بولنے سے معذور باباجی تعلیمی انقلاب برپا کرنے لگے

63

تحریر؛سید سلیم گردیزی
میں نے دفتری مصروفیات کی وجہ سے یہ طے کیا ہوا ہے کہ کسی (سرکاری یا پرائیویٹ) تعلیمی ادارے کی تقریب میں شرکت نہیں کروں گا- اور اپنے آپ کو صرف فرائض منصبی کی انجام دہی تک محدود رکھوں گا- اس وجہ سے مجھے اپنے ان گنت بہت ہی پیارے احباب سے معذرت کرنی پڑی اور عین ممکن ہے ان کی دل شکنی بھی ہوئی ہو- جس کا مجھے افسوس ہے- میں اپنے اس فیصلے پر اب بھی قائم ہوں لیکن گزشتہ دنوں مجھے اپنے اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنی پڑی-

.
ہوا یوں کہ ہمارے سینئر کولیگ اور میرے پیشرو سپیشل سیکرٹری ایجوکیشن قاضی عنایت علی حال سپیشل سیکرٹری سروسز ایک بابا جی کو لے کر میرے دفتر تشریف لے آئے اور تقاضا کیا کہ آپ نے ان کے سکول کی تقریب میں جانا ہے- میں قاضی صاحب کو ٹال دیتا (جیسا کہ وہ خود بھی لوگوں گولی دے دیا کرتے ہیں) لیکن بابا جی کے اخلاص، جذبے اور ایک سرکاری تعلیمی ادارے کے ساتھ ان کی کومٹمنٹ کو دیکھتے ہوئے میں اپنے ہی طے شدہ اصول کی خلاف ورزی پر مجبور ہو گیا اور مقررہ تاریخ کو ان کے ادارے کی تقریب میں حاضر ہونے کا وعدہ کر لیا-

یہ بابا جی بابا شاہ ولی ہیں جو مظفرآباد کے ایک نواحی گاوں بنی کمہار بانڈی کے رہنے والے ہیں- یہ بولنے سے معذور ہیں اور اسی مجبوری کے باعث تعلیم سے بھی محروم رہ گئے کیونکہ اس زمانے میں ابتدائی جماعتوں میں سبق زبانی یاد کر کے سنانے کا طریقہ مروج تھا- یہ جب سبق سنانے کھڑے ہوتے تو لکنت کی وجہ سے الفاظ زبان میں ہی اٹک کر رہ جاتے اور ان پر استاد کی چھڑیاں برسنا شروع ہو جاتیں کہ سبق یاد نہیں کیا-

خیر جیسے تیسے انہوں نے اپنا وقت اسی لکنت کے ساتھ گزار لیا لیکن نئی نسل کو پڑھانے کی دھن ان پر سوار ہو گئی- ان کے گھر کے ساتھ ہی گرلز پرائمری سکول بنی کمہار بانڈی ہے- یہ سکول گویا انہوں نے گود لے رکھا ہے یا جیسے یہ ان کے بڑھاپے کی اولاد ہے- 2005 کے زلزلے میں سکول کی عمارت گر گئی تو انہوں نے اپنا گھر سکول کے لیے وقف کر دیا اور خود اپنی فیملی کے ساتھ ایک کمرے اور کچن تک محدود ہو گئے-
اللہ اجر دے انجینئر سید ظہیر گردیزی کی قیادت میں اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کے ایک پراجیکٹ میں محکمہ تعلیم کے جن سکولوں کی تعمیر نو ہوئی ان میں یہ سکول بھی شامل ہو گیا- اب اس سکول کی شاندار عمارت ہے اور ایک سو سے زائد طلبہ و طالبات اس ادارے میں زیر تعلیم ہیں- سکول میں پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انجینئر سید ظہیر گردیزی کا اپنا ڈیزائن کردہ “رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم” نصب ہے-

بابا شاہ ولی ہمہ وقت اس ادارے کی بہتری میں منہمک ہے- محکمے سے مطلوبہ سٹاف کی فراہمی کا تقاضا ہو یا سکول کی بطور مڈل اپگریڈیش کا مطالبہ، سٹاف کی حاضری کا معاملہ ہو یا کمیونٹی کے بچوں کو سکول داخل کرانے کا، بابا ہر آن مستعد! سکول کی ٹیچرز سے اپنی بچیوں کی طرح لاڈ کرتا ہے، اچھا کام کرنے پر دس روپے انعام دیتا ہے اور غیر حاضری یا تاخیر سے آنے پر سخت ناراض ہوتا ہے- بابا اور سکول کا سٹاف اس مرتبہ چھٹی کلاس چلانے پر بضد ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں مزید سٹاف مہیا کیا جائے جو انشاءاللہ مہیا کیا جائے گا-
بابا جی کے اصرار پر میں نے سکول میں مستحق بچوں میں مفت درسی کتب کی تقسیم کی تقریب میں شرکت کی- ماجد حبیب مسعودی سیکشن آفیسر پلاننگ، سید حسنین علی سٹاف آفیسر اورسٹاف ممبر عبدالباسط بھی ہمراہ تھے-

تقریب میں مقامی کونسلر سمیت عوام علاقہ کی بڑی تعداد شریک تھی- طلبہ و طالبات کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے جو کتابیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے- ایسے بچوں کے لیے بابا جی اور سکول کا سٹاف یہ انتظام کرتے ہیں کہ پروموٹ ہونے والی کلاس کے بچوں سے کتابیں جمع کر لیتے ہیں، اپنی طرف سے مزید پیسے جمع کر کے مزید کتابیں اور کاپیاں بھی خرید لیتے ہیں اور مستحق بچوں میں تقسیم کر دیتے ہیں- اس طرح کے “خود انحصاری کے نظام” کے تحت بچوں کی کتابوں کاپیوں کی ضرورت پوری کی جاتی ہے- بچوں کی سکول فیس بھی اکثر سرکاری سکولوں کے اساتذہ اسی طرح باہمی تعاون سے جمع کر کے داخل خزانہ سرکار کر دیتے ہیں تاکہ “ریاست کے خزانہ عامرہ میں کوئی کمی واقع نہ ہو جائے-”
بابا شاہ ولی کی طرح کے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہیں- اگر ہر سرکاری ادارے کو ایک ایک بابا شاہ ولی میسر آ جائے تو ہمارے تعلیمی ادارے دن دگنی رات چگنی ترقی کے سفر پر گامزن ہو جائیں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں