عوامی حقوق تحریک کس نے کیا پایا

107

آواز دل ،سردار آفتاب عارف
ایک سال تک جاری رہنے والی عوامی حقوق حصول تحریک اپنے چارڈر آف ڈیمانڈ کے دو بڑے مطالبات کے حصول کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔راولاکوٹ سپلائی بازار سے چلنے والی اس تحریک نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لیا چند غیر مقبول فیصلے بھی ہوئے جس کے باعث تحریک کے ساتھ جڑے ایسے چند لوگوں کو مایوسی بھی ہوئی جو اپنی سیاست کو داؤ پہ لگا کر اس تحریک کے ساتھ جڑے تھے جس میں سب سے زیادہ مایوسی پانچ فروری کی ہڑتال کی کال تھی اس تحریک کے متحرک کردار سے علیحدگی کرنے والے اس بات کو بھانپ چکے تھے کہ چند شر پسند لوگ افراتفری پھیلا کر کشمیریوں کے قاتل بھارت کو جواز فراہم کرنا چاہتے تھے ۔عوامی ایکشن کمیٹی جو قطعی غیر سیاسی پلیٹ فارم تھا اور اس میں شامل سب ہی لوگ کاروباری تھے اور اس تحریک کے اوائل میں طے ہوا کہ یہ خالصتاً عوامی حقوق کے حصول کی تحریک ہو گی جس میں کوئی مخصوص نعرہ نا لگے گا ایکشن کمیٹی نے اپنے تئیں اپنے مقاصد پہ گہری نظر رکھی جس کے لیے ایکشن کمیٹی کے تمام ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں بلخصوص اس تحریک کے روح رواں شوکت نواز میر نے اس وقت خود کو ایک مدبر راہنما ثابت کیا جب دھیر کوٹ کے مقام پر ہمارے دوست راجہ مبشر اعجاز کے گھر کامیاب مذاکرات کے بعد دو بڑے مطالبات کو تسلیم کیا مگر مظفر آباد کے مقام پر انھیں شر پسندوں نے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں تین ایسے جانثاروں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے جو خالصتاً اپنے حقوق کی جدو جہد میں شامل تھے ۔ حالات خراب ہوتے ہی شوکت نواز میر نے ویڈیو بیان کہا کہ ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے گئے جو لوگ اب کسی طرح کی گڑ بڑ کریں گے ان جا سیکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نا ہو گا۔ پھر مظفر آباد مظاہرین سے خطاب کرتے انھوں نے مہمان مظاہرین سے التماس کی کہ مظفر آباد کے بچے سب کے سانجھے ہیں اس لیے کوئی بھی شخص کسی طرح کی گڑ بڑ نا کریں ۔

شوکت نواز میر کے اس اعلان نے شر پسندوں کے ارمانوں پہ اوس ہی نہیں پانی پھیر دیا ۔اس تحریک کے ذریعہ آزاد کشمیر کے طول و عرض کے بسنے والوں نے اپنی طاقت سے ایک سال جدو جہد کر کے یہ ثابت کیا کہ اللہ کے بعد سب سے بڑی طاقت عوام ہیں ۔ آزاد کشمیر کے با شعور باہمت عوام نے پاکستان کے بسنے والے ایک ایک فرد کے سامنے نا صرف مثال قائم کی بلکہ امید کی کرن کو جلا بخشی۔حکمران کلب اور اشرافیہ جو 76 سالوں سے عوام کے حقوق غصب کیے ہوئے ہیں ۔ عوام کی طاقت ووٹ سے اقتدار یا ٹیکس سے مراعات ہی نہیں عیاشیوں میں مصروف ہیں وہ بنیادی قانونی آئنی حقوق جو انسانی معاشرے میں عوام کو بن مانگے ملتے ہیں آذاد کشمیر کے بسنے والوں نے وقت کاروبار خون حتیٰ کے جان کی قربانی سے حاصل کیے ۔
ان ٹھگوں نے عوام کو حق تو دیا مگر ایسے ابہام پھر بھی درمیان میں رکھے کہ گو مگو کی کیفیت بلکل ویسے ہی برقرار رہے جیسے 47 میں کشمیر کا گول مول فیصلہ ہوا ہر دو اطراف سے کشمیریوں کو ان کا حق رائے خود ارادیت دینے کا وعدہ ہوا اقوام عالم اس کے گواہ رہےمگر کشمیر کے بسنے والوں کے تمام حقوق غصب ہوئے چند سیاہ ست دانوں کے ذریعہ آذاد کشمیر کے بسنے والوں کو ان سیاہ ست دانوں کے ذریعہ بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جاتا رہا سری نگر کے حصول کے لیے بننے والے آذادی کے بیس کیمپ میں اقتدار اور مفادات کے حصول کا ایسا جھکڑ چلا کہ مظفر آباد بھی ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ۔

ان لوگوں کو ڈنڈے کے زور پہ دبانے کی کوشش کی جا رہے جن کے اجداد نے جان کی قربانی دے کر پاکستان کے تکمیل کی جنگ لڑی اگر یہی مطالبات پاکستان اور آزاد کشمیر کا حکمران کلب پیار سے مانتا تو پیار کے بدلے پیار ملتا مگر شومی قسمت اشرافیہ کو ان کی عیاشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں طاقت کا استعمال ہوا جس سے ایک طرف شر پسندوں کو شر پسندی کا موقع ملا چار شہدا کی جان گئی اور ساتھ ہی ساتھ اب انہیں نظریاتی دھشت گردوں کو پروپیگنڈہ کا جواز ملا اور عوام کے دلوں میں نفرت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔
وفاقی حکومت اور پاکستان کے فیصلہ سازوں اور طاقت ور حلقوں کو اپنی گزشتہ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے آذاد کشمیر کے بسنے والوں کے دل جیتنے ہوں گے وگرنہ طاقت اور ٹیکنیک سے سر جیتے سے کچھ حاصل نا ہو گا۔ایک سال تک جاری رہنے والی عوامی جدو جہد کے دو بڑے مطالبات کو جس انداز میں نوٹیفائی کیا گیا اس میں بددیانتی واضح ہے 23 ارب کی امداد کی بجائے بجلی کو ہمیشہ کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے عین مطابق ہمیشہ کے لیے آذاد کشمیر والوں کے لیے پیداواری لاگت پہ یقینی بنایا جائے ساتھ ہی ساتھ حکمران کلب اور سیاہ سی اشرافیہ اپنی گرتی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک طرف ہمیشہ کی طرح عوام کو بیوقوف بنانے اور ٹھگنے کی کوشش کر رہی تو دوسری طرف وزیر اعظم آذاد کشمیر کو یہ کہہ رہی کہ یہ معاملات روڈز پہ حل کی بجائے ڈائیلاگ سے حل کرنے چاہیے تھے درست بلکل درست مگر شائد وہ یہ بھول رہے ہیں کہ عوام کا تیسرا بڑا مطالبہ ان اور بیوروکریسی کی مراعات کا خاتمہ تھا کیا ہی اچھا ہو کہ وزیر اعظم وزراء اور اسمبلی ممبران ایک طرف اپنی مراعات سے دست برداری کا از خود اعلان کریں اور دوسری طرف ترقیاتی بجٹ آئین اور قانون کے تحت بلدیاتی نمائندگان کے ذریعہ استعمال کرنے کا اہتمام کریں اور خود عوام کی خدمت اور پھر اس خدمت کے ذریعہ عبادت کا درجہ دینے کی ان تقاریر کو عملی جامعہ پہنائیں کے جو چھتر سالوں سے وہ ہر الیکشن کے دوران لوگوں سے کرتے آئے ہیں ۔

سیاسی انوسٹرز کو اب آپ ا قبلہ درست کرنا ہو گا ورنہ گندم کے ساتھ گیوں بھی پسیں گے اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ ان سیاہ سی چہروں کے ساتھ ساتھ ان سیاسی جماعتوں کو بھی منہ کی کھانی پڑے گی۔ ممبران قانون ساز اسمبلی کا فرض ہیکہ وہ عوام کی بہتری اور معاشرے کی بھلائی میں قانون سازی کریں اداروں کو مضبوط کریں وگرنہ اللہ بہتر جانتا کہ اب سیاسی انویسٹمنٹ اور بعد ازاں اس سے ذاتی مفادات کے حصول کا وقت بیت چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خود غرض اپنے خلاف نفرتیں تو کما رہا ساتھ ہی ساتھ یہ ریاست پاکستان کی عوامی مقبولیت میں کمی ہی نہیں عدم قبولیت کی وجہ بھی بنتا جا رہا ہے ۔اس سارے معاملہ میں عوام نے ایک دوسرے کے لیے پیار خلوص محبت عقیدت احترام اور جذبہ قربانی پایا جبکہ سیاہ ست دانوں حکمران کلب اشرافیہ اور مراعات یافتہ اور طاقت ور طبقات نے عوام کی طرف سے پہلے سے موجود نفرت نفرت اور نفرت کا اضافہ سمیٹا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں