نقطہ نظر/ فائزہ گیلانی
“فیسٹولا مجھے اور خواتین کو کھا گیا ہے۔ اب مجھے اپنا آپ بوجھ لگنے لگا ہے۔ فسٹولا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد میں نے کئی بار اپنی جان لینے کی کوشش کی مگر پھر بچوں کا خیال آیا”۔ایسا کہنا ہے زینت کا، زینت کا تعلق مظفرآباد سے ہے۔ زینت کی تین سال قبل جب شادی ہوئی تو ان کی عمر سولہ سال تھی۔ اب زینت کے دو بچے ہیں مگر وہ (Vesicovaginal fistula) کے مرض میں مبتلا ہیں جس نے ان کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔فسٹولا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وقت پر مناسب علاج معالجے کی سہولت اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے زینت کی حالت دن با دن خراب ہوتی چلی گئی۔ شوہر نے بیماری کے چند ماہ بعد زینت کو والدین کے گھر بیھج دیا جہاں زینت بستر میں پڑی بچارگی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔
صرف زینت ہی نہیں بلکہ ایسے ہزاروں کیس ہیں جہاں معاشرتی ومذہبی روایات، فرسودہ نظام اور قوانین موجود نہ ہونے کے باعث بچیوں کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے جس کے باعث مستقبل میں ان کو مختلف مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔فسٹولا ایک ایسے بیماری ہے جو عورتوں کو بچے کی پیدائش کے دوران یا بعد میں سرجری کے دوران ہونے والی پیچیدگی کے باعث لاحق ہوتی ہے۔(Vesicovaginal fistula)فسٹولا کی وہ قسم ہی جس میں مسلسل پیشاب جاری رہتا ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ اس عورت کو ہر کوئی حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ مریض کی نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت بھی متاثر ہو جاتی ہے۔ یہ مرض تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے مگر آزاد کشمیر میں اس بارے کوئی آگاہی موجود نہیں۔
تاہم ایمز ہسپتال میں اپنے فرائض سرانجام دینے والی گائنکالوجسٹ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے دور دراز کے علاقوں میں صحت کی مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث خواتین میں فیسٹولا جنم لیتا ہے چونکہ وہ بچے کی پیدائش کے دوران بروقت ہسپتال نہیں پہنچ پاتیں جس کی وجہ سے فسٹولا کا مرض لاحق ہو جاتا ہے جبکہ فسٹولا کی دوسری وجہ سرجری کے دوران ہونے والی پیچیدگیاں ہیں جس سے (iatrogenic fistula) ہوتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا اور میڈیا سے متاثر بہت سارے مرد سیکس کے لیے مختلف طریقہ کار اپناتے ہیں جو موجودہ دور میں نئی شادی شدہ لڑکیوں میں فسٹولا کا باعث بن رہا ہے ۔ان کہ کہنا ہے کہ یہ مرض نہ صرف کم عمر بلکہ ہر عمر کی خواتین کو ہوسکتا ہے جس کی روک تھام کے لیے اگاہی کے ساتھ ساتھ صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔
محکمہ صحت سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں چار ہزار مریضوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر جبکہ پندرہ سو مریضوں کے لیے ایک بیڈ ہے۔ کشمیر کے دور دراز کے علاقے نیلم ،کیل لیپہ،حویلی سمیت دیگردیہی علاقوں میں کوئی گائنکالوجسٹ یا نرس تک موجود نہیں جو بچے کی پیدائش کے دوران بروقت طبی امداد فراہم کر سکے۔خواتین بچے کی پیدائش کے دوران دشوار گزار راستوں سے سفر طے کر کے جب ہسپتال پہنچتی ہیں تو گھنٹوں بیڈ تک نہیں ملتا جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ کا موجب بنتا ہے۔آزاد کشمیر میں سالانہ فسٹولا کے کتنے مریض آتے ہیں ؟ اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار موجود نہیں اور نہ ہی فسٹولا کے علاج اور آگاہی کے لیے کوئی فسٹولا سنٹر قائم ہے جبکہ بہت سارے نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی اس مرض سے لاعلم ہیں جن کی تربیت کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں ہے۔
عباس انسٹیویٹ آف میڈکل سائنسزز کے شعبہ گائنی کی ایک اور گائنکلوجسٹ ڈاکٹر سیماب ظفر کا کہنا ہے کہ کم عمری کی شادی ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ ایک بچی کی ہڈیوں کی نشوونما 18 سال کی عمر میں مکمل ہوتی ہے۔ اس سے قبل اس کی ہڈیوں کی مکمل نشوونما تک نہیں ہوتی اس معاشرے کا یہ المیہ ہے 14 سے 17 تک کی بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے اور ہمارے معاشرے میں شادی کے پہلے ہی سال بچی پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ بچے کی پیدائش ضروری ہے جو کہ اس کے لیے بہت سے صحت کے مسائل پیدا کرتا۔عباس انسٹیٹویٹ آف میڈیکل سائنسزز میں آنے والے کیسزز میں کم عمر بچیاں غذائی کمی ، انیمیا اور فسٹولا سمیت متععد مرض میں مبتلا ہوتی ہیں جبکہ خوراک کی کمی کے باعث پیدا ہونے والے بچے بھی جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر سیماب ظفر کا کہنا ہے کم عمری کی شادی کی روک تھام انتہائی ضروری ہے اس سے فسٹولا جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جن کا علاج تو ممکن ہے مگر معاشرے میں فسٹولا کے مریضوں کے ساتھ منفی رویے اپنائے جاتے ہیں جس سے مریض دوہری تکلیف سے گذرتے ہیں۔جینڈر ایکسپرٹ ڈاکٹر بشریٰ شمس کہتی ہیں کہ کم عمری کی شادی بڑی وجہ غربت، معاشرتی بگاڑ اور والدین کا خوف ہے ۔ڈر کی وجہ سے بچیوں کی جلدی شادی کر دیتے ہیں۔ پہلے ماں غربت اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اس چکی میں پستی ہے اور پھر بیٹی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام اور فسٹولا کے حوالے سے شعور و آگاہی کے ساتھ ساتھ درپیش معاشرتی مسائل کا حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔