دھیرکوٹ: ڈپٹی کمشنر باغ کوموسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات سے ہونے والے نقصانات سے مختلف محکمہ جات کو ہدایات جاری کرنے کے لیے تحریک کر دی گئی

43

دہیرکوٹ (سٹیٹ ویوز)کوآرڈینیٹر ٹاسک فورس برائے موسمیاتی تبدیلی دھیرکوٹ ضلع باغ آزاد کشمیر راجہ مہتاب اشرف خان نے ڈپٹی کمشنر باغ کے نام موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات سے ہونے والے نقصانات سے مختلف محکمہ جات کو ہدایات جاری کرنے کے لیے تحریک کر دی ، اس کے علاؤہ ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز اور ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسرز جو ان کی ذمہ داریوں کے لیے تحریری طور پر تحریک کر دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں جناب کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں ۔ امسال موسمی حالات نے یہ واضح کر دیا ے کہ ہماری ریاست ا ور خصوصاً ضلع باغ موسمیاتی تبدیلی کے اثرا ت سے بری طرح متاثر ہیں ا ور مستقبل میں اس سے بھی مزید سخت حالات کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔

ا ن حالات میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ بننے والے انسانی عوامل ا ور افعال میں اصلاح کے لیے بیدا ری شعور کے ساتھ ساتھ عملی انتظامی اصلاحات و قت کی اہم ترین ضرورت ے۔ مسئلہ کے پائیدا ر حل کے لیے ہنگامی اقدامات کے ساتھ اس بات کی ضرورت شدت سے محسوسس کی گئی ے کہ تمام محکمہ جات ریاست کی موسمیاتی تبدیلی پالیسی 2017 کے مطابق اپنے تعین کردہ کردا ر کو ادا کر نے کے لیے واضح ایکشن پلان بنائیں ۔جس پر چلتے ہوئے ہم اپنا مستقبل موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفو ظ کر سکیں۔ دھیرکوٹ کی کمیونٹی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسلامک ریلیف کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس کی صورت میں اس پر کام کا آغاز کیا۔ اس حوالے سے ابھی تک ہونے والے تمام مشاورتی عمل ا ور تحقیق کی روشنی میں پورےضلع کے لیے دھیرکوٹ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انفرادی ا ور اجتما عی سطح پر شعور و آگاہی کے لیے وا ل چاکنگ ا ا وردیگر تشہیری اقدامات کیے جائیں۔

صفائی سے متعلقہ ادا روں کو شہروں ا ور قصبوں کی صفائی ا ور اس حوالے سے عوام سے مل کر کام کرنے کے لیے کمیٹیوں کی تشکیل کے بعد کام کرنے کی تاکید کی جائے۔تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ سب ڈویژنز میں پلاسٹک کے استعمال کے خاتمے کا مختصر اور طویل المدتی پلان بنایا جائے۔ محکمہ جنگلات، زراعت ،پبلک ہیلتھ ا نجنیرنگ ا ور میونسپل کارپوریشن ا ور ٹاون کمیٹیز کو ان کے تعین کردہ کردا ر کے لیے متحرک ہو نے کے اممات جاری کئے جائیں ۔

جنگلات میں لگی آ گ پر قابو پا نے کے لیے تحفظ جنگلات کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کیا جائے ا ور آ گ لگا نے کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی اقدامات ا ور ا ن کی تشہیر کی جائے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ ا نجنیرنگ اور میونسپل کارپوریشن کو پینے ا ورگھریلو استعمال کے پانی کے حوالے سے طویل المدتی حکمت عملی طے کر کے عوا م کے ساتھ مل جل کرعملدرآمد کے آغاز کی تاید کی جائے۔ ہمیں امید ے کہ ہماری ا ن گزا رشات کو سنجیدگی سے زیر غور لا کر اجتماعی مفاد کے لیے کام کا آغاز کیا جائے گا۔ ا ور اس سلسلے میں ٹاسک فورس کی تجاویز سے بہتر ا ور بڑھ کر اقدامات کی راہ ہموا ر کی جائے گی۔ جس کے ذریعے ہم نہ صرف قدرتی وسائل کو بہتر استعمال کر کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کر سکیں گے بلکہ وسائل کے ضیاع کے ذمہ دا روں کوکٹہرے میں لا سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں