسر نہ ہونا ، گھریلو تشدد ، جسمانی اور جنسی تشدد ، غیر مساوی سلوک اور صحت کی نامناسب دیکھ بھال ہے ۔ خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کے لیے وسائل کی فراہمی ، ان کو معاشرتی ، سیاسی ، معاشرتی حقوق کے ساتھ جائیداد کی ملکیت اور تشدد کے خلاف تحفظ کی انتہائی ضرورت ہے ۔ ایسے قانون کی موجودگی میں خواتین اپنی کارکردگی ہر شعبہ ہائے زندگی میں بڑھ چڑھ کر دکھا سکتی ہیں ۔ پچھلی دو دہائیوں سے تقریبا ہر شعبہ ہائے زندگی میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور نہ صرف اپنے ملک کے سطح پر بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی اپنی کارکردگی سے پاکستانی خواتین کا تصور مثبت پیش رفت رکھتا ہے ۔ ہمارے معاشرے کی ہر بہن اور بیٹی کو سلام عقیدت ہے جنھوں نے بہت سارے محازوں پر کہیں تنہا اور کہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم ایک متوازن اور بہترین معاشرے کے فرد ہیں ۔
دنیا کی ترقی کے لیے اپنا حصہ ضرور ڈالیں گٸی ۔ 1911 سے لے کر تقریبا ایک صدی تک عورتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے اس دن کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ پاکستانی خواتین نہ صرف امن کے ایام میں بلکہ مشکل وقت میں بھی ہماری خواتین نے قوم اور وطن سے محبت کو لازوال کر دیا ۔ آزادی اور عزت نفس کے لیے سخت جدوجہدنے خواتین کو یہ ثابت کرنے کے قابل بنایا ہے وہ نہ صرف اپنے امور خانہ داری میں ماہر ہیں بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ قوم کی قیادت بھی سنبھال سکتی ہیں اور مردوں سے زیادہ بہتر حکمران ثابت ہو سکتی ہیں ۔