عید خوشی اور معاشرتی بےحسی

73

تحریر :قدسیہ عزیز
ہمارے معاشرے میں کوئی بھی تہوار ہو سب سے پہلے تاجر طبقہ اپنی تلوار تیز کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے تجارتی بے حسی روز بروز بڑھتی جاتی ہے اگرچہ بعض اوقات اس کا اظہار ہم کھلے عام اور صاف انداز میں کرتے ہیں اور کبھی کبھی مصلحت پسندی کا شکار رہتے ہیں اب جیسا کہ عموما تذکرہ چلتا ہے محافل میں یا روزمرہ زندگی کے معاملات میں تو ہم نے دیکھا عید جو کہ خوشی کا تہوار ہے ہماری نوجوان نسل سے جب اس سے متعلقہ خوشی کا پوچھا جائے تو حیرت انگیز طور پر بچوں کے تبصرے بالکل ان کے گھر والوں کے بزرگوں کے تبصروں کے زیر اثر ہیں جس عمر میں بچوں کو عید کی خوشی تہوار ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے اور محافل کی بات ہو وہاں بچے عجیب تبصرے کرتے نظر اتی ہیں اج بھی حسب معمول کلاس لیکچر کے بعد جب مختلف بچوں سے ان کی عید خوشی کے متعلقہ پوچھا گیا تو بہت ساری طالبات کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہم خوش کب اور کیوں ہوتے ہیں اور اگر خوش نہیں ہیں تو اس کے پیچھے کیا اسباب ہیں ہم خوش کیسے رہ سکتے ہیں اکثر طالبات معاشرتی بے حسی بے چینی خدشات بے توجہ کی شکایات کرتی نظر ائی تو ہم نے سوچا کہ تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ رمضان جو کہ مہینہ ہے برکتوں نعمتوں کے شکرانے کا مہینہ اس میں ہمارے ہاں منافع خور لوگوں نے اور لوگوں نے اس کو سیزن قرار دے دیا مارکیٹ میں ہر شے کی قیمت دو گنا ہو چکی ہیں.

اب صورتحال یہ ہے کہ کم امدنی والے اور پسماندہ حال لوگ پھل کھانے کا تو سوچ بھی نہیں سکتے ہر انسان چاہے غریب ہو یا امیر عید پر کپڑے تو بچوں کے لیے ضرور خریدتا ہے مگر ان دنوں کپڑے اور جوتے عام ادمی کی پہنچ سے بہت دور ہے اب اگر دیکھا جائے تو صرف رمضان نہیں باقی ماندہ سال بھی صورتحال کچھ ایسی ہی رہتی ہے عام ادمی اور اس کو درپیش مسائل دراصل معاشرے کے حالات حاضرہ ہیں رنج کلفت رنج ا افسردگی کا راج ہے مہنگائی کے جن کو ہر حکومت قابو کرنے میں تقریبا ناکام ہی رہتی ہے عوام کے جان و مال کا تحفظ ان کا کاروبار ان کے لیے اسائش اور سہولیات ہر حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر ہمارے ہاں ہنوز دلی دور است ک مصداق حالات ویسے ہی ہیں ان کے ہر شعبہ حیات میں ان کے سر کردہ ا لیڈر اپنے اپنے کام کے لیے سرگرم نظر اتے ہیں ان میں صاحب اقتدار ڈاکٹر انجینیئرز غرض جو شخص جہاں پہ اپنا مطلب نکال سکتا ہے وہ اپنا کام کر دیتے ہیں ہمارے ہاں سارے رویے اور سوچ تبدیلی کا شکار ہیں اگرچہ یہ سب سچ ہیں مگر معاشرے میں معاشرے کو ہر دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جانا چاہیے انسانی فطرت خیر و شر سے سروکار رکھتی ہے اور نفس انسانی مسلسل بےکار چلتی رہتی ہے اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے کے عناصر صرف برائی کا ارتکاب ہی نہیں کرتے اسی بے حس معاشرے میں بڑے پیمانے پر غریبوں کی مدد چیرٹی کے ادارے ہر طبقہ زندگی نے تقریبا ان میں اپنا حصہ ڈالا ہے.

ہم سمجھتے ہیں انفرادی طور پہ سب لوگ دکھ تکلیف رنج کے باوجود انسانیت کے نعتیں ایک دوسروں کی تکلیف پہ بلبلا اٹھتے ہیں ان کے درد کو محسوس کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارے ہاں لوگ ہر تہوار کے علاوہ بھی اپنا کردار مثبت طور پہ ادا کرتے ہیں ان میں نادار یتیم بیوائیں اور سفید پوش طبقے کو حتی المقدور اپنے وسائل کے اندر ان کی امداد بھی کرتے ہیں اور معاشرے میں انفرادی طور پر لوگ ابھی بھی دوسروں کا خیال رکھتے ہیں اہل دل دوسروں کی تکلیف پہ ہر ممکن تعاون کرتے ہیں مگر معاشرہ جس قدر مسائل کا شکار ہے اور جو حالات اسے درپیش ہیں اس میں چند افراد کی محنت اٹے میں نمک کے برابر ہے اسی بے حس معاشرے میں ہزاروں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی زکوۃ صدقات اور خیرات کی مد میں خطیر رکعت خطیر رقم باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اور بیواؤں یتیمو ن بیماروں کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پہ پیش کرتے ہیں اسی معاشرے میں کچھ لوگ چپکے سے اور کچھ کھلے عام دوسروں کی مدد امداد کرتے نظر اتے ہیں معاشرہ ایک قلعے کی مانند ہوتا ہے افراد اس کی دیواروں میں لگی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں اگر ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے نکل جائے تو اس میں رکھنا پیدا ہوتا ہے اور اس طرح دشمن کے مقاصد کی تکمیل اور خاطر خواہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا.

معاشرتی خرابیاں اور مسائل دراصل موجود تو ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان مسائل کو قابو پانے کے بجائے انہیں اچھالتے ہیں اور لوگ خود بھی حوصلہ اور ہمت ہاتھیں ہیں اور دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی کرتے نظر اتے ہیں سنی سنائی باتوں منفی پروپگنڈے کی وجہ سے ہم شعوری یا لاشعوری طور پر معاشرتی تنزل کا شکار رہتے ہیں برائی کا زیادہ تذکرہ دراصل برائیوں کے پرچار کا ذریعہ ہوتا ہے اگر ہم ایسا کریں گے تو معاشرے کا مدافتی نظام کمزور پڑے گا اور ہمارا اعتماد مجروح ہوگا قوت زائل ہو جائے گی اس میں اپنی قوت کو شعوری طور پر بہتر بنانے اعتماد اور اعتبار کی فضا پیدا کرنا ہوگی تاکہ ہماری انے والی نسلیں بقا حاصل کر پائے معاشرہ افراد کا مجموعہ ہے افراد کے مابین ایثار اور استحکام ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوا دشمن قوت اس پہ قابو پا لے گی اور معاشرہ زوال پذیر ہو جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں