ایک ارب دو کروڑ روپے کا سکینڈل دبانے کیلئے ایڑی چوڑی کا زور،وزیر خوراک نے معطل شدہ ملازمین کوٹلی بلا لئے

49

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)محکمہ خوراک آزاد کشمیر نے 20 فیلڈ ملازمین کو Essenial servies کی خلاف ورزی میں ملازمت سے معطل کیا۔م لازمین نے اپنی معطلی کے بعد وزیراعظم اور چیف سیکریٹری کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے قبیلہ ازم کی بنیاد پر اپنے اپنے ممبران اسمبلی اور وزراء کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلہ میں تمام معطل شدہ ملازمین وزیر خوراک جاوید بڈھانوی کی کال پر ملاقات کیلئے کوٹلی روانہ ہو گئے ہیں۔ محکمہ خوراک کے اندرونی ذرائع کے مطابق معطل شدہ اہلکاروں نے سردست وزیر حکومت سردار جاوید ایوب۔ سید بازل نقوی سابق وزراء اعظم حاجی یعقوب تنویرالیاس۔ سابق وزیر حکومت عابد حسین عابد اور وزیر خوراک جاوید بڈھانوی کو اعتماد میں لیتے ہوئے چیف سیکرٹری کے تبادلہ کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ خوراک کے اندرونی ذرائع کے مطابق ان ملازمین کو وزیر خوراک۔ سیکرٹری خوراک اور ناظم خوراک کی آشیرباد بھی حاصل ہے تاکہ محکمانہ ملی بھگت سے ٹھکیداروں کو GST ٹیکس کی مد میں 1 ارب 2 کروڑ کے غیر قانونی ریلیف پر پردہ ڈالا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق محکمہ خوراک کے ٹھکیداروں اور فلور ملز مافیا نے ان ملازمین کو بھر پور تعاون کا یقین دلاتے ھوئے ہڑتال پر اٹھنے والے تمام اخراجات اور ماہوار تنخواہ اپنے ذمہ میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں فلور ملز مافیا نے ملازمین کی اس غیر رجسٹر اور غیر قانونی تنظیم کے ایک اہلکار کو کوٹلی جانے کیلئے 5 لاکھ آن لائن کیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماہ رواں میں عوام کو سرکاری آٹے کی ترسیل بند ہونے کی وجہ سے فلور ملز مافیا کو کم از کم 3000 ٹن کی سیونگ ہو گی جو سرکاری ووچروں کے ذریعہ اوپن مارکیٹ میں سمگل کیے جانے کا اندیشہ ہے جسکا منافع کم از کم 18 کروڑ بنتا ہے۔

ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار چوہدری محمد رقیب نے بطور سیکریٹری خوراک فلور ملز مافیا اور انسپکٹر مافیا کو لگام دیکر اربوں کی Saving کی تھی لیکن مافیا نے انکو تبدیل کروایا اور اب چیف سیکرٹری اور وزیر اعظم کو تبدیل کروانے کی تحریک شروع کر دی۔

اس سلسلہ میں آج وزیر خوراک کا امتحان شروع ھو گیا ہے کہ کیا وہ ان ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں