پاکستانی کشمیر توجہ چاہتا ہے

60

تحریر: پکار، شیراز خان لندن
آزاد کشمیر جسے عرف عام میں آزادی کا بیس کیمپ کہا جاتا ہے ماضی قریب میں برطانیہ یورپ اور امریکہ سے جب پارلیمانی وفود کو مظفرآباد براستہ اسلام آباد کا دورہ کروایا جاتا رہا ہے تو ائیرپورٹ سے سیدھا پروٹوکول میں لے جا کر اسلام آباد کے سیون اسٹار ہوٹل سرینا میں ٹھہرایا جاتا رہا ہے وہاں پر کشمیر کی مناسبت سے کوئی چھوٹی موٹی تقریب یا سیمنار منعقد کروا کر گھنٹوں انگریزی میں انہیں تقریریں سنائی جاتی تھیں ارباب اختیار سے ملاقاتیں، مار گلہ اور گرد و نواح کی سیر کروائی جاتی پھر مظفرآباد لےجایا جاتا جہاں وہ ریاستی مہمان یا سٹیٹ گیسٹ ہوتے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات اور پرل کنٹینٹل ہوٹل میں ان کے طعام اور رہاہش کا انتظام وانصرام ہوتا مظفر آباد میں قائم ہندوستان کے قبضے سے آنے والے مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کروایا جاتا .ان کو مسئلہ کشمیر پر بریفنگ دی جاتی اور انہیں وہی پرانی لکھی ہوئی رٹی رٹائی باتیں سنوائی جاتی جنکا نہ کوئی مقصد ہوتا اور نہ اس کا آزادی کے لائحہ عمل مرتب کرنے کا۔ ہمارا پورا میڈیا انکی شہ سُرخیوں سے کوریچ کرتا وقتاً فوقتاً حکومت پاکستان انکو مسئلہ کشمیر کو بیرون ملک اجاگر کرنے پر قومی ایوارڈز سے بھی نوازتی رہی ہے لیکن افسوس کہ اس کا کوئی نتیجہ کشمیریوں کے یا پاکستان کے مفاد یا حق میں نہیں نکلا۔ دوسری جانب سرکاری خرچے پر آزاد کشمیر کے ممبران اسمبلی وزراء وزیراعظم اور صدر جب برطانیہ یورپ اور امریکہ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے نام پر جاتے تو انکی وہاں کے مقامی اداروں اور میڈیا میں کوئی سرگرمی نہیں ہوتی اپنے ہی لوگوں اور برادریوں کو جمع کرکے مسئلہ کشمیر پر تقریری جگالی کرتے پھر وہ تقریریں آزاد کشمیر کے ڈاک اڈیشنوں میں شائع ہوتیں جنکی شہ سرخیاں کچھ اس طرح ہوتیں .
میں مودی کو گھس کر ماروں گا .اگلا یوم آزادی ہم سرینگر میں منائیں گے.آزاد کشمیر کے بڑے شہروں سے پروازیں امریکہ اور یورپ میں شروع کریں گے.سوئی گیس فری دیں گے” کشمیر کو سوئزرلینڈ بنا دیں گے آزادکشمیر گرین اور سکلڈ بنائیں گے وغیرہ وغیرہ .حقیقت حال یہ ہے کہ ہم نے کشمیر پر یہ سارا کچھ کرکے پیسہ اور وقت ضائع کیا 5 اگست 2019 سے کشمیر پالیسی گوں مگوں کا شکار ہے .جنرل باجوہ کی صحافیوں سے ملاقات اور کشمیر پر قومی پالیسی پر یوٹرن کی خبریں کشمیریوں میں بے چینی اور شکوک وشبہات جنم لے رہی ہے اس پر حکومت پاکستان کو جتنا جلد ہوسکے اپنی پالیسی کو واضح کرنا چاہئے کہ ان خبروں میں کتنی صداقت ہے آزاد کشمیر کے حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ کوئی ربڑ سٹیمپ نما وزیراعظم بٹھایا جائے جس سے آزاد کشمیر کے حصے بخرے کئے جائیں.

وہ علاقے جو پنجاب سے ملتے ہیں انہیں پنجاب میں ضم کیا جائے اور وہ علاقے جو خیبرپختونخوا سے ملتے ہیں انہیں خیبرپختونخوا میں شامل کرلیا جائے .ایسا اگر کوئی منصوبہ پائپ لائن میں ہے تو حکومت پاکستان کو کشمیری قوم کو اعتماد میں لینا چاہیئے میرا مشورہ ہے کہ ایسا کوئی ایڈونچر ہوا تو یہ پوری کشمیری قوم کے لئے ناقابل تسلیم ہوگا ہونا تو یہ چاہیئے کہ نہ ہی ہمیں کشمیر پالیسی پر جنرل باجوہ ڈاکٹرائن کو خاطر میں لانا چاہیے اور نہ ہی آزاد کشمیر کے حصے بخرے کرنے چاہیئے کشمیر ایک وحدت اور حقیقت ہے آزادکشمیر ایک اکائی ہے جس کو زیادہ سے زیادہ داخلی خودمختاری دی جائے یہاں کوشش کرنی چاہئے کہ ٹورازم انڈسٹری کو فروغ دیا جائے منگلا ڈیم کے چاروں اطراف سیاحوں کے لئے ریسوٹ کھولے جائیں پورے پنجاب سے سیاح یہاں آئیں میرپور چکسواری تک ریلوے لائن بچھائی جائے یہ امر قابل افسوس ہے کہ آزاد کشمیر پورے میں ایک فٹ بھی ریلوے لائن نہیں پورے آزاد کشمیر میں ایک بھی ائیرپورٹ نہیں میرپور کوٹلی کے لوگوں کو یہ سہولت تو دیں کہ وہ بیرون ملک سے اپنے گھروں کو جاسکیں ضلع کوٹلی کی بات کریں تو میں نے حال ہی میں مارچ میں یہاں کا سفر کیا یہاں چڑھوئی پنجن جہاں پر صوفی بزرگ میاں محمد بخش نے سیف الملوک لکھا یہ ایک تاریخی جگہہ ہے انکے عقیدت مند کروڑوں میں ہیں انکو یہاں لانے کے لئے سہولیات دی جائیں ہوٹل بنائے جائیں یہاں تھروچی کا تاریخی قلعہ بھی ہے کوٹلی کھوئی رٹہ وادی بناہ، تتہ پانی اور نکیال یہ اتنے خوبصورت علاقے ہیں یقین جانیے میں کوئی چھ دفعہ سوئزرلینڈ گیا ہوں وہاں سے بھی زیادہ یہ علاقے ڈویلپ کرکے ہم اپنی آمدن بڑھا سکتے ہیں مقامی افراد کو ملازمتیں دے سکتے ہیں کوٹلی شہر کے مقامی لوگوں نے اپنے بہت سے مسائل کا ذکر بھی کیا اس شہر کا بڑا مسئلہ صاف پینے کے پانی کی عدم دستیابی ہے.

میرپور کی طرح کوٹلی واٹر سپلائی سیکم بھی بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کی کرپشن کی نزر ہو گی ہے شہر کے گٹر کا پانی اور کوڑا کرکٹ دریائے پونچھ میں ڈالا جاتا ہے جس سے ماحول میں آلودگی اور بیماریاں بڑھ رہی ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کے جنگلات کاٹ کر لکڑی بلیک میں فروخت کی جارہی ہے اگر آزاد کشمیر کے دیگر اضلاع کی بات کریں تو راولاکوٹ تولی پیر خوبصورت علاقہ ہے باغ کی پہاڑیاں مظفرآباد اور وادی نیلم تک ٹورازم کو فروغ دیا جائے تو آزاد کشمیر پاکستان کا انتظامی یا دفاعی یونٹ نہیں بلکہ ایک پورا ملک ہے جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکتا ہے غیر ملکیوں کے یہاں داخلے پر این او سی ختم کیا جائے آزاد کشمیر کے نوجوان آج اپنی محرومیوں کا اظہار ببانگ دھل کرتے ہیں بجلی کے بلات کی تحریک ہو یا حقوق کی خاطر چلنے والی کوئی تحریک ہو آزاد کشمیر کا نوجوان روزگار تعلیم اور مواقع یکساں بنیادوں پر چاہتا ہے وہ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت سے اسطرح جڑا ہوا ہے جیسے خود پاکستانی ہیں انکا ملازمتوں تعلیم اور دیگر شعبوں میں کوٹہ بڑھایا جائے اور کشمیریوں کو بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی نمائندگی دی جائے تاکہ وہ اپنے آپ کو پاکستان سے الگ تھلگ نہ سمجھیں ۔جاتے جاتے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی ایک وائرل ہونے والی ویڈیو سن کر سخت افسوس ہوا ہے جس میں وہ ایسے نوجوانوں کو بیہودہ گالی دے رہے ہیں جو کشمیر میں حقوق اور آزادی کی بات کرتے ہیں لیڈروں کو پیار سے نوجوانوں کو سمجھانا ہوتا ہے نہ کہ گالیاں دینا مناسب طریقہ ہے افسوس ہمارے لیڈر چاپلوسی میں حد کراس کرجاتے ہیں ہماری طرف آزاد کشمیر میں ہندوستان کا کوئی بھی ہمدرد نہیں لیکن محرومیوں کا اظہار کرنے سے غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی کوئی ضرورت نہیں یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزادکشمیر کے سیاسی قائدین نے آزادکشمیر سیاسی اور آئینی حیثیت کو قائم کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لئے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں کیا پیش رفت کی ہے چار سو میگاواٹ بجلی کے لئے آزاد کشمیر کی عوام سراپا احتجاج ہے اسمبلی کے اس وقت 53 ممبران ہیں جن میں سے 34 وزیر ہیں مشیران اکرام، سیکرٹریز سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور دس اضلاع ہیں تین ڈویژن بنے ہوئے ہیں چیف سیکرٹری ہے آئی جی ہے ہیلتھ فنانس سیکرٹری ہے ہر محکمے کے ڈپٹی سیکریٹرز ہیں 21 سے 22 سیکیل کے 38 افیسرز ہیں صدر ، وزیراعظم سپیکر قائد حزب اختلاف ہے ایک وزارت پر تقریباً دو کروڑ روپے ماہانہ خرچ ہے پاکستان سے ملنے والا 70 سے 80 فیصد بجٹ ان غیر پیداواری انتظامی امور پر خرچ ہوجاتا ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کے لئے 20 فیصد بجٹ دستیاب نہیں ہوتا یہ بھی وسائل کا کھلے عام ضیائع ہے پاکستان کا خزانہ ان عیاشیوں کا مزید متحمل نہیں ہوسکے گا آزاد کشمیر کی قیادت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئے اور غیر پیداواری اخراجات کو کم کرنا چاہیئے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں