شورو غل میں رعایا کی چیخ و پکار پر کان دھرنے کو کوئی تیار نہیں، بحث و مباحثہ میں گھمسان کے اس طوفان میں ہر ایک آواز یکساں بلند ہے، غل غپاڑہ کے اس ماحول میں ہر کوئی امید اور یقین نہیں، حاکمین وقت حاکمیت کا تاج سر پر سجا کر چل ہیں، ان کی سوچ اور مزاج کا تعین ہم سے نہ ہوا ہے اور نہ ہی ہوگا، ہر دفعہ کا ایک رونا اور اور رو رو کر بلک کر چپ سادھ لینا ایک عجب اور نرالی منطق ہے، ایک ماحول میں ایک طرف خوشی میں چہکے بلند ہو رہے ہیں، دوسری طرف کوئی ماتم میں اپنا سینہ لہو لہان کر رہا ہے، ہر دفعہ کی رام لیلا میں سنٹا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ویسے ہم بھی کس ماحول میں جی رہے ہیں، بڑوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں ستر کے الیکشن صاف و شفاف تھے، بالکل وہ الیکشن صاف و شفاف تھے مگر اس سے قبل اور بعد کے الیکشن کیونکر صاف و شفاف نہ ہو سکے یہ قوم کا سوال ہے جس کا جواب آج تک نہ ہی حکمران وقت دے سکے اور نہ کوئی دوسرا اس سوال پر کان دھرنے کو تیار ہے۔ ہمیں اپنے تاریخ اور مطالعہ سے اب سچ پوچھیں تو کوئی مطلب شطلب نہیں رہا ہم تو صرف اب حال میں جینا چاہتے ہیں اور ماضی کی سیاہ کاریوں پر پردے بھی ڈال دیں تو وہ کب تک چھپی رہیں گی۔ ہماری اب یہی سوچ اور خیال ہے جو ہو رہا ہے وہ ہونے دیں، یہ ایسے ہی چلتا رہے گا، چاہے وہ آر اوز کے الیکشن ہو یا آر ٹی ایس یا پھر حالیہ فارم 47کے۔ ہر الیکشن میں ایک سے بڑھ کر ایک واویلا اور شور غل ہوتا ہے۔
اس دفعہ کے الیکشن تو ماحول ہی عجب صورتحال اختیار کر چکا تھا لیکن ہمارے ہاں اصل مسئلہ الیکشن کے صاف و شفاف ہونے کا ہے ہم نے آج تک کسی بھی ہارنے والی سیاسی جماعت یا جماعتوں کے رہنماؤں سے یہ نہیں سنا کہ الیکشن صاف ہوئے ہیں یا شفاف ہیں ہر جماعت اپنی منطق اور دھاندلی کے طریقہ کار سمیت الیکشن کروانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کرتی رہی ہے، لیکن یہ الیکشن تمام الیکشن سے ہٹ کر الیکشن تھا اس الیکشن میں جیتنے والی جماعت کے وہ رہنماء جو الیکشن میں ہارے ہیں بھی سوال اٹھا رہے ہیں اور الیکشن کمیشن کے سسٹم سے نالاں ہے وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں ہمارے فارم 45 کوڑے دانوں سے ہمیں ملے ہیں، جبکہ اپوزیشن نے تو اپنے فارم 45 سینے سے لگا کر رکھے ہوئے ہیں شائد ان فارم کی بدولت انکو کچھ نصیب ہو جائے لیکن مجھے نہیں لگتا ایسا ہوگا وجہ صاف ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سے جیتنے والی حکومت کے منہ سے یہ سنتے آرہے ہیں وہ الیکشن جیتنے کے بعد چاہے و دھاندلی سے الیکشن جیت ہو یا صاف طریقہ سے لیکن اسکا یہ بیانیہ ہمیشہ رہا ہے کہ وہ الیکشن اصلاحات کے حوالہ سے اقدامات کرئے گی، ابھی حالیہ دنوں کی ہی بات ہے کہ مجھے وفاقی وزیر مصدق ملک کو ایک نجی ٹی وی چینل پر سننے کا موقع ملا تو انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالہ سے کہا کہ” ہمیں اس مشن کی طرف بروقت جانا چاہیے اگر موجودہ الیکشن میں یہ مشن ہوتی تو فارم 45 اور 47 کی الجھن سے تمام الیکشن پراسیس صاف ہوتا” مجھے انکا یہ بیان سن کر تعجب ہوا کہ یہ مسلم لیگ نون کے سینئر رہنماء اور قیادت کے قریب سمجھنے جانے والے فرد ہیں جو 2013ء کے الیکشن سے قبل کسی بھی جانے کھدرے میں بھی نظر نہیں آتے تھے لیکن 2013ء کے نگران سیٹ اپ کے بعد میاں نواز شریف نے انکو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا بلاشبہ وہ قابل فرد ہیں لیکن انکا بیان بہت ہی حیرت انگیز تھا کیونکہ اس سے قبل جب پی ڈی ایم اتحاد ون بنا تھا تو سب سے پہلے قانون سازی میں ای وی ایم کو ختم کیا گیا تھا حالانکہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ ایک بہتر فیصلہ تھا اس سے الیکشن پراسیس میں کچھ حد تک شفافیت آسکتی تھی لیکن پی ڈی ایم کی حکومت اگر ای وی ایم کو ختم نہ کرتی تو شائد آج اقتدار میں نہ ہوتی۔
باوجود اس کے مصدق ملک نے ای وی ایم کے بارے میں اظہار خیال کر کے ایک اچھا تاثر دیا۔ لیکن یہ اقدامات اب موجودہ حکومت کرنے چاہیں کیونکہ ہم گزشتہ پچہتر سالوں سے الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھتا دیکھ رہے ہیں اور کسی بھی حکومت نے اس حوالہ سے موثر اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے عوامی مینڈیٹ کی میری نظر میں توہین کو رہی ہے اس دفعہ کی صورتحال یقیناً گزشتہ تمام الیکشنوں سے زیادہ حیرت انگیز اور فکر انگیز ہے کیونکہ فارم 45 میں جو رزلٹ ملے وہ فارم 47میں مخالف امیدوار کے حق میں کر دئیے گے جس کی وجہ سے ہر سیاسی جماعت اپنا مینڈیٹ چوری کرنے کا اظہار کر رہی ہے حالانکہ پیپلز پارٹی جو اس وقت موجودہ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے اس نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس کے مینڈیٹ کو بھی چوری کیا گیا ہے اس طرح 2018ء کے الیکشن میں آر ٹی ایس کے بیٹھنے کو بھی مسلم لیگ نون اپنا مینڈیٹ چوری کرنے کا ایک ذریعے گزشتہ چھ سالوں سے کرتی چلی آ رہی ہے اس طرح 2013ء کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف پینتیس پنکچرز کی بات کر کے اپنے مینڈیٹ کے حوالہ سے پانچ سال واویلا کرتی رہے ہے۔
ہمیں اس بات کا اب خیال رکھنا ہوگا آخر کیا وجہ ہے کہ ہم تمام تر صورتحال کے باوجود اور ہر الیکشن میں خدشات اور تحفظات کے باوجود اپنی قوم کو صاف و شفاف الیکشن نہیں دے سکے صاف و شفاف الیکشن کروانا بلاشبہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن حکومتوں کی اس سے بھی بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ الیکشن کے حوالہ سے قانون سازی اور موثر اصلاحات کریں تاکہ عوام کے اصل مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے اس کے لیے آج تک کوئی بھی حکومت موثر اقدام اٹھانے سے گریزاں ہیں حالانکہ یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم اپنے الیکشن کو صاف و شفاف کریں اور عوام کے اصل مینڈیٹ کی حامل حکومت قائم کی جائے ہماری اس وقت مسائل کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہر الیکشن میں شفافیت ایک سوالیہ نشان ہوتی ہے جس نے اپوزیشن کے چیخ و پکار کی وجہ سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جس سے مسائل جنم لیتے ہیں اور ملک کی معیشت سمیت دیگر اہم ایشوز حل نہیں ہو سکتے، اگر ہماری تمام سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتیں جن میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی،جمعیت علماء اسلام (ف)، ایم کیو ایم،مسلم لیگ
(ق)،اے این پی،مسلم لیگ ضیا و دیگر شامل ہیں وہ ایک متفقہ طور پر لائحہ عمل اختیار کریں اور الیکشن اصلاحات کے حوالہ سے اپنا کلیدی رول ادا کریں تاکہ ملک میں ہر پانچ سال کے بعد صاف و شفاف الیکشن کا انعقاد ممکن ہو سکے اور عوام کے حق رائے دہی کو تسلیم کیا جا سکے لیکن مقام افسوس کے کہ ہر ہارنے والی سیاسی جماعت اپنا مقدمہ سڑکوں پر لڑتی ہے وہ پارلیمان میں بیٹھ کر وہ مسائل حل نہیں کرتی تو جو صرف پارلیمان سے حال ہو سکتے ہیں۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں اس ایک نقطہ یعنی الیکشن اصلاحات ہر ایک ایسا بک تیار کر لیں جن میں پاکستان کے تمام سٹیک ہولڈرز کی مکمل مشاورت اور رہنمائی شامل ہو تو ہم آئندہ الیکشن کو صاف و شفاف کروا سکتے ہیں اگر ہم نے اس دفعہ بھی ایسا ہی کیا تو آپ یقین کریں ہمارا ہر الیکشن متنازعہ ہی ہوگا جس سے سوائے مسائل کے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ہر مسئلہ اپنے ساتھ مزید مسائل کو جنم لیکر آئے گا۔