منتخب ممبران کشمیر کونسل کا وزیر اعظم کے اقدامات پر عدم اعتماد ،وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

52

اسلام آباد (کاشف میر ، سٹیٹ ویوز)وزیراعظم چوہدری انوار الحق منتخب ممبران کونسل کو آزاد جموں و کشمیر کونسل بارے کئے گئے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات پر مطمئن نہ کر سکے ،ممبران نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے پی ٹی اے کے 8ارب وصول کرنے کیلے یہ سب غیر قانونی کام کیے لیکن وہ بھی ابھی تک وصول نہیں ہو سکے ہیں۔

ممبران نے ملاقات میں کہا کہ کونسل اجلاس میں منظوری کے بغیرسیکرٹری امور کشمیر سے کرائے گئے نوٹیفیکیشن غیر قانونی ہیں ، نہ ہی نگران حکومت کو یہ مینڈیٹ حاصل ہے ، تیرہویں ترمیم میں ڈیپوٹیشن اور کنٹیجنٹ ملازمین کی فراغت کے واضح قانون کے باوجود ان غیر ریاستی ملازمین کو آزاد حکومت کے سروس سٹرکچر میں شامل کیا گیا۔جو کہ سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے ، 14 گریڈ کے ایک کنڑیکٹ ملازم کو 17 گریڈ میں ڈیپوٹیشن پر لا کر اہم عہدے ، آزاد حکومت کی طرف سے مراعات اور گاڑیاں دی گئیں.

ممبران نے اس خدشہ کا بھی اظہار کیا کہ آنے والا وزیر امور کشمیر جلد بازی میں کئے گئے ان غیر آئینی اقدامات کو منسوخ کر دے گا۔جس سے آزاد حکومت کی سبکی ہو گی . اس لئے باقاعدہ اجلاس میں ممبران کی اکثریت رائے سے منظوری لی جانی ضروری ہے . ممبران کشمیر کونسل کا 80 کھرب کی کشمیر پراپرٹی کے بدلے وفاقی حکومت سے محض چند کمروں کے سودے پر وزیراعظم آزاد کشمیر سے اظہار ناراضگی .

پاکستان میں موجود کھربوں روپے کی کشمیر پراپرٹی اونے پونے داموں کرایہ پر دی گئی ہے یا سستے داموں بیچی جا رہی ہے ، محض چند کمروں کے لئے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کی بجائے آنے والی نئی حکومت سے پاکستان میں موجود 80 کھرب سے زائد کی کشمیر پراپرٹی کی وزارت امور کشمیر سے آزاد جموں و کشمیر کونسل واپسی کے لئے اپنا آئینی اور قانونی کردار ادا کریں گے۔ممبران کا موقف اختیار کیا کہ آزادحکومت یا عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا لیکن ہمارے کھربوں کے اثاثے بھی چلے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں