اے کے این ایس نے حکومتی انتقامی کاروائیوں پر دو ٹوک موقف اختیار کرلیا

37

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے کے این ایس) نے آزاد کشمیر کے سینئر صحافیوں کیخلاف حکومت کی مبینہ انتقامی کارروائیوں پر مبنی پالیسی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود حکومت نے صحافیوں کیخلاف مجوزہ انتقامی کارروائیوں کی خبروں کی کوئی وضاحت نہیں کی جو اے کے این ایس کی تشویش میں اضافے کا باعث ہے۔

اس صورتحال پر اے کے این ایس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر کسی صحافی یا میڈیا ہائوس کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس کی سخت مذمت کی جائے گی۔ حکومت کو اگر کوئی شکایات ہیں تو اے کے این ایس کا فورم موجود ہے،اس سلسلہ میں وزیراعظم کی تجویز پر ہی شکایات سننے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔

حکومت کو اگر کسی صحافی یا میڈیا ہاوس کیخلاف کوئی شکایت ہے تو کمیٹی کے پاس بھیجے تاکہ اس شکایت کا جائزہ لیا جا سکے لیکن آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اے کے این ایس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ روز اے کے این ایس کا ایک مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

مشاورتی اجلاس میںصدر اے کے این ایس امجد چوہدری سابق صدور زاہد تبسم،عامر محبوب کے علاوہ سید محمد اکرم شاہ ،سردار حمید ، چوہدری جاوید اقبال ، نثار کیانی ، اعجاز خان ، خالد گردیزی ، کاشف میر ،نقاش عباسی ،زاہد بشیر ،کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر خاور نواز راجہ ،جوائنٹ سیکرٹری عابد ہاشمی ،علی حسنین نقوی ،طلحہ جاوید ،ضمیر خان و دیگر نے شرکت کی،

اجلاس میں چیف ایڈیٹر روزنامہ جموں و کشمیر عامر محبوب، گروپ ایڈیٹر راجہ کفیل ، ایڈیٹر شہزاد راٹھور اور سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر خالد گردیزی اور منیجنگ ایڈیٹر کاشف میر نے حکومت کی طرف سے صحافیوں کیخلاف مجوزہ انتقامی کارروائی کے حوالے سے اجلاس کو بریف کیا اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں صدر اے کے این ایس امجد چوہدری نے موجودہ صورتحال پر آزاد کشمیر بھر میں اے کے این ایس کے ممبران سے ٹیلی فون پر مشاورت بھی کی۔جاری کردہ بیان کے مطابق اے کے این ایس آزاد کشمیر کے سینئر صحافیوں اور میڈیا ہائوسز کے خلاف مجوزہ انتقامی کارروائیوں پر مبنی حکومتی پالیسی پر سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے۔

اے کے این ایس نے حکومت اور صحافیوں کے درمیان معاملات کو بہتر طریقے سے چلانے کیلئے وزیراعظم کی تجویز پر ایک کمیٹی بھی قائم کر رکھی ہے اگر حکومت کو کسی صحافی یا میڈیا ہائوس کے خلاف کوئی شکایت ہے تو مذکورہ کمیٹی سے رجوع کر سکتی ہے۔

آزاد کشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے اور کشمیری اخبارات تحریک آزادی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اور تمام اخبارات کے ڈیجیٹل ایڈیشن بھی ہیں، کشمیری اخبارات کے آن لائن ایڈیشن دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں ، کشمیری ڈائس پورہ کو آپس میں جوڑے ہوئے ہیں۔

اے کے این ایس پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا میں اصلاحات اور شفافیت کی حامی ہے لیکن حکومت کی طرف سے پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے قائم کی گئی کمیٹی جس میں میڈیا کے سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی نہ ہو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا،تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ایسی کسی بھی کمیٹی کے قیام سے قبل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے بصورت دیگر یک طرفہ کمیٹی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

آزاد کشمیر کے تمام صحافی، اخبارات مالکان آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ حکومت کی طرف سے کسی بھی صحافی یا میڈیا ہائوس کے خلاف انتقامی یا غیر قانونی کارروائی کی گئی تو اسے پوری تنظیم کیخلاف کارروائی تصور کیا جائے گا اور اس کی نہ صرف مذمت اور بھرپور مزاحمت کی جائے گی بلکہ تحریک بھی چلائی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں