مظفرآباد:چیف جسٹس کی مدت ملازمت بارے مجوزہ آئینی ترمیم پر شدید ردعمل آئے گا۔راجہ سجاد ایڈووکیٹ

41

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ سجاد احمد خان ایڈووکیٹ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی مدت ملازمت اور سپریم جوڈیشل کونسل کی ہیت تبدیل کرنے کے حوالے سے آئینی ترامیم کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہیکہ وزیر اعظم انوارالحق اب فاروق حیدر بننے کی کوشش نہ کریں.اس وقت کے حالات اور تھے آج کے حالات یکسر مختلف ہیں‌.ذاتی عناد کی بنیاد پر ایک شخس کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی ترمیم کسی بھی طور پر ریاست و عوام کے مفاد میں نہیں بلکہ بدنیتی پر مبنی ہوگی.وزیر اعظم کے بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر ان کے ارد گرد جمع ہونے والے قانونی مشیر اپنی ذاتی مفاد کی خاطر انہیں اپنے معاملات میں الجھا رہے ہیں‌ جس سے وزیر اعظم یا ریاست کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا.

راجہ سجاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو عہدے سے ہٹانا اور سیکرٹری لاء کی تعیناتی سے یہ بات واضح ہیکہ وزیر اعظم اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے ہر عہدے پر اپنی مرضی اور اپنی چاپلوسی اور خوشامد کرنے والے شخص کو تعینات کر کے اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں .راجہ سجاد نے کہا کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت میں‌توسیع پر غور کرکر رہی ہے جبکہ آزاد حکومت چیف جسٹس کی مدت ملازمت کم کرنے کا فیصلہ کر چکی جو قابل مذمت ہے .وزیر اعظم کے ان اقدامات کیخلاف آزادکشمیر بھر میں شدید ردعمل ہو گا جس سے آزاد کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ متنازعہ ہو گی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آزادکشمیر میں شدید ردعمل ہوگاجسکا نتیجہ یہ ہو گا کہ آزادکشمیر میں‌ سپریم کورٹ‌ اور ہائی کورٹ‌ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی.

آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع کو پنجاب ،اسلام آباد اور کے پی کے کی ہائی کورٹ سے منسلک کر دیا جائے گا اور سپریم کورٹ‌ پاکستان میں‌ وکلاء ہائی کورٹ‌ کے فیصلہ کیخلاف اپیل کریں‌گے۔صدر سپریم کورٹ بار نے اس حوالے سے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم دراصل آزادکشمیر کے بچے کھچے آئینی ڈھانچے کو ختم کرنی کی سازش ہے .جس کیخلاف بھرپور ردعل دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں