قیادت کی تبدیلی

51

تحریر:امجد شریف
ایک بات تو طے ہے۔جماعت اسلامی میں قیادت کے انتخاب کا جو نظام موجود ہے۔ وہ کسی دوسری تحریک، اجتماعیت، گروہ یا سیاسی پارٹی میں نہیں ہے۔ قیادت کے انتخاب کا یہ عمل جماعت اسلامی کے اراکین کو دوسری تمام دینی اور سیاسی جماعتوں سے مُزَین و ممتاز رکھتا ہے۔یہ شفاف اتنا ہے کہ کسی طور بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا،اراکین جماعت اسلامی نے اپنے نئے امیر کا انتخاب کر لیا ہے۔ بظاہر یہ کوئی بڑی خبر نہ ہوتی اگر سراج الحق صاحب دوبارہ جماعت کے امیر منتخب ہوتے، یہ خبر اس قدر یوں گردش بھی نہ کرتی، اگرحافظ نعیم الرحمان صاحب نئے امیر جماعت اسلامی منتخب نہ ہوتے،قیادت کی تبدیلی نے ہی اس خبر کو زورو شور سے میڈیا کی زینت بنایا ہے۔

آلحمد اللہ ٹم الحمد جماعت اسلامی پاکستان کے اراکین کا یہ برہم اور لاج دونوں سلامت ہیں۔ البتہ ایک جانب میں توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ جس کو میں نے بہت محسوس کیا ہے۔ وہ یہ کہ جماعت کے کارکنان کو اب اس حصار سے اب نکلنا ہوگا۔ جس کو وہ بڑے فخر سے اور ایک بڑا اعزاز سمجھ کر شئیر کرتے ہیں۔ یہ پہلے سراج الحق صاحب کے حوالے سے تھا اور اب نعیم الرحمن صاحب اس کی زد میں ہوں گے۔ وہ یہ کہ “ہمارا امیر کرائے کے گھرمیں رہتا ہے۔ اُس کے پاس اپنا ذاتی مکان تک نہیں ہے۔ یہ معیار میرے نزدیک اپنے آپ کو دھوکہ دینے اور دلی لگی کا سامان مہیا کرنے کا باعث ہے۔ جو اہلِ علم ہیں۔وہ یہ خوب جانتے ہیں۔یہ کوئی امامت کا معیار نہیں ہے۔

اسلامی تحریکوں میں قیادت اور کارکن ایک ہی سکہ کے دو رخ ہوتے ہیں۔ سکہ بھی ایسا جسے کسی طور کھوٹا ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسے ایسے کارکن اور ہیرے بھی اس اجتماعیت نے پیدا کیے ہیں۔جھنوں نے اپنی عمر بھر کا سرمایہ اور مال و متاع اس تحریک کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ جن کا شاہد ہی کئی ذکر ہو,اور جن کو شاہد ہی ہم جانتے ہوں۔ اگر ان کی نصرت اور کمٹمنٹ اس تحریک کے ساتھ نہ ہوتی تو جماعت اسلامی مالی وسائل کا شکار رہتی (جو ہم بھی ہم ہے) اس میں کوئی شک نہیں کہ “قیادت اور کارکن” آج مشکل صورت حال کے باوجود ہمت اور حوصلے کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ مگر ذرا تصور کریں کہ اگر آج ایک چھوٹا سا پروگرام بھی کرنا پڑ جائے تو اس میں لاکھوں کا خرچہ آتا ہے۔

یہ اللہ کی نصرت ہی سے ممکن ہے۔ مگر اس نصرت کو اللہ کسی کے حصے میں ڈالتا ہے۔ ایسے لوگ بھی اس تحریک کا قیمتی اثاٹہ ہیں۔ جو وسائل مہیا کرتے ہیں۔گویا ہر ایک کا حصہ اللہ نے اس کام کے لیے طے کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی کا مقابلہ یا موازنہ پاکستانی کی کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی تحریک کے کارکن کو اس طور پر سوچنا چاہیے، وہ سارے تو مافیا ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں کی قیادت ایک ایسا مافیا ہے۔جو عوام کا خون تک چوس رہا ہے۔ تحریک اسلامی تو ایک اجتمایت ہے۔جو قرآن کے دستور کے مطابق قائم کی گئی ہے۔ اس لیے یہاں قیادت کا معیار “تقوی اور قائدانہ صلاحیت” کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کے لیے یہی دعا کرنی چاہیے کہ “اللہ تعالی انھیں قیادت کا اسلوب عطا کرے، مجھے سراج الحق کے اخلاص پر کوئی شبہ نہیں ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے۔وہ ایک ہیومیو پیتھک طریقہ سے جماعت اسلامی کو لے کر چل رہے تھے۔ (یہ میری ذاتی رائے ہے) ان کے دورِ امارت میں فلاحی کاموں کی طرف ذیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس طرح سے اگرچہ دکھی انسانیت کی بہت خدمت ہوئی ہے۔ جماعت نے رفاعی کام اور عوامی خدمت کو خوب انجام دیا،مگر بدقسمتی سے دعوت کا میدان کمزور رہا ہے۔یوں جماعت اسلامی ایک “این جی او” بن کر رہ گئی ہے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کو اپنا انداز اور مزاج ذرا بدلنا ہو گا۔ زمانے کے نئے تقاضوں کے ساتھ اپنے کام کو آگے لے جانا ہو گا۔ آگرچہ باہر سے کمینٹری دینا بہت آسان ہے اور قیادت کے منصب پر بیٹھ کر فیصلے کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ مگر جو کمزوری میں باہر سے محسوس کر رہا ہوں۔ اس کی نشاندہی اور اس کا حل پیش کرنا بھی میں اس کام میں اپنا حصہ ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہوں۔ اس لیے حافظ صاحب کے لیے دعا ہے کہ اللہ رب العزت اُن کی جدوجہد کو کسی شر سے محفوظ رکھے، تحریک اسلامی کو اس وقت”اونچی اونچی فصیلیں کھڑی کرنے والی”مصنوعی قیادت” کی نہیں بلکہ “پُل بنانے والے” بُردبار دور اندیش اسلامی رہنما کی ض

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں