احادیث کی روشنی میں تزکیہ و تصوف کی اہمیت

137

قرآن مجید میں تزکیہ نفس کرنے والے کو کامیاب قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’قد افلح من تزکّیٰ‘‘ترجمہ: یعنی کامیاب ہوا جس نے تزکیہ نفس کیا ۔یہاں تزکیہ سے مراد نفس کی اصلاح ہے۔حدیث پاک میں اس کو احسان کہا گیا ہے۔نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی ٰکی عبادت اس طرح کرو جیسے تم اسے دیکھتے ہو اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھتا ہے۔تزکیہ و تصوف کو سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ فقہ اسلامی کا خلاصہ کیا ہے۔ فقہ اسلامی کا خلاصہ تین چیزیں ہیں۔
۱۔ فقہ اکبر (عقائد و نظریات )
۲ فقہ اصغر(احکام، و عبادات)
۳۔ فقہ باطن (آداب و اخلاق)

تزکیہ و تصوف کا تعلق فقہ باطن کے ساتھ ہے۔تزکیہ و تصوف کے لیے جن چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔
۱۔ریاء کاری، تکبر، حسد، جھوٹ، غیبت، بد زبانی، لالچ، بغض سے بچنا کن چیزوں کو اپنے اندر اختیار کرنا ضروری ہے۔
۲۔ اللہ سے محبت ، اخلاص، خدمت، صبر، ادب، حیاء، شکر اور توکل اختیار کرنا ۔لہٰذا ان تمام چیزوں کا تعلق تزکیہ نفس اور تصوف سے ہے ان پر مشتمل فرمودات نبویﷺ زیر قلم ہیں۔
تزکیہ نفس سے متعلق احادیث
۱۔ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
ترجمہ:سنو! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو پورا جسم دُرست ہوتا ہے اور جب اس میں فساد ہو تو پورا جسم فاسد ہو جاتا ہے سنو وہ دل ہے۔
اس حدیث میں باطن کی صفائی کی طرف اشارہ ہے۔ باطن کی صفائی اور تزکیہ کے لیے نیت کا اصل کردار ہے۔ جس پر تمام کی قبولیت کا دارو مدار ہے۔
2۔ انما الاعمال بالنّیات الخ
اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔
یہ وہ فرمودات نبویؐ ہیں جن کے مطلق امام ابوداؤدؒ سجستانی فرماتے ہیں (متوفی ۲۷۵ھ) کہ دین کو سمجھنےکے لیے جن چار حدیثوں کا ہونا کافی ہے انہیں سے دو یہ ہیں۔
3۔ اٰل محمد کل ّتقی
اس حدیث مبارکہ میں تقویٰ کو اختیار کرنے والے کو اپنی آل قرار دیا ہے۔ نبی علیہ السلام کی اٰل کو اللہ پاک نے قرآن کریم میں ہر ظاہری اور باطنی غلاظت سے پاک رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔اٰل سے تشبیہ ان لوگوں کی ہے جو اپنا ظاہر و باطن کو صاف رکھتے ہیں۔ اللہ پاک نے ان لوگوں کو اپنا محبوب قرار دیا ہے۔
فرمایا: ‘‘بے شک اللہ پاک ظاہر و باطن کی صفائی رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔(القرآن)
4۔ من صمت نجا
ترجمہ: ’’جو خاموش رہا نجات پا گیا۔‘‘
خاموشی کو صوفیاء نے تصوف کی پہلی سیڑھی قرار دیا ہے اور حدیث مبارکہ میں زیادہ بولنے سے پرہیز اختیار کرنے کا حکم ہے۔ زیادہ بولنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔ بامقصد کلام کا حکم ہے۔ جیسے فرمایا:
5۔ مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَالاَ يَعْنِيه
6۔ الْأَكْلُ فِي السُّوقِ دَنَاءَةٌ
ترجمہ: بازار میں کھانا گھٹیا حرکت ہے۔
ثقہ راوی کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عادل ہو۔ یہاں پر عادل سے مراد ورع ہے۔ مگر جو آدمی ، عالم، راوی، محدث چلتے ہوئے بازار میں دکان سے اُٹھا کر کوئی چیز کھاتا ہے تو وہ اس عادل کی صفت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اس کا تعلق تزکیہ و تصوف سے بدرجہ اولی ٰہے۔
7۔الحیاء من الایمان
حیا ایمان کا حصہ ہے۔ یہ تطہیر باطن سے جنم لیتی ہے۔
8۔ الحیاء خیر کلہ
حیا سراپا بھلائی ہے۔
تصوف سراپا ادب ہے۔نبی علیہ السلام نے فرمایا۔
9۔ ادبنی ربی فاحسن تادیبی
میرے رب نے مجھے ادب سکھایا اور خوب سکھایا۔
10۔ان من خیارکم احسنکم اخلاقاً
تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔
قرآن کریم عاجزی اختیار کرنے والے کو اللہ کے محبوب بندوں میں شمار کیا ہے جن کی صفات میں سے ایک صفت عاجزی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا
ترجمہ: بے شک اللہ کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں۔
حدیث مبارکہ میں ہے۔
11۔مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ دَرَجَۃً، رَفَعَہُ اللہُ
جس نے اللہ کی خاطر عاجزی کی اللہ نے اُسے بلند کیا۔
12۔ اسمع یسمع لک
دنیا سے بے رغبتی اور آخر ت کی یاد سے دل میں رقعت پیدا ہوتی ہے جو تزکیہ نفس کا موجب ہے۔
13۔كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ
دنیا میں اس طرح رہ جس طرح تو بے وطن ہے یا مسافر ہے۔
14۔ حب الدنيا رأس كل خطيئة
دنیا کی محبت ہر خطاء کی سردار ہے۔
15۔کفیٰ بالموت واعظا
حدیث مبارکہ میں تصوف کو احسان کہا گیا ہے ۔تصوف کا موضوع توحید ہے ۔
تزکیہ نفس کے لیے مجاہدے کا حکم ہے ۔ حدیث مبارکہ میں ہے۔
16۔المجاہد من جاھد نفسہ
ان المومن بجاھد بسیفیہ و لسانہ
بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے۔
تصوف کو احسان کہا گیا
نبی علیہ السلام نے فرمایا:
17۔الاحسان ان تعبدو اللہ کانک تراہ
احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کرے جیسے تو اُسے دیکھتا ہے۔
یعنی جب اللہ کے سامنے کھڑے ہو تو دُنیا سے بے نیاز ہو جاے
18۔عدّ نفسک فی اھل القبور
اپنے آپ کو اہل قبور میں شمارکرو۔
یعنی اہل قبور نے اپنے آپ کو مٹی میں ملا دیا اور زندگی میں تم اپنی ہستی کو مٹا دو۔ اللہ پاک کے سامنے اپنے آپ کی نفی کرو اور رب کے باقی ہونے کا اثبات۔ یہاں قولو قبل ان تمونوا کی طرف اشارہ ہےکہ مرنے سے پہلے مرجاؤے اس نفی سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور باطن مصفّا ہوتا ہےے باطنی فراست تیز ہوتی ہے جس کے متعلق فرمایا۔
19۔اِتّقو فراسۃ المومن فانہ ینظر بنور اللہ
مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
مذکورہ حدیث میں نور تقویٰ و مررع کا نور ہے جس کا تعلق باطن سے ہے۔ نبی علیہ السلام نے بھی صاحب تقویٰ کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔
20 ۔انما اَوْلِیَآؤُه اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ 
میرے دوست صرف متقی لوگ ہیں۔
ان تمام فرمودات نبویﷺ کا تعلق روحانیات سیرت کے ساتھ ہے۔ اسلام کے تین بڑے شعبے ہیں۔
۱۔عبادات کا شعبہ ۲۔ روحانیات کا شعبہ ۔۳۔ سیاسیات کا شعبہ
روحانیات کا شعبہ
نفس کی اصلاح اور روحانی اخلاقی تربیت اسی شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔ رحمان کے وہ بندے ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں سلام ۔ اور وہ جو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام کی حالت میں رات گزارتے ہیں۔
اس شعبہ کے بارے میں تعویز گنڈے کے ماہر عامل حضرات کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں جو جنات یا موکلات کو پھنسا کر ان سے الٹے سیدھے کام کراتے رہتے ہیں۔ان قبیحات کو دور کرنے کےلیے خلفائے راشدین کے ادوار کو مختص کیا گیا ہے۔
ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمﷺ سے کاہنوں کے متعلق پوچھا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ لوگ کوئی شئےنہیں ہوتے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ ایسی خبریں دیتے ہیں جو سچ ہوتی ہیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ حکم حق ہوتا ہے جس کو جِن آسمان سے سن کر یاد کر لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دوست کاہن کے کان میں کڑکڑ کرتے ہیں جسے مرغی کڑ کڑ کرتی ہے اور اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔جبکہ اللہ کا ولی عامل کو نہیں بلکہ کامل کو کہتے ہیں۔جس کا کام نفس کی اصلاح اور اخلاق کی تعلیم دینا ہوتا ہے۔ اس کے لیے شریعت کا پابند ہونا ضروری ہے۔شریعت کا معنی ہے راستہ ،طریقہ۔شریعت کے چار مآخذ ہیں :قرآن،سنت،اجماع اور قیاس ان چاروں کا شرعی مآخذ ہونا حدیث سیدنا معاذ سے ثابت ہے۔طریقت کا معنی شریعت کی پابندی کرنا طریقت کہلاتی ہے جس کا کام نفس کی اصلاح اور اخلاق کو سنوارنا ہوتا ہے ۔
فقہ باطن(یعنی تصوف)
فقہ ہمیں شریعت کے مطابق عبادت کرنا سکھاتی ہے اور لیکن تصوف ہمیں عبادت میں نیت کو درست رکھنا اور اخلاص اختیار کرنا سکھاتا ہے۔ ہر عبادت کسی دنیوی غرض کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے۔ریاء کاری شرک کی ایک پوشیدہ قسم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے دکھاوا کرتے ہوئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوا کرتے ہوئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا۔ جس نے دکھاوا کرتے ہوئے خیرات کی اس نے شرک کیا ۔
اور فرمایا جس کے دل میں رائی کے برابر تکبرہے وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔
اندر کی یہی پاکیزگی تصوف ہے۔ تصوف کا معنی ہے پاکیزگی اور صفائی اختیار کرنا۔ قرآن کریم نے اس کے لیے تزکیہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔
تزکیہ کا معنی ہے پاک کرنا۔
تصوف سیکھنے کے لیے جس استاد کی ضرورت ہوتی ہے اسے صوفیاء مرشد کہتے ہیں۔ مرشد میں چار شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔
۱۔عقائد کی درستگی
2۔ عالم ہونا
۳۔ باعمل
۴۔ صاحب اجازت ہونا
کم کھانا، کم بولنا، کم سونا اور نیک لوگوں میں بیٹھنا۔
صوفیاء کسی پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ ہر کسی کا بوجھ اٹھا تے ہیں ۔مشکلات پر صبر کرنا، لوگوں کی غلطیاں معاف کرنا، ظلم برداشت کرنا اور ہر کسی کی خدمت کرنا اللہ کریم کو بہت پسند ہے۔اہل تصوف کا دل غنی ہوتا ہے۔
حدیث مبارکہ میں آتا ہے ۔
21۔الغنی غنی النفس
غنی ہونا، دل کے غنی ہونے سے ہے۔
22۔اتَّقُو فِرَاسَۃَ المُومِن فَاِنَّہ‘ یَنظُرُبِنُورِ اللہِ
مومن کی فراست سے بچو وہ اللہ کے نور سے دیکھ لیتا ہے۔
امام ابو القاسم قشیری متوفی (۴۳۵ ھ) فرماتے ہیں۔
” اس حدیث کی روشنی میں کہ یہ قوت ایمانی کےمطابق فراست کی قوت ہوتی ہے جس آدمی کی ایمانی قوت جتنی زیادہ ہو گی اس کی فراست اتنی ہی تیز ہو گی“۔
شیخ ابو سعید خوارزم فرماتے ہیں۔
اللہ کے نور سے مراد فراست ہے جو شخص فراست سے دیکھتا ہے وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے اسکا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے جس میں سمعو اور غفلت نہیں ہوتی بلکہ یہ اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے جو زبان پر جاری ہوتا ہے۔
اس فصل کے آخر میں حدیث مبارکہ جس سے دل کی صفائی کا آلہ ملتا ہے ۔
23۔لِکُلِّ شَیْءٍ صِقَالۃٌ وَصِقَالَۃُ الْقَلْبِ ذِکْرُ اللہِ
ہر چیز کو صاف کرنے کا آلہ ہوتا ہے اور قلب کو صاف کرنے کا آلہ ذکر اللہ ہے۔
امام ابوالقاسم قشیریؒ اپنے استاد ابو علی وقاق کا قول نقل کرتے ہیں ۔
’’ذکر منشور ولایت ہے پس جسے توفیق ذکر مل گئی اسے منشور ولایت مل گیا اور جس نے ذکر ترک کر دیا حقیقت میں اسے ولایت سے معزول کر دیا گیا ‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں