راولپنڈ ی (سید عامر گردیزی ،سٹیٹ ویوز)مسلم کانفرنس اور ن لیگ کے انتخابی اتحاد کے بعد مسلم کانفرنسی کارکنا ن ن لیگ کے امیدواروںکی جیت کے لیے دن رات ایک کرنے لگے .اسی سلسلسے میںقائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی ہدایت اور ان کی ہی زیر صدارت این اے 56سے ن لیگی امیدوار حنیف عباسی اور پی پی 16 سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ضیاءاللہ شاہ کے اعزاز میںکارنر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا .جو بعد میں جلسے کی شکل اختیار کر گئی .

ا س کارنر میٹنگ کا انعقاد سردار زکریا عباسی سیکرٹری انویسمنٹ بورڈ حلقہ غربی باغ اورسردار محمد داؤد خان ممبر مرکزی مجلس عاملہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے کیا تھا .اس انتخابی کارنر میٹنگ میں ن لیگی امیدواران سمیت قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان اور مسلم کانفرنس کے سینئر رہنماؤںجن میںراجہ ثاقب مجید،میجر نصر اللہ ،عاصم عباسی صدر مسلم کانفرنس اسلام آباد،سردار رشیدممبر مجلس عاملہ ،سردار عرفان صدر مسلم کانفرنس غربی باغ ،سردار افتخار صدر مسلم کانفرنس قطر ،ساجد قریشی مری ،راجہ شاید چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ،سردار عابد رزاق ،سردر منظور ،ڈاکٹر عابد عباسی ،سردار عبدالستار عباسی ،راجہ شفیق الرحمن عباسی ،اسرار عباسی نے خصوصی شرکت کی .

قائدین کی پنڈال آمد پر مسلم کانفرنسی کارکنان نے قائدئن کا استقبال ڈھول کی تھاپ اور گھوڑوں کے رقص سے کیا.اس موقع پر سردار عتیق احمد خان سمیت مسلم کانفرنس کے دیگر سینئر رہنماؤں رہنماؤں نے اپنے خطاب میںکہا کہ مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس یک جان و قالب ہیں .ایک لمبے عرصے تک مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ ن ساتھ چلتے رہے .بلکہ آزادکشمیر میں مسلم لیگ کا متبادل مسلم کانفرنس تھی .کچھ عرصہ سے ان دونوںجماعتوں کے درمیان دوری تھی جسے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے .

اب راولپنڈی سمیت پورے پاکستان میں مسلم کانفرنسی کارکنان ن لیگ کے ساتھ سییسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیںاور 8 فروری کو مسلم کانفرنس اور کانفرنسی کارکنان کی محنت ن لیگی امیدواروںکی جیت کی صورت میںسامنے آئے گی .مسلم کانفرنس کا اتحاد ہمیشہ سے ن لیگ کیساتھ رہا ہے.مسلم کانفرنس پاکستان میںن لیگ اور ن لیگ آزادکشمیر میںمسلم کانفرنس کا ساتھ دیا کرتی تھی .لیکن آزادکشمیر میں ن لیگ کے قیام کے بعد حالات تبدیل ہو گئے تھے .جس کے بعد مسلم کانفرنس اور پی ٹی آئی کا اتحاد ہوا تھا.جس پر کارکنان خوش بھی نہیں تھے لیکن اب ن لیگ اور مسلم کانفرنس کے اتحاد سے کارکنان میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے.

قائدین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میںجو بھی ترقی ہوئی اس کا سہرا نواز شریف کے سر جاتا ہے .اب جب ملک مشکلات سے دوچار ہے تو نواز شریف کابڑا پن ہیکہ کہ وہ ملک واپس آئے اور ہر طرف پھیلی ہوئی مایوسی اور غربت کے خاتمے کے لیے نئے عزم کیساتھ میدان میںاترے ہیں.انشااللہ 8 فروری نواز شریف کی جیت کا دن ہوگا اور یہ جیت پاکستان کی جیت ہوگی.مسلم کانفرنسی رہنماؤںنے نواز شریف کی کشمیر کےحوالے سےقربانیوںکا بھی خصوصی ذکر کیا .ان کا کہنا تھا کہ اگر نواز شریف کو 2018 میں گھر نہ بھیجا جاتا تو آج پاکستان کو آزادکشمیر سے ملانے والی سڑکیں موٹر ویز کا روپ دھار چکی ہوتیں.ٹرین سروس مظفرآباد تک روان دواںہوتی .مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا یا حل ہونے کے قریب ہوتا.

پروگرام کے آخر میں این اے 56 سے قومی اسمبلی کے امیدوار حنیف عباسی اور پی پی 16 سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ضٰیاء اللہ شاہ نے قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان ،سردار داؤد خا ن ،سردار زکریا عباسی اور دیگر مسلم کانفرنسی قیادت و کارکنان کا کامیاب انتخابی پروگرام کروانے شکریہ ادا کیا.ن لیگی امیدواران کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میںمقیم کشمیری کیمیونٹی کا ووٹ اہمیت کا حامل ہے .جس طرف بھی کشمیری کمیونٹی کھڑی ہوگی جیت اسی امیدوار کی ہوگی .حینف عباسی کا کہنا تھا کہ ان کی اتنخابی مہم میںیہ کارنر میٹنگ جسے وہ کارنر میٹنگ کے بجائے جلسہ کہیںگے سب سے بہترین رہی .جہاں عوام کا جم غفیر امڈ آیا ہے.

آج کے اس کامیاب جلسے سے یہ فیصلہ ہو گیا ہیکہ کشمیری کمیونٹی نے ن لیگی امیدواروںکو کامیاب کروانے کا تہیہ کر لیا ہے.ن لیگی امیدواروںکا مزید کہناتھا کہ وہ جیت کے بعد دوبارہ قائد مسلم کانفرنس اور کشمیری کمیونٹی کے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے آئیںگے .کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور آج کے انتخابی جلسے نے ایک طرف مسلم کانفرنس اور ن لیگ کے مضبوط اور نظریاتی تعلق کو ثابت کیا. وہیںپر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی میںن لیگ اور مسلم کانفرنس کے مضبوط سیاسی اتحاد کا راستہ کھل گیا ہے.ن لیگی امیدواروں کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی میںمقیم کشمیری کمیونٹی کے لیے ان کے دروازے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں .وہ الیکشن جیتیںیا ہاریںکشمیری کمیونٹی کی ہر مشکل میں وہ ان کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑے رہینگے.
