تحریر: نادیہ حمید
آزاد کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال 21 مارچ کو جنگلات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 2013ء میں کیا گیا، جس کا مقصد کرۂ ارض کو ماحولیاتی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے جنگلات کی اہمیت سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ہر چیز کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق جنگلات سے ہوتا ہے۔ ہم جو پانی پیتے ہیں، دوائیں لیتے ہیں، کھانے سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ہماری رہائش گاہیں اور یہاں تک کہ ہمیں درکار آکسیجن کا تعلق بھی جنگلات سے ہے۔عالمی ادارے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگلات کا وجود کسی بھی ملک کے ماحول، معیشت، ترقی اور شہریوں کو مختلف جہتوں سے توانائی فراہم کرتا ہے۔ جنگلات ماحولیاتی آلودگی میں کمی کا باعث بنتے ہیں جبکہ درختوں پر لگے پھل تجارت اور ان سے حاصل ہونے والی لکڑی، کاغذ، لیٹکس اور طب کے لیے اہم اشیا کسی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی ملک میں صحت مند ماحول اور مستحکم معیشت کے لیے اس کے 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے لیکن پاکستان میں کچھ سال قبل تک جنگلات کا کُل رقبہ 4 فیصد سے کم تھا، جس میں بتدریج کمی آتی جارہی ہے.
کہا جاتا ہے کہ پھول، پودے انسانی شخصیت اور نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ سایہ دار درختوں کا وجود نہ صرف انسانی صحت کے لئے مفید اور فرحت بخش ہوتا ہے۔ بلکہ یہ موسمی تبدیلیوں سے بچاؤ کا بھی ذریعہ ہے۔ درخت لگا کر کرہ ارض پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلی میں خوشگوار تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں قدرتی جنگلات کے رقبے میں ہر سال 27 ہزار ہیکٹر کمی ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ادارے آئی سی یو این کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان 10 ملکوں میں ہوتا ہے جو موسمی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں نہ صرف جنگلات کے کٹاؤ کو روکنے بلکہ عوام کے تعاون سے وسیع پیمانے پر شجرکاری کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری جانب ہوس زدہ اور لاشعور لوگ تعمیرات کے سلسلے میں جنگلات کی کٹائی پر زور دیتے ہیں اس طرح جنگلات میں ایک خاصی تعداد میں کمی لاحق ہوتی ہے۔ جنگلات کی مسلسل کٹائی کے سبب قدرتی وسائل کی فراہمی میں کمی آتی ہے۔ جنگلی حیات اور خوبصورت پرندوں کے مسکن اجڑ جاتے ہیں اور جنگل میں کہرام مچ جاتا ہے۔ جنگلات کے کٹاؤ کے باعث نہ صرف قدرتی وسائل کی فراہمی رک جاتی ہے بلکہ انسانی نظام زندگی بھی درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ آکسیجن کے بغیر انسان بالکل بھی زندہ نہیں رہ سکتا کیونکہ آکسیجن زندگی کا ایک اہم سنگ میل ہے آکسیجن مہیا کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ جنگل ہے۔
جنگلات ملک کے اہم وسائل میں سے ایک ہیں اور یہ اس ملک کی عمارتی لکڑی اور جڑی بوٹیوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔جنگلات زمین کی زرخیزی قائم رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔جنگلات درجہ حرارت کو اعتدال پر رکھتے ہیں اور اطراف کے موسم کو خاص طور پر خوشگوار بناتے ہیں۔جنگلات سے حاصل شدہ جڑی بوٹیاں ادوایات میں استعمال ہوتی ہیں۔جنگلات جنگلی حیات کا ذریعہ اورسبب ہیں۔بے شمار جنگلی جانور یعنی شیر، چیتا، اور ہرن وغیرہ جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔جنگلات جلائے جانے والی لکڑی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔جنگلات زمین کے حسن و دلفریبی میں اضافہ کرتے ہیں۔جنگلات بہت سے وسائل کا ذریعہ اور ماخذ ہیں۔مثلاً جنگلات سے حاصل کردہ لکڑی فرنیچر، کاغذ، ماچس اور کھیلوں کا سامان تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہیں۔جنگلات پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کو تیزی سے پگھلنے سے روکتے ہیں اور زمین کے کٹائو پر بھی قابو رکھتے ہیں۔ جنگلات انسانوں اور قدرتی نباتات کو تیز رفتار آندھیوں اور طوفان کی تباہی اور بربادی سے محفوظ رکھتے ہیں۔جنگلات فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے کیوں کہ انہیں خود اس گیس کی ضرورت ہوتی ہے
یہ آکسیجن خارج کرتے ہیں جو انسانی زندگی کے لئے لازمی ہے ۔بھیڑ، بکری، اونٹ جیسے حیوانات اور سینکڑوں جنگلی جانور اپنی غذا ان ہی جنگلات سے حاصل کرتے ہیں۔جنگلات تفریحی مقامات کے کام آتے ہیں اور لوگ ان کے خوبصورت ،حسین مناظر سے لطف اندوزہوتے ہیں۔جنگلات مختلف اقسام کے جانوروں اور پرندوں کی افزائش اور نشونما کا ذریعہ بنتے ہیں انسان آج انہی درختوں کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے ،جی ہاں،وہی درخت اپنے قاتل اسی انسان کی بے شمار ضروریات پورا کرتے ہیں۔اگر ان نباتات کو زمین سے خارج کیاجائے و انسانی زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ۔یہی درخت جہاں ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں، وہیں ہوا کو صاف رکھنے ، آندھی اور طوفانوں کا زور کم کرنے ، آبی کٹاؤ روکنے ، آکسیجن میں اضافے اور آب و ہوا کا توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی موجودہ دور کا ایک گمبھیر مسئلہ ہے تودرخت ہی اس پیچیدہ مسئلے کا ایک اچھا اور آسان ترین حل ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع، دلکش مناظر اور متنوع ماحولیاتی نظام کا حامل ہے۔ تاہم، دنیا بھر کے بہت سے خطوں کی طرح، آزاد کشمیر بھی جنگلات کی کٹائی کے نقصان دہ اثرات سے دوچار ہے۔آزاد کشمیر میں جنگلات کی کٹائی بنیادی طور پر مختلف انسانی سرگرمیوں سے ہوتی ہے، بشمول لاگنگ، زراعت کی توسیع، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور لکڑی کی غیر قانونی تجارت۔ آزاد جموں و کشمیر کے سرسبز و شاداب جنگلات، جو کبھی حیاتیاتی تنوع سے مالا مال تھے، جنگلات کی کٹائی کے غیر منظم طریقوں کی وجہ سے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
انسانوں پر اثرات:
آزاد جموں و کشمیر میں جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی قیمتی نباتات اور حیوانات کے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ کئی مقامی انواع معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، جس سے ماحولیاتی نظام کے نازک توازن میں خلل پڑتا ہے۔ حیاتیاتی تنوع کا یہ نقصان نہ صرف خطے کی قدرتی خوبصورتی کو کم کرتا ہے بلکہ جنگلاتی وسائل پر منحصر انسانی معاش کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ جنگلات آب و ہوا کے نمونوں کو منظم کرنے، مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھنے اور سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسی قدرتی آفات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں جنگلات کی کٹائی ماحولیاتی انحطاط کو بڑھاتی ہے، جس سے مقامی کمیونٹیز کے قدرتی آفات کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔
پانی کی کمی:
آزاد جموں و کشمیر کے جنگلات قدرتی واٹر شیڈ کے طور پر کام کرتے ہیں، بارش کو پکڑتے ہیں اور ندیوں میں پانی کے بہاؤ کو منظم کرتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اس ہائیڈرولوجیکل سائیکل میں خلل ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی استعمال اور زراعت دونوں کے لیے پانی کی دستیابی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ پانی کی کمی نہ صرف رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ زرعی پیداوار کو بھی متاثر کرتی ہے، جس سے خطے میں غذائی تحفظ کو خطرہ ہے۔
فضائی آلودگی:
درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور آکسیجن خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس طرح ہوا کو صاف کرتے ہیں۔ وسیع پیمانے پر جنگلات کی کٹائی کے ساتھ، آزاد کشمیر میں ہوا کے معیار میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں سانس کے مسائل اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ فضائی آلودگی میں اضافہ پہلے سے ہی تناؤ کا شکار صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر مزید بوجھ ڈالتا ہے۔
اقتصادی اثرات:
ایندھن، لکڑی، اور غیر لکڑی والی جنگلاتی مصنوعات کے لیے جنگلاتی وسائل پر مقامی کمیونٹیز کا انحصار نمایاں ہے۔ جنگلات کی کٹائی ان وسائل کو کم کرتی ہے، کمیونٹیز کو آمدنی کے ضروری ذرائع سے محروم کر دیتی ہے۔ مزید یہ کہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ماحولیاتی سیاحت کی صلاحیت کا نقصان خطے کی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
مسئلہ کو حل کرنا:
آزاد جموں و کشمیر میں جنگلات کی کٹائی سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے حکومتی مداخلت، کمیونٹی کی شرکت اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل کثیر جہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔
جنگلات کے تحفظ کے قوانین کا نفاذ:
اگر قانون سازی کو مضبوط بنایا جائے اور غیر قانونی درختوں کی کٹائی ، جنگلات کی کٹائی کی سرگرمیوں کے لیے سخت سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تو آزاد کشمیر کے جنگلات کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اور عوامی سطح پر جنگلات کی آگاہی اور محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ قدرت کی اس حسین کاریگری کو تادیر قائم رکھا جا سکے.