شہداء وطن کو سلام

55

تحریر: سردار مشعل یونس
چشم تصور سے زرا یہ منظر زہن میں لائیں اور سوچیں کہ کیسے ممکن ہے کے دنیا کی ساری دولت اور جائیدادیں آپ کو پیش کی جائیں، ہر وہ آسائش جس کا انسانی زہن صرف تصور کر سکتا ہے، اس دنیا کے مال و زر سے لے کر حسن و جمال تک الغرض کائنات کی ہر وہ شے جو آپ کو اپنی طرف مائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ سب آپ کو عطا کر کے آپ سے آپ کی زندگی کا سودا کیا جاے تو کوئی بھی صاحب عقل حقارت سے ان نوازشات کو ٹھکرا دے گا۔ ان جذبات کو کیسے زیر تحریر لایا جا سکتا ہے ،جو انسان کو مجبور کر دیتے ہیں کے وہ اپنی جان سے پیاری اولاد، عمر رسیدہ والدین، بہنوں اور بھائیوں کی لازوال محبتوں کو ایک ساعت کی تاخیر کے بغیر ہمیشہ کے لیے فراموش کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔

اپنی ذات کے بغیر کائنات کا تصور محض اندھیرا، اس کائنات کی تمام نعمتوں کا وجود فانی، اور لازوال رشتوں کی حقیقت ایک خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔چونکہ اسی کائنات کی ہر شے جب میرے وجود کی حیثیت تسلیم کرنے سے منکر ہو جاے گی تو اس کی ہر ادا ، ہر خوشی دل اور روح کو تسکین پہنچانے والے تمام رشتے روئی کے گالوں کی طرح اڑتے سامنے دیکھائی دیتے ہیں۔

محترم قارئین!
زیر نظر تصاویر محض چند لوگوں کا اجتماع نہیں ہے، یہ محض کسی لاش کو کندھا نہیں دیا جا رہا، بلکہ یہ اس تاریخ ساز حقیقت اور سب سے بڑے سچ کی وہ ہلکی سی جھلک میں اور آپ دیکھ رہے ہیں۔ہفتے کے روز میر علی وزیرستان میں لیفٹیننٹ کرنل سید کاشف شہید اور کیپٹن احمد بدر شہید جو پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اپنے پانچ جوانوں سمیت دفاع وطن پہ قربان ہو گئے۔ آج وطن عزیز کی حرمت اور بقاء کی خاطر ہمارے ان قابل فخر شیروں نے اپنے لہو سے اس مٹی کے زرے زرے کو سینچ کر واضح اعلان کیا کہ

” سو جاو عزیزو کے فصیلوں پہ ہر اک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں .!!

وطن کی بقاء اور اس کی سلامتی کی ضمانت کے طور پہ آج ان دو آفیسرز نے اپنے جوانوں کے ہمراہ پوری جرات کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ پیغام بھی دیا کے تمہارے ہاتھ اور ہتھیار تھکن سے چور ہو کر گر سکتے ہیں لیکن، اس ارضِ پاک کی حفاظت پہ معمور اس وطن کے حقیقی اور وفا شعار بیٹوں کی گردنیں ختم نہیں ہو سکتیں۔ تاریخی اعتبار سے بھی اگر اس سچ کو کھنگالا جاے تو یہ ثابت ہوتا ہے کے نہ یہ کوئی پہلی قربانی تھی اور نہ ہی آخری، آے روز ماوں کے خوبصورت اور کڑیل جوان اس دھرتی کے چپے چپے کو اپنے لہو سے سینچتے ہیں، ہزاروں قربان ہو چکے لاکھوں جان ہتھیلی پہ رکھ کے تیار بیٹھے ہیں۔

وہ ماں اس قوم کی سب سے بڑی محسن ہے جو اپنے بیٹے کی پیدائش سے لے کر اس کی تعلیم و تربیت تک، پھر جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی اپنے دل کے ٹکڑے کو دفاع وطن کے لیے وقف کر دیتی ہے، اپنے ہاتھوں سے اسے تیار کر کے محاذ پہ بھیجتی ہے، راتوں کو بارگاہ الہی میں سجدے کی حالت میں وطن اور اس کے بیٹوں کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگتی ہے، اس کی شادی اور خوشیوں کے خواب دیکھتی ہے لیکن، خواب ٹوٹتے بھلا دیر کتنی لگتی ہے؟ اس ماں کی امیدوں کا محور و مرکز جب سبز حلالی پرچم میں لپٹا تابوت کی صورت میں حاضر ہوتا ہے تو ان جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے لیے میرے پاس کم از کم کوئی الفاظ نہیں۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں زبان اور قلم خاموش ہو جاتے ہیں۔

میں کیپٹن احمد بدر شہید کو دیکھ کر سوچتا ہوں کے اس کے والدین کے بے بسی کے آنسو ریاست کے طول و عرض پر بسنے والے ہر شخص کےکندھوں پر قرض ہیں، ان پانچ بہنوں کے آج کی اس درد کی شدت مملکتِ خداداد کے ہر باسی پہ احسان ہے۔ کیپٹن احمد بدر شہید نے شہادت کا جو تاج آج اپنے سر پہ سجایا ہے سوچیں کے اب اس کا بوڑھا باپ اپنے بیٹے کی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے کتنا ترسے گا، اس کی بہنیں جس شجر سایہ دار سے محروم ہوئی ہیں وہ اسے کیسے بھلا پائیں گی، اس کی بے بس ماں اپنی امیدوں کے محور و مرکز کے اچانک اس دنیا سے چلے جانے سے کس قدر غم سے نڈھال ہو گی، وہ بوڑھے والدین کس امید پر اب گھر آنے والے راستے کو دیوانہ وار تکیں گے، یقین کریں یہ تصور کر کے روح کانپ جاتی ہے۔
اگر وطن عزیز کے یہ جری اور قابل فخر سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش نہیں کرتے تو نجانے اور کتنی ماوں کی کوکھیں اجڑ جاتیں، کتنے سہاگ لٹ جاتے، کتے گھروں میں یتیمی کے بادل کھل کر برستے ، دکھ تکلیف اور بدقسمتی کتنے گھرانوں کا مقدر بن جاتی اس کا تخمینہ لگانا مشکل ہے۔

شہداء کے قابل فخر قبیلے میں ہر روز شوق شہادت سے سرشار، وطن کی عزت و حرمت کے لیے بے قرار، اس دیس کے مکینوں کے آرام و سکوں کے لیے ہمہ وقت تیار یہ شیر کا دل رکھنے والے بیٹے اپنے خون سے نئی تاریخ رقم کرتے ہوے شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔
ان ماوں کو سلام جنھوں نے ایسے بہادر بیٹے جنم دئیے، مشرقی بارڈر پر کوئی جارحیت کی کوشش کرے یا مغربی بارڈر پر دراندازی کی خواہش دل میں پالے، داخلی اور خارجی دشمنان وطن کو سبق سیکھانے کے لیے ہمارے قابل فخر سپوت وردی میں یا بغیر وردی کے دھوپ، چھاوں، سردی اور گرمی سے بے نیاز ہمارے حفاظت کے ضامن اپنی تمام خوشیاں ، رشتے اور خواہشات ہمارے امن و سکوں اور نسلوں کی بقاء کے لیے قربان کر رہے ہیں۔

ہم اپنی سیاسی جنگ و جدل میں کتنی آسانی سے ان ساری قربانیوں کو فراموش کر دیتے ہیں.نرم گرم بستروں میں بیٹھ کر ملکی دفاعی اداروں پر تنقید براے تنقید اب ایک فیشن بن چکا ہے، وہ وقت آن پہنچا کے اب اس معاشرے کو ایسے ناسوروں سے پاک کیا جاے ورنہ دشمن کو ہمارے اندرونی خلفشار سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہیں لگے گی۔وطن عزیز میں حالیہ دور میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ ٹرینڈ دن بدن زور پکڑتا جا رہا ہے کہ جس میں اپنے چھوٹے موٹے سیاسی عزائم کی تکمیل کی خواہش میں اپنے دفاعی اداروں کے بارے میں بیہودہ تبصرے اور الزامات جمہوریت پسندی اور وطن پرستی کی معراج سمجھے جاتے ہیں۔آزادکشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹیوں کا جو بنیادی ایجنڈا تھا اپنے بنیادی نقاط، بجلی کے ناجائز بلات اور آٹے کی بڑھتی قیمت اور عدم فراہمی کی وجہ سے اسے بڑی عوامی تائید و حمایت حاصل ہے اور ہونی بھی چاہیے لیکن یہ چیز بھی مشاہدے میں آئی ہے کے سادہ لوح لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہوے بیرونی آقاوں کے اشاروں پہ بعض عناصر اسے ہماری قومی یکجہتی اور اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کسی بھی معزز شہری کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔

بحثیت کشمیری ہمیں سمجھنا ہو گا کے ہماری عیدیں شب راتیں ہماری شادیاں بیاہ اور معمول کی پرامن زندگی کے پیچھے انہی شہداء کا خون شامل ہے جو دن رات برفانی بارڈرز پر منفی درجہ حرارت میں ہمارے محفوظ مستقبل کے لیے اپنا اور اپنے بچوں کا آج قربان کر رہے ہیں ۔

افواج پاکستان کو اور تمام انٹیلیجنس اداروں کی قربانیوں کو ہم سلام پیش کرتے ہیں کے جن کی وجہ سے ہم پر امن زندگی گزار رہے ہیں.مال و دولت ، تنخواہ و مراعات اپنی جان قربان کرنے کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں، دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں اور حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ احساس ہوتا ہے، کے واقعی
شہید کی جو موت ہے
وہ قوم کی حیات ہے

اللہ کی ذات شہداء کے درجات بلند فرماے، وطن عزیز کو ہر طرح کی آفات، بلاوں اور دہشت گردی جیسے عذاب سے حفاظت فرماے اور وطن کے ان محافظوں اور مجاہدوں کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں