باغ (سٹیٹ ویوز)تنظیم تاجران پونچھ ڈویژن کے صدر حافظ طارق محمود نے کہاہے کہ 5 فروری کو احتجاج کی کال دینے والوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، تاجر 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے، عوام میں غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، 1990ء سے قاضی حسین احمد مرحوم کی تحریک پر اس وقت کی پیپلزپارٹی کی حکومت نے اس دن کو یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ جس سے مقبوضہ کشمیر کے بے بس و مظلوم عوام کو حوصلہ ملتا ہے، کشمیریوں کی منزل آزادی ہے اور اس منزل کے حصول کیلئے کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، 5 فروری کا دن پورے ایمان اور یکسوئی سے منایا جائے گا۔ اس دن کومتنازعہ بنانا کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی ہوگی اور پوری دنیا میں اس کا غلط پیغام جائے گا۔
انہوں نے کہا تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی، وکلاء، صحافی ، ٹرانسپورٹرز اور تاجر مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اپنے ازلی دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں، ہمارا دشمن یہاں تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ تک ملوث ہوچکا ہے۔یوم یکجہتی کا یہ دن انتہائی اہمیت رکھتاہے، اس دن اندورن و بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا اس دن کو کوریج دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کے منافی فیصلہ دیکر نریندر مودی کے غیرقانونی، غیرانسانی اور غیراخلاقی اقدام کو دوام بخشا جو انصاف اور نام نہاد جمہوریت کے منہ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔ اس فیصلے سے مقبوضہ کشمیر کے عوام پر عرصہ حیات مزید تنگ کرہواہے۔
5 فروری کا دن ہم سے یہ تقاضا کرتاہے ہم اس دن مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اقوام عالم کو یہ پیغام دیں کے کشمیرکی آزادی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔بھارت زیادہ دیر تک اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتا اس کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے، کشمیر کی آزادی نوشتہ دیوار ہے اور منزل قریب ہے۔ انہوں نے کہاکہ 5 فروری کے بعد ہم عوامی مسائل کے حل ، بجلی آٹے، مہنگائی، ٹیکسز اور پراپرٹی ٹیکسز کے خلاف تاجر فورم سے تحریک جاری رکھیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ ہمارے بنیادی مسائل حل کرے۔ حکومت آزادکشمیر کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ رعایا کو ریلیف دے ان کے مسائل حل کرے، فری بجلی اور پروٹوکول کلچر ختم ہونا چاہیے۔