تاجرایسوسی ایشن دھیرکوٹ کا 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منانے کا اعلان

36

تاجرایسوسی ایشن دھیرکوٹ کے صدر راجہ عطاء محمد خان، چئیرمین مجلس عاملہ راجہ زاہد خان، سیکرٹری جنرل اسد عبداللہ، واصد عباسی، سردار یونس، ماجد ریاض،ہارون الرشید، راجہ طالب حسین ، خورشیداحمد،سردار راشد، اور دیگر نے کہاہے ہم 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منائیں گے، 5 فروری کو احتجاج کی کال دینے والے صرف ہلے گلے کے شوقین ہیں اور ان کا کوئی عوامی ایجنڈا نہیں، 9 ماہ سے جاری تحریک کی سمت کا تعین تک نہیں ہوسکا اور اس وقت تک کوئی ایک مسئلہ حل نہ ہونا تحریک کی منزل کا پتہ دے رہاہے، 5 فروری کے بعد آزادکشمیر بھر میں تاجر جوائنٹ فورم سے مسائل کے حل کیلئے حکمت عملی بنائی جائے گی ، انہوں نے کہاکہ دھیرکوٹ شہداء کی سرزمین ہے، یہاں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یکجہتی کاپیغام پہنچنا اپنی ہی اہمیت رکھتاہے، انہوں نے کہاکہ سوسائٹی کے ذمہ داران، سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جس طرح 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر بنانے کا اعلان کیا اور وہ لائق تحسین ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں عوام کی زندگیاں سسک رہی ہیں، مائیں اور بہنیں اپنے جوانوں کے لاشے اٹھارہی ہیں اور یہاں پر 5 فروری کو تماشا لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں، ان کو آزادی کی قدروقیمت کا پتہ ہی نہیں،تاجر 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے تاکہ مقبوضہ کشمیر کے بے بس و مظلوم عوام کو حوصلہ ملتا رہے، کشمیریوں کی منزل آزادی ہے اور اس منزل کے حصول کیلئے کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔5 فروری کو متنازعہ بنانے والے کشمیریوں کے ساتھ بے وفائی کے مرتکب ہورہے ہیں اور پوری دنیا میں کشمیرکے مقدمہ کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی، وکلاء، صحافی ، ٹرانسپورٹرز اور تاجر مثالی یکجہتی کا مظاہرہ کرکے اپنے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیں، ہمارا دشمن یہاں تخریب کاری اور ٹارگٹ کلنگ تک ملوث ہوچکا ہے۔یوم یکجہتی کا یہ دن انتہائی اہمیت رکھتاہے، اس دن اندورن و بیرون ملک بسنے والے پاکستانی اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا اس دن کو کوریج دیتاہے۔ انہوں نے کہاکہ 5 فروری کے بعد ہم عوامی مسائل کے حل ، بجلی آٹے، مہنگائی، ٹیکسز اور پراپرٹی ٹیکسز کے خلاف تاجر فورم سے تحریک جاری رکھیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ وہ ہمارے بنیادی مسائل حل کرے۔ حکومت آزادکشمیر کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ رعایا کو ریلیف دے ان کے مسائل حل کرے، فری بجلی اور پروٹوکول کلچر ختم ہونا چاہیے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں