گلوبل وارمنگ

63

تحریر :نادیہ حمید
گلوبل وارمنگ یعنی عالمی حدت سے مراد کرۂ ارض کی سطح پر تیزی سے بڑھتا ہوا درجۂ حرارت ہے۔ ماحولیاتی مطالعات کی روشنی میں برابر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ زمین پر درجۂ حرارت لگاتار بڑھ رہا ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق پچھلی صدی میں زمین کا درجہ حرارت ۷۵ء۰ ڈگری سنٹی گریڈ تک بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیشنل پینل آن کلائمٹ چینج کی جائزہ رپورٹ میں جو کہ اس سال کے شروع میں جاری ہوئی ہے، بتایا گیا ہے کہ آنے والے وقت میں زمین کا اوسط درجۂ حرارت۰ء۲ ڈگری سینٹی گریڈ سے لے کر ۵ء۴ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ ایک اور اندازے کے مطابق یہ اضافہ ۶ ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی ہو سکتا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث دنیا بھر میں جنگلات کے جلنے، سیلاب اور خشک سالی کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق انٹر گورنمنٹل پینل کی ایک رپورٹ اس سال اپریل میں جاری ہوئی ہے جس میں آب و ہوا میں تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی حدت کے نتیجے میں ۲۰۲۰ء تک افریقہ میں ۷۵ سے ۲۵۰ ملین لوگ پانی کی قلت کا شکار ہو جائیں گے جبکہ کچھ افریقی ملکوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے زراعت کو زبردست نقصان ہو گا اور اس میں ۵۰ فیصد تک کمی آجائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی ممالک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور دنیا کی غریب آبادی اس مصیبت کا سب سے زیادہ شکار ہو گی۔

گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشئروں کی برف پگھل رہی ہے جس کے نتیجے میں سیلاب آرہے ہیں اور آنے والے وقت میں اس کیفیت میں اور اضافے کا اندیشہ ہے۔ خشک علاقوں میں زمینیں بنجر ہونے اور پھٹنے کا امکان ہے جس کی وجہ سے قحط اور بھک مری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گلیشئروں کی برف پگھلنے سے ایک طبیعاتی اور کیمیائی نقصان یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ کرنوں کا انعکاس (Reflection) گھٹ رہا ہے یا مستقبل میں گھٹے گا۔ اس کی وجہ سے زمین کی سطح پر زہریلی گیسوں کا لیول بڑھے گا اور اوزون کی سطح بھی مزید متاثر ہو گی۔ واضح رہے کہ زمین کی فضائی سطح کے اوپر قدرتی گیسوں (Ozone) کی ایک پرت موجود رہتی ہے جو زمین پر سورج سے آنے والی حدت کو کم کرتی ہے اور سورج کی روشنی سے پھوٹنے والی نقصان دہ شعائوں کو زمین پر پہنچنے سے روکتی ہے۔ اوزون کی یہ پرت فضا میں خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کی وجہ سے پچھلے کچھ عرصے میں کافی متاثر ہوئی ہے اور اس میں کئی جگہ ’’سوراخ‘‘ نمودار ہو رہے ہیں

گرین ہاؤس گیس کیا ہے؟
سورج سے حاصل کی جانے والی روشنی اور کرنوں کو فضا میں فلٹر کیا جاتا ہے اور ان اورکت شعاعی تابکاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، لیکن مختلف گیسیں پائی جانے کی وجہ سے کچھ گرمی زمین پر لوٹ جاتی ہے۔ ماحول کی گرمی کی منتقلی یا گرمی برقرار رکھنا ، جو زمین کو گرم کرنے اور گرمی کے نقصان کو روکنے کا سبب بنتا ہے ، اسے گرین ہاؤس گیس اثر کہتے ہیں۔ اس عمل میں اورکت روشنی ، جذب اور دوبارہ پھیلاؤ شامل ہے۔اگرچہ کرنیں برقی مقناطیسی لہریں ہیں ، لیکن انھوں نے انووں کے ذریعہ مشتمل فوٹون کو جذب کرنا برقی فیلڈ کے ساتھ تعامل کا نتیجہ ہے۔ گروپ تھیوری اور کوانٹم میکینکس کے ذریعہ ، یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہی جوہری سے بنائے گئے انو عنصر اورکت روشنی کو براہ راست جذب نہیں کرسکتے ہیں۔ لہذا ، نائٹروجن ، آکسیجن آرگن اور ڈائیزوڈائی آکسائیڈ وغیرہ۔ گیسیں گرین ہاؤس اثر میں معاون نہیں ہیں۔ تاہم ، پانی کی بخارات ، کاربن مونو آکسائیڈ ، کاربن ڈائی آکسائیڈ ، نائٹروجن پروٹوکسائڈ ، نائٹروجن آکسائڈ ، اوزون ، سلفر ہیکسا فلورائڈ (SF6) ، پرفلوورو کاربن (پی ایف سی) ، ہائڈرو فلورائڈ کاربن (ایچ ایف سی) ، میتھین (سی ایچ 4) کی مقدار اور اورکت موثر صلاحیت برقرار ہے۔

کیوٹو پروٹوکول ان مرکبات سے گندھک اور نائٹروجن مرکبات کے اخراج پر پابندی عائد کرتا ہے ، جنہیں گرین ہاؤس گیسوں میں شمار کیا جاتا ہے ، کیونکہ وہ تیزاب بارش کا باعث بنتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) ممالک کے فضائی معیار کے تحفظ کے لئے ہوا کی مقدار کو محدود کرتی ہے اور ضوابط قابو میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی گلوبل وارمنگ کے حوالے سے حالیہ رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق اگر 2050ء تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو صفر نہ کیا گیا تو صدی کے اختتام تک کرہ ارض جانداروں بشمول انسانوں کیلئے جہنم بن سکتا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ! یقیناً یہ شدید قسم کی موسمیاتی تبدیلیوں کا سبب ہو گا جیسے گرمی کی لہریں شدید اور Tropical Cyclones ‘بے وقت بارشیں اور خشک سالی و غیرہ۔ یہ تو گلوبل وارمنگ کے وہ اثرات ہیں جو ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی کے انسانی زندگی پر بھی بہت مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔

دنیا میں فضائی آلودگی کے سبب ہر سال تقریباً 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور یہ صور تحال دن به دن مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی مختلف امراض جیسے پھیپھڑوں کا کینسر سانس، آنکھوں اور گلے کی بیماریاں اور فالج کے مریضوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کے سبب گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی آلودگی کی زیادہ ذمہ داری ترقی یافتہ ممالک پر عائد ہوتی ہے، لیکن اس ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سب سے زیادہ ترقی پذیر ممالک اور ان طبقوں پر پڑ رہے ہیں جو پہلے ہی پسماندہ ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان کے پاس گلیشیئرز کی صورت میں دنیا بھر میں برف کے تیسرے سب سے بڑے ذخائر ہیں، بظاہر یہ بہت ہی اچھی بات ہے لیکن بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان میں گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے ۔بڑھتا ہوا درجہ حرارت بحیرہ عرب کو گرما رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شمال میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے بھی پاکستان کے لیے مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہورہا ہے۔گلوبل وارمنگ ‘ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیر کی وجہ سے پورا کرہ ارض شدید طور پر متاثر ہو رہا ہے‘ کرہ ارض پر صحرائی رقبہ بڑھ رہا ہے جب کہ سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سمندری طوفانوں کی شدت بھی بڑھ رہی ہے ، غیر متوقع بارشوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے

جنگلات کی کٹائی، شجرکاری کی کمی، پلاسٹک کا بے دریغ استعمال، دریا اور سیلابی راستوں کے قریب غیر قانونی آباد کاری، قدرتی وسائل سے دوری اور روایتی کارخانے اور مشینی آلات و گندگی اس کے بنیادی وجوہات ہیں۔گلوبل وارمنگ بڑھنے سےپاکستان کے موسمی معمولات بھی متاثرہو رہے ہیں،محکمہ موسمیات نے چند سالوں میں سردی کا دورانیہ مزید کم ہونے کی بری خبر سنا دی ہے۔ماہرین نے پاکستان میں گلوبل وارمنگ کے اثرات پر کنٹرول کو ناگزیر قرار دیتے ہو ئے کہا ہے کہ مختلف ممالک میں شروع ہونیوالے بڑے منصوبوں کے انسانی زندگیوں پر پڑنے والے منفی اثرات سےبچنے کیلئے موثراقدامات کرنا ہوں گے۔پاکستان کو بھی اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے کوشش کرنا ہوگی۔ پاکستان کو عالمی ماحولیاتی ایجنڈے کا حصہ بننا ہوگا۔ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ عالمی توجہ حاصل کرنے کیلئے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ہوگا۔
(1) اپنے مقصد کو عالمی مقصد سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔
(2) عالمی تپش کو 1.5 سیلسیس تک محدود رکھنے اور خود کو کاربن نیوٹرل اور 2030ء تک تقریباً زیرو کاربن اخراج کرنے والا ملک بنانے اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے خاتمے کی باضابطہ طور پر حمایت کرنا ہوگی۔
(3) پاکستان کے اعلانات قابل بھروسہ ہونے چاہئیں اور انہیں منصوبہ بندی اور مناسب اقدامات کے تحت وزن دار بنایا جائے۔ان اقدامات کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔ماحول سے متعلق عالمی میدان میں ماحولیاتی تبدیلی ترقیاتی منصوبہ بندی پر عمل کا عزم ظاہر کرنا ہوگا۔ جدید توانائی کے ذریعے اپنی مسابقت بڑھانا ہوگی۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے ، سکول کالجز اور یونیورسٹیز سیمینار اور واک کے ذریعے طلبا و طالبات سمیت عام لوگوں کو گلوبل وارمنگ کے بارے میں آگاہی دی جائے۔ گلوبل وارمنگ کے نقصانات اور اسباب کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ حکومتی سطح پر بھی بڑے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت پاکستان نے ماحولیات کی وزارت بنائی ہے اور صوبائی سطح پر بھی ادارے موجود ہیں، انہیں مؤثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں