کوٹلی/لوٹن (خصوصی رپورٹ)برطانیہ میں مقیم کوٹلی کی معروف سیاسی، سماجی اور علمی شخصیت حبیب احمد راٹھور ایڈووکیٹ انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی کوٹلی، لوٹن اور اوورسیز کشمیری کمیونٹی میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم ایک نہایت ملنسار، بااخلاق، باوقار اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی زندگی سماجی خدمت، خاندانی روایات اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحوم کا جسد خاکی آئندہ دو سے تین روز میں برطانیہ سے پاکستان لایا جائے گا جبکہ نماز جنازہ اور تدفین کے حوالے سے باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ مرحوم کے انتقال پر مختلف سیاسی، سماجی، صحافتی اور اوورسیز حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے راٹھور خاندان سے تعزیت کی ہے۔
یاد رہے کہ مرحوم کے صاحبزادے اشعر علی راٹھور ایڈووکیٹ بھی چند سال قبل انتقال کرگئے تھے جس کے بعد حبیب احمد راٹھور نے انتہائی صبر و حوصلے کے ساتھ زندگی گزاری۔ مرحوم ڈاکٹر ندیم راٹھور، ڈاکٹر ذیشان راٹھور اور نوید راٹھور کے سسر تھے جبکہ لبریشن فرنٹ برطانیہ کے رہنما صدیق احمد راٹھور، ایڈیٹر جموں و کشمیر شہزاد راٹھور، شکیل احمد راٹھور، ڈاکٹر ذیشان راٹھور، راحیل احمد راٹھور اور انجینئر الیاس راٹھور کے ماموں تھے۔ علاوہ ازیں وہ عزیز احمد راٹھور کے بھائی تھے۔ کوٹلی اور لوٹن کی سیاسی و سماجی شخصیات، معززین شہر، اوورسیز کشمیری رہنماؤں، وکلاء، صحافیوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مرحوم کی وفات کو راٹھور خاندان اور خطے کیلئے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
تعزیتی بیانات میں مقررین نے کہا کہ حبیب احمد راٹھور ایک نفیس انسان، شفیق بزرگ اور مخلص دوست تھے جن کی خدمات اور محبت بھرے انداز کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شہریوں نے مرحوم کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ حبیب احمد راٹھور ایڈووکیٹ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے اور تمام پسماندگان کو یہ صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔