بنیادی تعلیم مسائل اور حل

58

مافی الضمیر،نہدیہ مقبول گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج باغ
تعلیم کسی بھی قوم و معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے. اقوام کا عروج اکثر تعلیم ہی کا مرہون منت رہا ہے. دنیا کے اکثر و بیشر ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو فروغ دے کر کر ترقی کی منازل تیزی کے ساتھ طے کی ہیں.جب بات بنیادی تعلیم کی ہو تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے.ابتدائی تعلیم” یا “بنیادی تعلیم” ہم معانی اصطلاحات ہیں. انگریزی میں ان اصطلاحات کے لیے “Primary Education” کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے. بنیادی تعلیم کا دورانیہ کسی بچے کی تعلیم کے ابتدائی آٹھ سالوں پر محیط ہوتا ہے.کسی بھی بچےکی زندگی کے تعلیمی مراحل میں بنیادی تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے. یہی وہ بنیاد ہے جس پر آگے چل کر تعلیمی عمارت استوار ہوتی ہے. اگر کسی عمارت کو کمزور بنیادوں پر کھڑا کر دیا جاۓ تو وہ کبھی بھی مضبوظ تصور نہیں کی جاتی اور ہمیشہ ممکنہ خطرات کی زد میں رہتی ہے.یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ابتدائ تعلیم پر بطور خاص توجہ دی جاتی ہے اور اس کو مؤثر بنانے کے لیے تمام وسائل بروۓ کار لاۓ جاتے ہیں تاکہ قوم کے معماروں کو آنے والے وقت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا سکے لیکن وطن عزیز میں دیگر کئ شعبوں کی طرح بنیادی تعلیم کا شعبہ بھی ماضی سے لے کر حال تک حکمرانوں کے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھتا آ رہا ہے.

دراصل بنیادی تعلیم کے حوالے سے دنیا بھر میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں .پہلی یہ کہ کیا پڑھایا جاۓ اور دوسری کہ کیسے پڑھایا جاۓ.سب سے اہم مسئلہ نصاب سازی کا اور آج تک اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا کہ ابتدئ جماعتوں میں بچوں کو کون سا نصاب پڑھایا جاۓ.یہی وجہ ہے کہ جہاں نجی تعلیمی اداروں کے سر براہان مان مانی کرتے ہوۓ کبھی “آکسفوڈ یونورسٹی پریس” کا نصاب نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو کبھی” ہیڈ سٹارٹ” کا اور کبھی” آفاق “کی طرف نظر کرم کرتے ہیں.قطع نظر اس کے کہ ہماری ضرورت کیا ہے اور زمینی حقائق کیا ہیں ؟ یہی صورت حال سرکاری تعلیمی ادراوں کی ہے. ابتدائ جماعتوں میں پڑھایا جانے والا نصاب بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں بری طرح نا کام ہے.اساتذہ کے نزدیک بچوں کو کتابیں رٹوا لینا بڑی کامیابی ہے اور اسی کو تعلیم کی غرض و غایت سمجھا جاتا ہے.یہی وجہ ہے کہ ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے غیر ترقی یافتہ ممالک کے تقریبا ۹۰% بچے پرائمری تعلیم کی تکمیل تک فہم کے ساتھ پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح صرف ۹ % ہے .اسی طرح ہمارا امتحانی نظام ذہانت اور صلاحیتوں کی جانچ کی بجاۓ محض یہ جانچنے کا ذریعہ ہے کہ کسی بچے میں رٹنے کی کتنی صلاحیت ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر نتائج کی درجہ بندی کی جاتی ہے.

ابتدائ جماعتوں کے اساتذہ کا تقرر کرتے وقت محض استاد کی تعلیم دیکھی جاتی ہے اور اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ استاد کا ذہنی رجحان کیا ہے ؟ اور وہ بچوں کی نفسیات کو سمجھننے اور حل کرنے کی اہلیت رکھتا/رکھتی ہے یا نہیں؟یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز دنیا کے ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں ابتدائ سطح پر بچوں کی اکثریت ان غیر تربیت یافتہ اور نفسیات سے نابلد اساتذہ کی طرف سے کیے گۓ جسمانی تشدد کا شکار بنتی ہے اور پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی اسکولوں کو خیرباد کہ دیتی ہے. دراصل بچہ استاد کی محبت اور ہمدردی کا خواہاں ہوتا ہے اس لیے استاد کو پیکر شفقت و محبت ہونا چاہیے.ایک متوازن شخصیت کا حامل استاد ہی بچوں کی شخصیت درست خطوط پر استوار کر سکتا ہے. اس لیے وقتا فوقتا اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت وقت ہی اہم ضرورت ہے. ہر بچہ انفرادی شخصیت کا مالک ہوتا ہے . آموزش کی صلاحیتیں بھی جداگانہ ہوتی ہیں .دلچسپی کے میدان بھی الگ ہوتے ہیں اس لیے ایک استاد کی ذمہ داری ہے کہ دوران تدریس بچوں کے مابین انفرادی اختلافات کو مد نظر رکھتے ہوۓ ایسی حکمت عملی اختیار کرے جس سے تمام بچے مستفید ہو سکیں.

ایک بڑا مسئلہ طبقاتی نظام تعلیم ہے. غریب کے بچے کے لیے سرکاری سکول ہے .متوسط طبقے کے لیے عام انگلش میڈیم اسکول اور اشرافیہ کے بچوں کے لیے سٹی, روٹس, اور بیکن ہاؤس جیسے مہنگے ترین تعلیمی ادرے ہیں . یا دینی مدارس ہیں . ان اداروں میں دینی اور دنیاوی تعلیم میں توازن برقرار نہیں رکھا جاتا. تاہم دار ارقم کی طرز قائم کچھ ادارے دینی اور عصری تعلیم میں توازن برقرار کرنے کی کوشش ضرور کر رہے ہیں تاہم ایسے اداروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے. حکمرانوں کی طرف سے آۓ روز یکساں نصاب اور یکساں نظام تعلیم نافذ کرنے کے دعوے اکثر سننے کو ملتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا . ضرورت اس امر کی ہے کہ ماہرین تعلیم کے زیر نگرانی یکساں نصاب تعلیم تیار کروا کر ملک کے تمام سرکاری اور نجی ادروں میں نافذ کر دیا جاۓ تاکہ دوہرے نظام تعلیم کا خاتمہ ممکن ہو اور بلا تفریق امیر غریب سب ایک جیسے نظام تعلیم سے مستفید ہو سکیں.

ہمارے اکثر سکولوں کی حالت انتہائ نا گفتہ بہ ہے اور بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں جن میں پینے کا صاف پانی بیت الخلااور چار دیواری سر فہرست ہیں.یہ مسائل حل طلب ہیں اور ارباب اختیار کی توجہ کے طلبگار ہیں .اسی طرح ابتدائ سطح پر لائبریری کی ضرورت کو بھی اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ مملک میں ابتدائ جماعتوں سے ہی نصاب کے ساتھ دیگر کتب کے مطالعہ کی تحریک و ترغیب دی جاتی ہے .ضرورت اس امر کی ہے کہ لائبریری ہر پرائمری اسکول کا لازمی حصہ ہو. بچوں کی عمر اور ذہنی استعداد کے مطابق تاریخ , اسلام , سائنس, ادب , اخلاقیات اور حفظان صحت کے موضوع پر کتابیں موجود ہوں. ہر جماعت میں بچوں کے لیے لائبریری پیریڈکا مخصوص دورانیہ متعین کیا جاۓ تاکہ ابتدائ سطح سے ہی بچوں میں مطالعہ کا رجحان فروغ پا سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں