عنوان: روشنی

92

تحریر :مقصود منتظر
انسان علم عمر کے کسی بھی حصے میں حاصل کرسکتا ہے جیسا کہ آپ سنا اور پڑھا حتیٰ کہ دیکھا بھی ہوگا کہ فلاں ملک کے فلاں علاقے کے پچاس ساٹھ سال کے بابے نے ماسٹرز یا پی ایچ ڈی مکمل کرلی لیکن تربیت کیلئے کچی عمر کا ہونا لازمی شرط ہے. بچپن سیکھنے اور سمجھانے کی عمر ہے. اس عمر میں بچہ جو تربیت پاتا ہے اس کا اثر تاحیات رہتا ہے.خوش قسمت ہے جاپانی قوم جس نے یہ گُر پایا. اس پرعمل کیا اور اس سے ہی باقی قوموں پر عروج پایا.جو جاپان دیکھ چکے ہیں وہ وہاں کے باشندوں کے اخلاق کی بلندی سے خوب آشنا ہیں. وہاں کے عوام میں ایمانداری کی بلند مثال دیکھ چکے ہیں.

وہاں کے صاف ستھرے نظام زندگی سے بھی واقف ہیں. ایک دوسرے کی عزت، احترام، خیال، اور ہمدردی میں یہ لوگ باکمال اور بے مثال ہیں.اس سب کا ایک ہی سبب ہے اور وہ ہے تربیت.ہمارے ہاں بھی اسکول ہیں، مدرسے بھی ہیں اور بے شمار مساجد بھی. ہم قرآن والے اور سیرت نبی کریم والے بھی ہیں مگر ایمانداری ندارا. اخلاق سے خالی. ہمدردی خال خال. عزت و احترام بس پیسے اور عہدے والے کی.وجہ ایک ہے وہ ہے تربیت کا فقدان.کسی سکول میں جائیں تو وہاں پڑھانے والی، پڑھی لکھی آنٹیاں اور آنٹے ( انکل) خود تربیت کے متضاد دکھائی دیتے ہیں.

بچے کی خاک، والدین تک کا احترام نہیں کرتے. ہاں پیسے والا بابو کبھی اسکول کا درشن کرے تو دیکھتے ہی سب آنٹیاں اور آنٹے سرنگوں ہوجاتے ہیں.اسکول والوں کا اسکول والوں کے ساتھ مقابلے کی ریس لگی ہوئی ہےاور اس دوڑ میں جو گھوڑے دوڑائے جارہے ہیں وہ ہیں معصوم اور کچے ذہن کے بچے. جو بچہ زیادہ نمبرزحاصل کرتا ہے اسے رج کر اسکالر شپس تک دی جاتی ہے. اس کے والدین کو بھی پروٹوکول نما مصنوعی آؤ بھگ ملتی ہے.تربیت خاک بس تعلیم نما کوئی ادنی سے شے کیلئے نسلوں کو برباد کیا جارہا ہے.والدین کی جمع پونجی کو دہکتے تندور یعنی اسکول فیس کی بٹھی میں راکھ بنادی جاتی ہے.

تربیت خاک دس بارہ سال بعد نمبروں کے گھوڑے قوم کے حوالے کیے جاتے ہیں.تربیت خاک لکھنے پڑھنے والی مخلوق ملک کے سسٹم میں داخل کیے جاتے ہیں اوران میں قومی و دیگر ذمہ داریاں سنبھالنے والے بیشتر کرپٹ، بے ایمان، بداخلاق، راشی اور نہ جانے کیا ثابت ہوتے ہیں.یاد رکھیں بلکہ لکھ کر رکھیں صرف تعلیم شعور نہیں دیتی تربیت ضروری ہے.یقین نہیں آتا توچودہ سو سال پہلے کا صحرائے عرب ذہن میں لائیں. جب جاہلیت عروج پر تھی. تمیز نام کی کوئی شے موجود نہیں.معاشرے میں اخلاقیات کی دور دور تک بُو تک نہیں آتی تھی. تب میرے اور آپ کے اُمی نبی نے تربیت سے معاشرے کو بدلا. احسن اخلاق اور بے مثال ایماندار سے دنیا کو فتح کیا.پھر جب رب نے اپنے محبوب کی تعریف کی تو ان کے اخلاق کا ذکر کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں