دھروتی، نکیال ( سٹیٹ ویوز) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے زونل صدر ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا ہے کہ سیز فائر لائن پر بسنے والے عوام ریاست کی تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تاریخی المیے اور فوجی جبر کو مسلسل جھیل رہے ہیں۔وہ نکیال سیکٹر میں سیز فائر لائن پر واقع قصبے دھروتی میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی جانب سے منعقدہ پبلک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ ریاست کی جبری بندر بانٹ نے ہزاروں خاندانوں کو نہ صرف تقسیم کیا بلکہ انہیں چار خونی ہجرتوں پر مجبور کیا اور ریاست کے سماجی تانے بانے کو بری طرح متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ 47ء میں ایک آزاد ریاست پر شب خون مارا گیا اور مختلف مذاہب کے ریاستی باشندوں کو ایکدوسرے کے قتل عام پر اُبھارا گیا .جس سے ریاست نہ صرف غلام ہوئی بلکہ بری طرح تقسیم بھی ہو گئی اور ہزاروں سالوں سے آپس میں امن اور بھائی چارے سے رہنے والے لوگ ایکدوسرے کے قتل پر آمادہ ہوگے۔ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ آزاد کشمیر نامی خطے میں روایتی سیاستدانوں نے پاکستان کی غلامی کو نعمت قرار دیا اور قابض اشرافیہ کے ساتھ ملکرقبضے اور لوٹ مار کی سہولت کاری شروع کر دی جسکا نتیجہ مستقل اور مسلسل غلامی، تقسیم، غربت اور پسماندگی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج عوام آٹے اور بنیادی ضروریات زندگی کیلئے خوار ہو رہے ہیں، انفرا سٹرکچر پسماندہ اور تباہ حال ہے، ہر شعبہ زندگی میں رشوت، کام چوری اور سفارش معمول ہے جبکہ سیاست کے نام پر صرف اور صرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ کی دلالی جاری ہے۔ڈاکٹر توقیر گیلانی نے کہا کہ نکیال تحصیل سے دوبار صدر اور وزیر اعظم منتخب ہونے کے باوجود تحصیل کی پسماندگی اور بنیادی سہولیات کا فقدان اس بات کا اظہار ہے کہ ان سیاستدانوں نے اپنی جائیدادیں بنانے، سرکاری زمینوں اور جنگلات پر قبضہ کرنے اور عوامی فنڈز ہڑپ کرنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ موہڑہ دھروتی سیز فائر لائن پر واقع انتہائی خوب صورت علاقہ ہے اور نکیال سے لیکر موہڑہ دھروتی ہزاروں کی آبادی کیلئے مناسب اور پختہ سڑک تک موجود نہیں نہ ہی کوئی صحت کی سہولت ہے، سرکاری سکول تباہ حال ہیں اور حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع صفر ہیں، ستم تو یہ ہے کہ موہڑہ بازار تک میں سڑک، نالی اور صفائی نام کی کوئی سرکاری سہولت موجود نہیں لیکن سیاسی کھڑپینچ اور قابض فوج کے سہولت کار عوام کی جیبیں خالی کرنے میں مصروف ہیں اور انہیں قومی شعور دینے کے بجائے ذہنی طور پر معذور بنا رہے ہیں۔
ڈاکٹر توقیر گیلانی نے نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ اپنے والدین اور عزیز و اقارب کی قربانیوں کو یاد کریں اور مسلسل 76سال سے روا ظلم و ستم اور استحصال کے خلاف آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ برادریوں، فرقوں اور علاقوں کی تقسیم نے عوام کو ہمیشہ کمزور کیا اور لٹیروں کو طاقت فراہم کی اس لیے محکوم، مظلوم اور ستم رسیدہ عوام برادری اور قبیلوں کی نفرت انگیز اور عوام دشمن سیاست کو ترک کر کے قومی آزادی اور شناخت کی بحالی کی جدوجہد میں لبریشن فرنٹ کا ساتھ دیں تا کہ لگ بھگ ایک صدی پر پھیلی ہوئی قبضے کی نحوست اور بربریت کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر توقیر گیلانی نے واضح کیا کہ ریاست کے عوام اپنے جائز، قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ آزادی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہ جدوجہد ریاست سے تمام قابض غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء، ریاست کی جبری پامال کی گئی وحدت کی بحالی اور مکمل آزادی تک ہر حال میں جاری رہے گی۔پبلک میٹنگ سے خطاب میں لبریشن فرنٹ ضلع کوٹلی کے راہنما اعزاز گیلانی اور مقامی صحاٖفی ہارون الرشید شمسی نے کہا کہ علاقے کے عوام بنیادی حقوق کے لیے جاری تحریک کا ساتھ پوری طرح کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 11مئی کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر مظفر آباد اسمبلی کی طرف عوامی مارچ حکمرانوں اور لٹیروں کے عوام دشمن منصوبے خاک میں ملائے گا۔دریں اثنا زونل صدر لبریشن فرنٹ نے سیز فائر لائن پر متعدد جگہوں پر عوام سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قومی آزادی کی جدوجہد کی اہمیت اور موجودہ سورتحال میں انکی قومی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ زونل صدر نے دھروتی میں تھکیال قبیلے کے جدِ امجد بابا رسمی خان اور مولانا نورمحمد خان کے مزاروں پر بھی حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔