شہداء کربلا رہتی دنیا تک مشعل راہ ہیں ، ترجمان اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر

71

اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین وسینئر حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ سانحہ کربلا 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا، یزید کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد رسول اللہﷺ کے نواسہ سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے، جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے۔ اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی تھے۔ واقعہ کربلا صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ عالم کا نادر اور عجیب و غریب واقعہ ہے ، دنیا میں یہی ایک واقعہ ایسا ہے.

جس سے عالم کی تمام چیزیں متاثر ہوئیں ۔ عبداصمدانقلابی نے کہا ہے کہ یہ وہ غم انگیز اور الم آفرین واقعہ ہے جس نے جاندار اور بے جان کو خون کے آنسو رلایا ہے اس واقعہ کا پس منظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولاد رسول کی دشمنی ہے ۔ بدر و احد ، خندق و خیبر میں قتل ہونے والے کفار کی اولاد نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرکے اپنے آبا واجداد کا بدلہ حضرت رسول کریم ﷺ اور حضرت امیر المومنینؐ کی اولاد سے لینے کے جذبات اسلامی کافروں کے دلوں میں عہد رسول ہی سے کروٹیں لے رہے تھے لیکن عدم اقتدار کی وجہ سے کچھ بن نہ آتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد جب ۳۸ ہجری میں امیر الموٴمنین برسراقتدار آئے تو ان لوگوں کو مقابلہ کا موقع ملا جو عنان حکومت کودانتوں سے تھام کر پکڑچکے تھے.

بالاخر وہ وقت آیا کہ یز ید ابن معاویہ خلیفہ بن گیا۔ حضرت علیؓ اور حضرت امام حسنؓ شہید کیے جاچکے تھے ۔ عہدِ یزید میں امام حسینؓ سے بدلہ لینے کا موقع تھا ۔ یزید نے خلافت منصوبہ پر قبضہ کرنے کے بعد امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل کا منصوبہ تیار کیا اور ایسے حالات پیدا کردئیے کہ حضرت امام حسینؓ کربلا میں آپہنچے یزید نے بروایت اسی ہزار فوج بھیجوا کر امام حسینؓ کو اٹھارہ بنی ہاشم اور بہتر اصحاب سمیت چند گھنٹوں میں شہید کیا۔ عبدالصمد انقلابی نے کہا ہے کہ حضرت امام حسینؓ 28 رجب 60 کو مدینہ سے روانہ ہوکر 10 محرم الحرام 61 ھ کو رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، ظالموں نے 7 محرم الحرام سے پانی بند کردیا اور دسویں محرم کو نہایت بیدردی سے تمام لوگوں کو قتل کرڈالا۔

عبدالصمدانقلابی نے کہا ہے کہ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب ہے، یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی، لٰہذا امام حسین نے جس پامردی اور صبر و استقامت سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا وہ حریت’ جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ، حریت فکر اور خدا پرستی کی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی۔ یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کیلئے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء دین کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں