جی بی سٹوڈنٹس اور پردیس

125

تحریر : عمران ارسطو
جب میں انسان کی زندگی کو اپنی سوچوں کا محور بناتا ہوں تو مجھے درد، تکالیف، اذیت، بربادی اور لاچارگی ہی نظر آتی ہے۔ میں اس گہرائی میں لکھنے بیٹھ جائوں تو شاہد زمانہ لگے۔ اج میں مختصر کوٹلی میں مقیم ان نوجوانوں کی زندگی کو ڈسکس کرنے کی کوشش کروں گا جو اپنے والدین سے دور پردیس میں حصولِ علم کی خاطر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن جب میں اپنی قلم کو “پردیسی” لفظ کی وضاحت کے لیے پیش کرتا ہوں تو پھر مضمون طویل ہوتا نظر آتا ہے۔ اس لیئے میں پردیسیوں میں صرف ان طلباء کو موضوع بحث بنانا چاہتا ہوں جو گھروں سے دور ہاسٹل کی زندگی گزارتے ہیں۔ ہم میں اکثریت ایسے طلبہ ہیں جنہوں نے میٹرک یا ایف ایس سی تک تعلیم اپنے آبائی گائوں میں ہی حاصل کی ہے۔ جہاں اپنی والدہ کا پکا پکایا کھانا، کپڑے استری گئے ہوئے اور والدین دیگر ضروریات احسن طریقے سے نبھانے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ میں اس بحث میں بھی نہیں پڑھوں گا کہ آج کے عہد میں والدین کے لیے بچوں کی خواہشات پوری کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے حالات کے بعد جب ہم ہاسٹل کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو انتہائی کھٹن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اپنے والدین جو انتہائی مشکل حالات میں ہمارے اخراجات اٹھا رہے ہوتے ہیں ان کو تکالیف سے بچانے کے لیے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
دیار غیر میں ایک وہ لمحہ اِس وقت تک کی زندگی کا سب سے زیادہ اذیت ناک تھا جب عید الفطر کے دن نماز عید پڑھنے کے بعد ہم گلگت بلتستان کے لڑکے واپس اپنے اپنے روم میں جا کر سو گئے۔ یہ میری پہلی عید تھی کہ میں چاہتے ہوئے بھی خوشی نہ منا سکا۔ اب بن ماں باپ، بہن بھائی، بچپن کے دوستوں اور اپنے گائوں کی آب و ہوا میں پورا پورا دن آوار گردی کے بغیر خوشی نے غم میں تبدیل تو ہونا ہی تھا۔

یہی وجہ ہے کہ میں نے گلگت بلتستان کے نوجوان طالب علموں کو کوٹلی شہر میں درپیش مسائل کو ہی اپنی گفتگو کا محور بنایا۔ ویسے تو پردیس میں ہر طرف مسائل ہی ہوتے ہیں لیکن سب سے پہلا کام جس سے نمٹنا پڑتا ہے وہ ہے صفائی۔ چونکہ کپڑے استری کرنے سے لے کر روم کی صفائی تک سارے کام تو پہلے کبھی نہیں کیئے ہیں۔ یہاں جب ہم اپنے آپ کو صاف رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہاسٹل کا کمرہ گندہ ہو جاتا اور جب کمرے کو صاف کرنے میں لگتے تو خود کی حالت خراب۔ ایسے کشمکش میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ کبھی ہم گندے اور کبھی روم صفائی سے محروم۔ کھانے کے حوالے سے کہاں ہمارے گھروں میں پکنے والا وہ دیسی کھانا اور کہا یہاں کے ہوٹلوں کے مرچ سے بھرپور کھانا۔ جسے کھائیں تو مرچی کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور اگر نہ کھائے تو بھوک کی وجہ سے۔ پھر ایک اور اذیت یہ بھی کہ اگر ٹائم سے لیٹ ہو جائیں تو کھانا ختم۔ موسم گرما میں پانی کو پانچ منٹ کے لیے اگر کمرے میں رکھیں تو ایسا ہوتا ہے جیسے چائے بنانے کے لیے پانی کو گرم کیا ہو۔ اس شدت والی گرمی میں بار بار پانی لانے کے لیے جانے کا درد صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو اس اذیت سے گزر رہا ہو یا گزر چکا ہو۔ صبح صبح اٹھ کر ہاتھ منہ دھونے کے بعد کپڑے استری کرنا، ائینے کے سامنے 10 منٹ تک کھڑا رہنا اور ناشتے کے لیے ہوٹلوں میں جانا جہاں شروع کرنے سے پہلے ہی جیب کو دیکھنا کہ گنجائش کتنی ہے۔ اپنے پیاروں کی زندگی کی آخری رسومات ہوں یا شادی کی خوشیاں ہم تو شرکت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کوئی فیملی ممبر بیمار ہو جائے تو نہ ہم ادھر جاسکتے ہیں اور نہ یہاں رہ سکتے ہیں اس وقت جو کیفیت طاری ہوتی ہے غم کی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا ۔

ہم چونکہ آذاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں ہیں تو یہاں ہماری زبان سمجھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ ہمیں بھی یہ پہاڑی زبان سمجھ نہیں آتی جس وجہ سے مزید مشکالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ایک مضمون میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔
یہ سب مشکلات ہم برداشت کر لیتے ہیں اور کسی سے کچھ نہیں کہ پاتے۔ جو بھی پوچھے ہم اچھی زندگی گزر رہی کہ کر ٹال دیتے ہیں۔ اس کی وجہ والدین کی وہ امیدیں ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے ہم پردیس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہم نے سنا تھا اپنے بزرگوں سے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ جب ہم اس اذیت ناک وقت سے گزرتے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ اس معاشرے میں تو کچھ پانے کے لیے بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اپنی خواہشات، خوابوں اور امنگوں کا قتل کر کے ہم ڈگری حاصل کرتے ہیں تاکہ اپنے والدین کو خوشی دیں سکیں لیکن پھر یہ ڈگری ہمیں روزگار کی ضمانت نہیں دیتی ہے۔

لاکھوں روپے لگا کر ڈگری لینے کے بعد جب نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہو گا تو ذہنی مریض بنتے وقت نہیں لگتا۔ ایسے حالات میں ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم خاموشی سے اس نظام کو تسلیم کر لیں اور جیسے گزر رہا ہے اسے گزارتے جائیں یا پھر ہم اپنی سوچوں کو مثبت عمل میں ڈالیں۔ ہم معاشی مسائل سے لے کر تعلیمی مسائل تک اور گھریلو مسائل سے لے کر ہجرت کے مسائل تک اپنے سوچوں کو دوڑائیں۔ ہم سوچیں کیونکہ بغیر سوچے ہم لاشعوری طور پر وہی سب کر رہے ہوتے ہیں جو ہم سے ہمارے آقا کروانا چا رہے ہوتے۔ آخر آج دنیا چاند پر پہنچ چکی ہے تو ہم کیوں بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ ہمیں کیوں تعلیم، علاج روزگار اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھا گیا ہے۔ کیونکہ تعلیم جس کے ذریعے شعور بیدار ہوتا ہے کو ہی انسانوں کے لئے اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں ایک غریب کا بچہ اتنی مہنگی تعلیم خرید سکتا ہے؟ ایسے بے شمار سوالات ہیں جن کے جوابات نوجوانوں کو خود تلاش کرنے ہوں گے۔

صرف اپنی ذاتی زندگی گزارنے کا نام ہی خودغرضی ہے۔ ہمیں خود غرضانہ سوچ سے نکل کر اجتماعی طور پر نوجوانوں سمیت معاشرے میں موجود تمام انسانوں کی زندگیوں کو اس اذیت سے نکالنے کے لیے پیش کرنا ہو گا۔ لیکن پھر سوال وہی ہے کہ ہمیں سب سے پہلے اس راستے کی تلاش کرنی ہے جو راستہ ہمیں ہر طرح کے تعصب سے نکال کر اجتماعی انسانی زندگی کی بہتری کی طرف لے جائے۔ کیونکہ نوجوان ہی وہ قوت ہیں جنہوں نے پورے معاشرے کو بدلنا ہے۔ نوجوانو آئؤ سب مل کر وہ راستہ تلاش کرتے ہیں جو نفرت، حقارت، بغض وغیرہ کے خلاف محبت، بھائی چارہ اور ہمدردیوں کی طرف نکلتا ہو۔ آخر یہ تکالیف، یہ درد ہمارا مقدر کیوں ہیں۔ خدا تعالیٰ کی نعمتیں تو سب انسانوں کے لئے ہیں پھر یہاں کسی کے پاس عیش و عشرت کا سب سامان اور اکثریت غربت کی زندگی کیوں گزار رہی ہے۔ ہمیں اپنی سوچوں میں تبدیلی لانا ہو گی تبھی ہم ایک بہتر معاشرے کا قیام عمل میں لا سکیں گے۔ دعا ہے کہ پروردگارِ عالم ہمیں اپنی مستقبل کے بارے میں سوچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں