معروف صحافیوں‌کی ممکنہ گرفتاری ،ن لیگی رہنماء نے انوارالحق حکومت کو آئینہ دکھا دیا

34

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) مسلم لیگ ن ازادکشمیر کے مرکزی راہنما وائس چیئرمین فرینڈز گروپ سردار توصیف عزیز نے کہا کہ انوار الحق صاحب کی حکومت تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے، وزیر اعظم آزاد کشمیر صرف فوٹو سیشن اور اخباری بیانات تک ہی اربوں روپے کے ترقیاتی پیکجز کا اعلان کر رہے ہیں ، آزاد کشمیر کے سنئر صحافیوں کو تنقید کرنے پر مقدمات قائم کرنے کی دھونس دھمکیاں قابل مزمت ہیں. وزیراعظم آزاد کشمیر آزادی صحافت کو فسطائیت کے زریعے دبانے کی مذموم کوشش سے آزادکشمیر میں انارکی کی فضا میں اضافہ ہو سکتا ہے. انوار الحق صاحب نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے وزرا. مشیران کی پوری بٹالین بھرتی کر رکھی ہے لیکن یہ انکی خوش فہمی ہے کہ چند وزرا کو اچھے محکمہ جات دے کر وہ وزارت عظمیٰ بچالیں گے.

یہ وہی وزرا ہیں جو سردار عبدالقیوم نیازی اور سردار تنویر الیاس سے مفادات سمیٹ کر انہیں بند گلی میں اکیلا چھوڑ گئے، آزادکشمیر کے وزرا کڑوروں روپے کی گاڑیاں اور سرکاری پٹرول ڈیزل. مراعات سمیٹ رہے ہیں توصیف عزیز نے کہا کہ 40 کے قریب فلیگ ہولڈر قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں ، ازادکشمیر کے مختلف علاقوں میں ہوائی اعلانات کے علاؤہ ابھی تک کچھ بھی نہ کر سکے ،حلقہ تھوراڑ، پاچھیوٹ اور دیگر تمام یونین کونسلوں میں پرانی منظور شدہ روڈز پر کام ٹھپ ہوچکا ہے، بجلی بلات پر لگے اضافی ٹیکسیوں کے حوالہ سے ایکشن کمیٹی ایک سال سے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن حکمران ٹولے نے بے حسی کی انتہا کردی ہے،سول سوسائٹی کے مطالبات میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے.

غریب عوام آٹے کے ایک تھیلے کے لئے ڈیلروں کے پیچھے مارے مارے پھر رہے ہیں ، لیکن وزیراعظم آزاد کشمیر اور اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ووٹ کی زریعے یہاں تک پہنچے لیکن وہ عوام کو کوئی سہولیات نہی دے سکے، آئندہ یہ لوگ کس منہ سےعوام کے پاس ووٹ مانگنے جائیں گے ، پونچھ کی سڑکیں آثار قدیمہ کا منظر پیش کررہی ہیں لنک روڈز لوگ اپنی مدد آپ کے تحت بنا رہے. منگ تا نواب جسی بازار تھوراڑ روڈ پر ایک سال سے کام بند ہے، فیز12، 13،14 کی سڑکوں پر کام بند ہو چکا ہے، ٹھیکیداران کو فنڈز کی عدم ادائیگی سے منصوبہ جات بند پڑے ہیں. تعمیر ترقی کے ہوائی اعلانات کئے جا رہے ہیں، صحت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے ،ازادکشمیر کے تمام اضلاع اور راولاکوٹ ہسپتالوں میں مریضوں کو بنیادی سہولیات میسر نہی ہیں ، سکولوں کالجوں میں اساتذہ کی کمی ہر ایک سکول میں پائی جاتی ہے ، کشمیریوں کے ساتھ اصل نا انصافی یہ روایتی حکمران کر رہے ہیں جن کو صرف پروٹوکول. ہوٹر اور زاتی فوائد سمیٹنے کے علاوہ کوئی پروگرام نہیں ہے ، اگر عوامی مسائل فوری حل نہ کئے گئے تو ہم عوامی مسائل کے حل کیلئے راست اقدام پر مجبور ہوجاتے گی نا اہل حکمران ہوش کے ناخن لیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں