11 مئی قومی غیرت کا دن

77

تحریر: ماریہ خان
انسانی تاریخ تضادات کی بنیاد پر تحریکوں سے بھری پڑی ہے ۔جب سے انسانی تاریخ کا آغاز ہوا طبقات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں ان دو طبقات میں سے ہمیشہ کمزور کا استحصال ہوتا رہا اور آج کے اس جدید دور میں ایک طرف سرمایہ داری کا راج ہے اور دوسری طرف یہاں کا محنت کش طبقہ ہے جس کا استحصال یہاں کا حکمران طبقہ کرتا آیا ہے .ایسی ہی ایک ریاست جو تین ایٹمی طاقتوں کے زیر سایہ ہے اور اپنے ہی سرمایہ داروں کے جبر و بربریت کا شکار ہے ریاست جموں کشمیر تین خونی لکیروں کے گرد کھینچی گئی ایک ایسے مظلوم ریاست ہے جو عرصہ پچھہتر سال سے پاکستان اور بھارت کی طرف سے استحصال کا شکار ہے.

ریاست جموں کشمیر کا مسلہ یہاں پر آباد ریاستی باشندوں کی شناخت کا اور بنیادی انسانی حقوق کا مسلہ ہے۔ریاست جموں کشمیر کے عوام پچھتر سالوں سے پاکستان اور بھارت کا جبر برداشت کررہے ہیں .پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام بنیادی انسانی سہولیات سے محروم ہیں۔تعلیم ،علاج کی سہولیات سے عاری ریاست عوام ہر دور میں نام نہاد آزاد کشمیر کی حکومت اور غیر جمہوری فیصلوں پر ریاستی عدلیہ کے خلاف اور پاکستانی فورسز کی کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔

جب پاکستانی حکومت نے آزاد کشمیر کے پانیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اس وقت بھی مزاحمت کاروں نے اسکے خلاف مہم چلائی اور ریاستی عوام کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ریاستی وسائل پر صرف ریاستی عوام کا حق ہے مگر آزاد کشمیر کی لولی لنگڑی حکومت نے اپنی گردن پر خود خنجر چلایا اور پاکستانی حکومت کو بند باندھنے کی اجازت دی اور ریاست کے وسائل پر ڈائریکٹ پاکستانی حکومت کا قبضہ ہوگیا اس پانی سے بجلی پیدا ہونے لگی اور بجلی پاکستانی حکومت ریاست کے عوام کو مہنگے داموں فروخت کرنے لگی آزاد کشمیر کی ہر چوک چوراہے میں غیر ریاستی افواج کا قبضہ ہونے لگا اور تمام پکنک پوائنٹس پر غیر ریاستی افواج کا قبضہ ہونے لگا۔ہر دور میں مزاحمت کاروں نے چوکوں اور چوراہوں میں کھڑے ہو کر ریاستی عوام کا دفاع کیا مگر اس وقت کے حالات عوام کو غلامی محسوس نہ کروا سکے .

آزاد کشمیر کے عوام جو مختلف برادریوں اور فرقوں میں بٹے ہیں انکو مزید غلام بنائے رکھنے کے لیے پاکستان سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ہل چل مچائی اور اپنی ہی پارٹیوں کی بنیادیں آزاد کشمیر میں رکھی تاکے سہولت کاری کو قائم رکھ سکیں اس سہولت کاری کو قائم رکھنے کے لیے یہاں کے عوام کے دلوں میں قبیلوں کا اختلاف پیدا کیا اور عوام اپنے پر مسلط سہولت کاروں کا انتخاب قبیلائی بنیادوں پر کرنے لگی جس نے قبضہ کو مزید تقویت دی اور عوام کو نان ایشوز میں الجھائے رکھاکشمیر کے پڑھے لکھے مگر حب الوطنی سے عاری عوام جن کا کام اس قبضے کے خلاف مزاحمت تھا اور اپنی نسلوں کی بقاء تھا وہ ان سہولت کاروں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے اور آج ریاست جموں کشمیر کے عوام سستے آٹے کے لیے خاک چھان رہے ہیں .

پاکستان نے سوچی سمجھی سازش کے تحت ریاست جموں کشمیر کے سکولوں اور کالجوں میں مطالعہ پاکستان کی تعلیم لازمی قرار دی تاکے ریاست کے بچے اپنی تاریخ اور پہچان سے دور رہیں ہمارے نونہالوں کے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کر انکے مستقبل کو تاریک کرنے کی گھناؤنی چال میں اس ریاست کے سہولت کار بھی شامل ہیں جو اسمبلیوں میں بیٹھے ریاستی عوام کے لیے تھے مگر کاسہ لیس پاکستان حکومتوں کے رویے مہنگے آٹے ،سستی تعلیم کے لیے اختجاج ہوتے رہے مگر کوئی واضح تبدیلی نہ اسکی حق پرستوں کی تعداد ہر دور میں کم رہی مگر وقت کے ساتھ حالات میں تبدیلی آئی اور محکوم ریاست کے عوام اس بات کو سمجھنے لگے کہ ہمارے مسائل کا حل صرف آزادی میں پنہاں ہے .

گزشتہ ایک سال سے عوام نے پہلی بار بڑی تعداد میں ریاستی نااہلی کو چیلنج کیا اور حکمران طبقے سے انکی عیاشیوں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ازاد کشمیر کی تاریخ میں خواتین نے پہلی بار عوامی حقوق کے لیے بڑی تعداد میں چوکوں اور چوراہوں کا رخ کیا ریاست کی باشعور خواتین نے جب ہانڈی روٹی پر تبصرے کے بجائے ملک میں درپیش مسائل پر توجہ دی اور ریاست کی خواتین کو تحریک آزادی پتلر قائل کیا تو اس دور کے سرمایہ داروں اور حکمران طبقے نے انکی مزاحمتی کو الگ رنگ دے کر خواتین کے اس مزاحمتی کردار کی نفی کی جو کربلا میں زینب بنت علی نے ادا کیا اور ام سلمیٰ نے میدان جنگ میں مسلم سپاہ کا ساتھ دے کر ایک مثال قائم کی ۔

حقوق کی بازیابی کے لیے گزشتہ ایک سال سے تحریک کا آغاز کیا گیا جس میں عام عوام میں بھرپور کردار ادا کیا .اتنی بڑی مومنٹ کے بعد حکمران طبقے کی چیخیں نکلنے لگی اور اُنہوں نے پُرامن عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرکے ریاست کے عوام کو حق احتجاج سے محروم رکھا .عوامی ایکشن کمیٹی کی حکومت مزاکراتی کمیٹی سے میٹنگ کے بعد حکومت نے مطالبات ماننے کا فیصلہ کیا جو شاید عوام کو بے وقوف بنا کر اس بڑی مومنٹ کو توڑنے کی ایک سازش دی مگر مطالبات پورے نہ کیے گئے مزمت کے طور پر عوامی ایکشن کمیٹی نے گیارہ مئی کو مارچ کا آغاز کیا جو مظفرآباد میں سہولت کاروں کے اڈے کا گھیراؤ کرے گا .پہلی بار آزاد کشمیر میں عوام نے ان حکمرانوں کو للکارا ہے .

آزاد کشمیر کی حکومت پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہی اور غیر ریاستی افواج کو ریاست میں داخل کر کے ایک بار پھر ریاست پر حملہ کرنا چاہتی ہے ہر ریاستی باشندہ حکومت کے اس گھناؤنے فعل پر شدید مزمت کرتا ہے اور بحثیت ایک مزاحمت کار ہم سمجھتے ہیں کہ یزید کو اپنی یزیدیت دکھانی چاہیے لیکن یہاں کے عوام کو اپنی نسلوں کی بقاء کے لئے ہرحال میں ریاست ظلم کا مقابلہ کرنا چاہیے اگر آج ہم اس ظلم پر خاموش رہے تو کل ہماری نسلیں ظالموں کے ظلم سے کانپیں گیاس ظلم کے خلاف عوام کو برسروپیکار ہونا پڑے گا .انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہماری نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لیں گی اور ہم مادر وطن کی آزادی اور خودمختاری کے لیے جدوجھد جاری رکھے ہوئے ہیں .

‏ہم دیکھیں گے
‏لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
‏وہ دن کے جس کا وعدہ ہے
‏جو لوح ازل پر لکھا ہے
‏جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
‏روئی کی طرح اڑ جائیں گے
‏جب تاج اچھالے جائیں گے
‏سب تخت گرائے جائیں گے

عوامی مزاحمت زندہ باد
ریاستی جبر مردہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں