مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)انوارحکومت کی شاہ خرچیاں عروج پر،سپیکر،وزراء،مشیران کی گاڑیوں پر سالانہ کروڑوں روپے مینٹیننس کی مد میں اخراجات ماضی کاریکارڈ توڑ دیا۔سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبرکی ایکسی ڈینٹ ہونے والی گاڑی پراخراجات کاتخمینہ 2کروڑ روپے لگادیاگیا۔ پاکستان کے معروف انگیزی اخباری میں اشتہار شائع۔بین الاقوامی شہرت کے حامل کمپنیوں کو گاڑی کی مرمتی کی پیشکش کی گئی ہے جبکہ دو ماہ قبل وزیرحکومت سردار فہیم اختر ربانی کی گاڑی سے ایک نوجوان بائیکر کوٹکر لگی تھی جس کے نتیجے میں نوجواں جاں بحق ہوا تھا گاڑی کی مرمتی پر65لاکھ اخراجات عمل میں لائے گئے جبکہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر بازل نقوی نے بھی دوماہ قبل وزیراعظم سے اپنی گاڑی کی مرمتی کیلیئے75لاکھ روپے طلب کیے تھے .
لیٹر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد بازل نقوی نے گاڑی مرمتی کافیصلہ واپس لے لیا تاہم مصدقہ معلومات کے مطابق صدر جون 2023-مارچ 2023کے دوران آزادکشمیر حکومت کے وزراء،مشیران،سپیکر اور وزیراعظم سیکرٹریٹ اور سیکرٹریز کی گاڑیوں پرپونے پانچ کروڑ کے اخراجات عمل میں لائے گئے ہیں۔جو کہ ماضی کے مقابلے میں کئی گنازیادہ ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم انوارالحق ہمیشہ کفایت شعاری کا راگ الاپتے رہتے ہیں مگرعملا ًآزادکشمیر میں اس وقت سب سے زیادہ ٹرانسپورٹ پالیسی کیخلاف کام ہورہا ہے وزراء کے بیٹے،چہیتے پیرچناسی،تولی پیر اور بنجوسہ،کیرن،ناران،کاغان،مری سمیت کئی علاقوں میں سیرسپاٹوں میں مصروف ہیں اور سرکاری گاڑیوں کی نمبر پلیٹ تبدیل کر کے اس کا بے دریغ استعمال کیاجارہا ہے۔
کئی وزراء کے بیٹوں اور چہتوں نے گاڑیاں انتہائی رف چلانے کی وجہ سے تباہ کردی ہیں جن پر سال کے اختتام پر مزید پانچ سے آٹھ کروڑ کے اخراجات کاتخمینہ لگایاجارہا ہے جبکہ دفاتر میں اے سی کی بندش کا اعلان بھی ماضی میں جعلی ثابت ہوچکا ہے تمام دفاتر میں اس وقت مکمل انٹورٹر اے سی چلائے جارہے ہیں۔حکومت ایک طرف کفایت شعاری کانعرہ لگارہی ہے دوسری جانب کروڑوں روپے کے فضولی اخراجات پرقومی خزانہ کو بھاری نقصان پہنچایاجارہا ہے۔