تحریر :محمد ریاض خان جبوتوی
امریکہ میں مقیم کشمیری بزنس مین سردار محمد صابر خان نے یونین کونسل پکھر کے پسماندہ مگر خوبصورت گاؤں ڈنہ نمبر 4 میں آنکھ کھولی. ابتدائی تعلیم کہوکوٹ سے حاصلِ کی. سکول میں ذہانت کی وجہ سے اساتذہ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھ.ے سکول کے گراؤنڈ میں والی بال میچ کے دوران جم کر کھلتے تھے. بہت اچھے کھلاڑیوں میں انکا شمار ہوتا تھا .سکول کی پڑھائی مکمل ہونےکےبعد راولاکوٹ حیسن شہید ڈگری کالج میں داخلہ لیا.

کالج سے فارغ ہونے کے بعد سعودی عرب آنگلش کمپنی جوائن کرلی. اپنی خدا داد صلاحیتوں اور محنت کی وجہ سے امریکہ روانہ ہو گئ.ے طویل عرصہ تک امریکہ کی سرد ہواؤں سے لڑ کر محنت مشقت کی .اس وقت ان کا امریکہ میں اچھا بزنس ہے. ان کے ہونہار بیٹوں نے کاروبار سنبھال رکھا ہے.
راولاکوٹ کھڑک کالج کے پاس ایجوکیشن کمپلیکس ان ہی کی ملکیت ہے. سردار خان انتہائی ھمدر ملنسار اور خوش اخلاق و کردار کے مالک ہیں. ہر سال رمضان المبارک کی خوشیوں میں غریبوں سفید پوشوں کو شامل کرتے ہیں، ہر سال ایک کروڑ کے لگ بھگ فوڈ پیکج غریبوں کے گھروں تک پہنچایا جاتا ہے.
پکھر ڈنہ نمبر 4 برادری کے لیے قبرستان کی تنگی کو محسوس کیا تو اپنی جیب سے قبرستان کے لئے زمین خرید کر برادری کو عنایت کی. کوئی بھی قلم کار جب قلم اٹھاتا ہے تو کسی کی خوبی دیکھ کر ہی اٹھاتا ہے .ورنہ نہیں ہم جو محسوس کرتے ہیں وہی تحریر کرتے ہیں. انھوں نےہمیشہ سیاست میں وڈیروں کے خلاف بغاوت کی.
1985میں تاریخی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے غازی ملت سردار محمد ابراھیم خان کا ساتھ دیا. ہر مشکل محاذ پر کھڑے رہے. سردار محمد صابر خان کا غازی ملت کے جانثار کارکنان میں شمار ہوتا تھا .کئی مرتبہ مجھے کہا کے میری تشہیر نہیں کرنا. میری قلم کی نوک نے ان کی خدمات کے صلہ میں بے صبری کر دی. خدمتِ خلق ایسی ہو کےلکھتے وقت قلم دریا کی موجوں کی طرح چلتا رہے.