تراڑکھل (عبید سدوزئی سے)تراڑکھل کی تاریخ میں پہلی بار یوم یکجہتی کشمیر شایانِ شان منایا گیا .یکجہتی کشمیر کی پروقار تقریب انتظامی آفیسران بلدیاتی نمائندگان سمیت شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت .تراڑکھل میں 5فروری یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر تاریخی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت
شہر میں پہلی بار 5فروری یومِ یکجہتی کشمیر کا دن اتنے پروقار انداز میں منایا گیا۔

عوامِ علاقہ بڑی ریلی کی شکل میں شہر سے گزرتے ہوئے مشرقی چوک میں جمع ہوئے ۔تراڑکھل شہر کی تاریخ میں کبھی اس انداز سے یکجہتی پروگرام نہیں منایا گیا۔اسے کامیاب بنانے میں اسسٹنٹ کمشنر سردار عبدالقادر کی کمر توڑ محنت شامل تھی۔

ایک ہفتہ سے مسلسل میٹنگز اور مختلف ایونٹس سے عوام میں شعوری بیداری مہم جاری رکھی. جس کے نتیجہ میں بہترین پروگرام انعقاد کیا گیا۔اس سلسلہ میں ٹاؤن چیئرمین سردار ابرار حفیظ ،چیئرمین زکوة اسد عبداللّٰہ، ڈسٹرکٹ کونسلر خورشید ضیاء، چیئرمن یو سی ماجد نوابی ،نوجوان کارکن ماجد سردار اور دیگر بلدیاتی نمائندگان اور سیاسی سماجی کارکنان نے اہم کردار ادا کیا۔

ا

س پروگرام میں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے 5فروری یکجہتی کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔سردار عظیم خان نے کہا کہ اس دن کو عوامی حقوق کا نام دے کر آزادی کی قیمت کو کو آٹے اور چاول کے برابر نا لایا جائے۔یہ دن مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں سے یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس موقع پر اسد عبداللّٰہ نے غزل کے چند اشعار سے اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ ماجد نوابی تقریر کے دوران سیخ پا ہو گئے اور دوٹوک انداز میں کہا کہ چند لوگ بلدیاتی الیکشن میں بی۔ڈی ممبر کے الیکشن ہار کر ایکشن کمیٹی کی سربراہی چاہتے ہیں.
ایسی ایکشن کمیٹیوں کو مسترد کریں گے .جہاں عوام کا مینڈیٹ شامل نہ ہو۔اس تقریب کی صدارت سردار ابرار حفیظ نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی اے۔سی تراڑکھل سردار عبدالقادر رہے۔سردار عبدالقادر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آج کی تحریک اور اجلاس کا مہمان خصوصی نہیں ہوں بلکہ ہر وہ غریب محنت کش اور باشعور کشمیری شہری ہے جو بنا کسی مطلب کے آج یہاں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آیا ہے .

اس موقع پر انھوں نے سب کا شکریہ ادا کیا۔اختتام پر رائے ابرار حفیظ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں عوامی حقوق کی تحریک میں فرنٹ لائن پر رہا۔پہلے دن سے عوامی حقوق کی تحریک کا مرکزی ممبر رہا۔جب عوامی حقوق کی بات آئی تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں عوام کے ساتھ بیٹھوں گا. میاں عوامی نمائندہ ہوں اگرانھین عوامی حقوق کے لیے اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تو وہ دینے کے لیے تیار ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس عوامی تحریک کے پس پردہ ایک پروپگنڈا چلایا جا رہا ہے۔جو انھیں اس وقت معلوم ہوا جب عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے اجلاس میں بتایا کہ پانچ فروری کے موقع پر احتجاج کریں گے پہیاجام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے۔انھوں نے اس دن سے اس بات کی مذمت کی اور ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔

پھر انھیں سہولت کار اور غدار کہنا شروع کر دیا گیا۔وہ آج آپ سب کی موجودگی میں بتانا چاہتا ہوں کہ اگر کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرنے سے انھیں سہولت کار یا غدار کہا جاتا ہے تو ہاں میں سہولت کار ہوں۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔سات آٹھ مہینے کی تحریک اسی بات پر چلا رہے تھے کہ ہمیں فری بجلی چاہیے ۔لیکن کل رات جب ایکشن کمیٹی نے مذاکرات کیے اور ایک نوٹیفکیشن لیا جس میں بجلی بلات کے بارے میں کوئی بات ڈسکس ہی نہیں کی گئی۔

یعنی جو تحریک سات ماہ سے بجلی بلات کے بارے میں چل رہی تھی نوٹیفکیشن میں اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ۔عام لوگ سہولت کار نہیں ہیں۔بلکہ کل رات کمیٹی نے جو مذاکرات کیے ہیں سب سے بڑی سہولت کاری انہوں نے کی ہے۔ہم فری بجلی اور آٹے کی سبسڈی کی بات کرتے تھے .انہوں نے جا کر پرانی سبسڈی بھی ختم کروا دی۔معلوم ہوا کہ سہولت کار اصل وہ لوگ ہیں جو عوام میں اشتعال پیدا کرتے ہیں اور پس پردہ اپنے مفادات حل کرتے ہیں۔پروگرام کے اختتام پر قاری رفاقت نے دعا سے تقریب کااختتام کیا۔